ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

مولانا محمد ادریس کاندھلوی سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 207 حاشیہ پر فرماتے ہیں، اہلِ سنت میں ان کے کفر کے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ روافض ابوطالب کے ایمان کے قائل ہیں۔ اہلِ سنت کے مختصر دلائل یہ ہیں:

1: مسند احمد، بخاری، مسلم اور نسائی میں ہے کہ جب آپﷺ‏ نے ابو طالب کے سامنے مرتے وقت کلمہ پیش کیا کہ ایک مرتبہ پڑھ لو تاکہ تمہاری سفارش کر سکوں، اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا، کیا تم عبدالمطلب کی ملت کو چھوڑتے ہو؟ تو ابو طالب نے لا اله الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا اور آخری کلمہ علی ملة عبد المطلب کہا۔ بعض روایات میں ہے کہ یوں کہا کہ میں نے آگ کو کلمہ پڑھنے کی شرمندگی پر (رؤسا کے سامنے) ترجیح دی۔ پھر حضورﷺ تو کمالِ شفقت سے استغفار کرنے لگے مگر یہ آیت نازل ہونے پر چھوڑ دیا۔

 مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى (سورۃ التوبة: آیت 113)

ترجمہ: نبی کریمﷺ اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ ان کے رشتہ دار بھی ہوں۔

اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: 

اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ (سورۃ القصص: آیت 56) 

ترجمہ: آپﷺ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

 2: شیعہ تفسیر البرہان: جلد، 3 صفحہ، 21 میں ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں اتری۔

3: اور ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 469 حاشیہ آیتِ بالا میں تفسیر قمی کے حوالے سے مذکور ہے: 

کہ یہ آیت حضرت ابوطالب عمِ رسولِ خداﷺ کی شان میں نازل ہوئی۔ آنحضرتﷺ ان سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ چچا جان لا اله الا اللہ کہہ دیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کو نفع پہنچاؤں گا اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ پیارے بھتیجے میں اپنی ذاتی حالت سے خوب واقف ہوں۔ 

4: اہلِ سنت کی فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 148 پر حضرت علی المرتضیٰؓ سے مروی ہے کہ جب ابو طالب مر گئے تو میں نے رسول اللہﷺ‏ سے عرض کیا کہ آپﷺ کا گمراہ چچا مر گیا آپﷺ‏ نے فرمایا: جاؤ دفن کر آؤ۔ میں نے عرض کی وہ تو مشرک مرا ہے۔ آپﷺ‏ نے فرمایا: ”ہاں دفن کر آؤ۔ یہ حدیث ابو داؤد و نسائی میں ہے۔ حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ اصابہ میں فرماتے ہیں: ابنِ خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے۔ (اصابہ: جلد، 4 صفحہ، 117)

5: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ پر فقہاء نے استدلال موت ابی طالب سے کیا ہے۔ کیونکہ ان کے چار بیٹے تھے، طالب ، عقیل، حضرت جعفرؓ و حضرت علیؓ، ابوطالب کی میراث صرف طالب اور عقیل کو ملی جو باپ کے مذہب (شرک) پر تھے اور سیدنا علیؓ و سیدنا جعفرؓ کو نہیں ملی کہ یہ دونوں مسلمان تھے۔ (المعتمد فی المعتقد)

6: شیعہ بھی ان کے صرف باطناً مؤمن ہونے کے قائل ہیں۔ مسلمان ہونے اور کلمہ پڑھنے کے قائل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی کسی روایت سے بھی ان کا کلمہ پڑھنا، خود کو مسلم کہنا یا مؤمن ہونے کا دعوے دار ہونا ہرگز ثابت نہیں کر سکتے۔ جب اسلام کے لیے اقرارِ شہادتین شرط ہے اور تبراء از کفار بھی ضروری ہے یہ دونوں باتیں ابوطالب میں نہ پائی گئیں تو ایمان کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا پھر شیعہ خدماتِ رسولﷺ کی بناء پر آپ کو مؤمن نہیں کہتے۔ بلکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے باپ ہونے کی وجہ سے۔ کہ امام کا باپ بھی مؤمن ہوتا ہے اور بعض غالی تو ان کو نبی مانتے ہیں اور بے دھڑک علیہ اسلام استعمال کرتے ہیں۔ خدا ایسے غلو اور شرک فی النبوت سے بچائے۔

سوال نمبر 170: خصائصِ کبریٰ کے حاشیہ از خلیل ہراس پر یہ روایت ہے: بل منهم من هو مشرك فابوه و آباءه من عبد المطلب إلى اسماعيل بن ابراهيم۔ معلوم ہوا کہ ذبیح اللہ بھی آپ کے مذہب میں مشرک تھے؟

جواب: بہتانِ محض ہے۔ پیش کردہ عبارت میں سب کے سب مشرک تھے۔ کسی لفظ کا ترجمہ نہیں، من تبعیضیہ کا استعمال ہے کہ کچھ شرک کرنے والے تھے اور یہ بھی بعثت سے ڈھائی سو سال قبل تک ممکن ہو گا جب سے عمرو بن لحی نے شام سے بت لا کر خانہ کعبہ میں رکھ دیئے۔ اس کے اثر و رسوخ اور 100، 100 اونٹ روزانہ ذبح کر کے کھلانے کی وجہ سے عام عرب بت پرستی میں مبتلا ہو گئے ورنہ اس سے پہلے عرب و قریش بالعموم اپنی فطرت اور ملتِ ابراہیمی پر صحیح العقیدہ تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام صادق الوعد رسول و نبی تھے، کسی کے وہم میں بھی نہیں آ سکتا جو کفریہ بات شیعہ سائل نے اہلِ سنت پر تھوپ دی، الیٰ کا مابعد، پہلے کے حکم سے خارج ہے۔ جیسے ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ (روزہ رات تک پورا کرو) جیسے رات روزہ کے حکم سے خارج ہے۔

سوال نمبر 171، 172: بھی اسی غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ جس کا ازالہ ہو چکا۔

سوال نمبر 173: ورقہ بن نوفل نے اعلانِ نبوت سے پہلے تصدیق کی۔ ان کو مسلم اوّل تم کیوں نہیں کہتے؟

جواب: جب مسلمان سازی کا کام دعویٰ نبوت کے بعد شروع ہوا تو جن اہلِ کتاب عالموں یا راہبوں نے آپﷺ کو پہلے دیکھ کر نبی ہونے کی پیشین گوئی کی تھی ان کو مسلم اوّل و دوم میں نہ گنا جائے گا۔ کیونکہ معرفت کافی نہیں۔ تصدیق مع تبری از دینِ سابق شرطِ ایمان ہے۔ جو علماء اہلِ کتاب سے ثابت نہیں۔

سوال نمبر 174: بھی اسی جواب سے حل ہو گیا، کہ بحیرا کی تصدیق قبل از بعثت تھی۔

سوال نمبر 175: امام بخاریؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو خادع المسلمین کہا، کون سچا ہے؟

صفحہ 3 از 4