ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

جواب: حدیث و فقہ کے اپنے اپنے فن میں دونوں بزرگ امام اور یکتائے زمانہ ہیں۔ اہلِ سنت کے اعتقاد میں بڑے بڑے لوگوں میں کسی بات پر غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ معاصرانہ چشمک یا اپنے برابر درجہ والے سے ایک قسم کی تنقید ہو گی جس میں ناقد کو ظاہری اطلاعات ملنے کی وجہ سے معذور تو سمجھا جائے گا۔ مگر دوسرے کے متعلق فی الحقیقت ایسا اعتقاد نہ رکھا جائے گا اور غلط فہمی کا منشاء وہ اطلاعات اور اخبارات ہوتی ہیں جن کا مخالفین پروپیگنڈہ کرکے بڑے بڑے لوگوں کو اہم شخصیات سے بدظن کر دیتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہمارے دور میں بھی بکثرت مل سکتی ہیں۔ اس لیے اگر بعض فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ سے امام بخاری رحمۃ اللہ کو اختلاف تھا تو یہ مطلب نہیں کہ وہ خادع المسلمین تھے ایسے اختلافات خود شیعہ کے معصوم ائمہ، ان کے پیرو کاروں اور اصولی و اخباری فقہاء شیعہ میں لاتعداد ہیں۔ مثال کی ضرورت نہیں۔ عاقل را اشارہ کافیست۔

سوال نمبر 176: تاریخ الصغیر میں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف تین حدیثیں حلاق سے ملیں تو ان کی کیسے تقلید کی جائے؟

جواب: یہ قول منقطع اور مردود ہے یہ حمیدی سے مروی ہے اور حمیدی نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا زمانہ بالکل نہیں پایا۔ لہٰذا ایسے واہی قول سے امام اعظمؒ پر طعن نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھیے ( تانیب الخطیب صفحہ 48 للعلامہ الکوثری)

سوال نمبر 177: کتابِ مذکور کے صفحہ 171 پر ہے کہ سفیان نے ابوحنیفہؒ کو اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا اور منحوس ترین شخص کہا ہے، کیا اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا جائے؟

جواب: ہرگز نہیں، کیونکہ پہلی کی سند میں نعیم بن حماد کے سوا اور کوئی وضاع راوی نہ بھی ہوتا تو خبر کو مردود بنانے کے لیے کافی تھا۔ اب تو نعیم کے ساتھ اور بھی ایسے ہیں اور یہ نعیم ابو حنیفہؒ کے حق میں خوب برائیاں گھڑتا ہے اور دوسری بات کی سند میں ثعلبہ بن سہیل قاضی ہے جو ضعیف ہے اور جریر بن عبد الحمید مضطرب الحدیث ہے جو سلیمان بن حرب کے ریوڑ چرانے کے لائق ہے اور برے حافظے والا ہے۔ ایک راوی سلیمان بن عبداللہ ابو الولید الرقی ہیں۔ ابنِ معین کہتے ہیں کچھ بھی نہیں۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی اکثر نسبت اٹکل بچو کے طور پر ہے اگرچہ سفیان ثوریؒ اور امام ابو حنیفہؒ میں معاصرانہ اختلافِ آراء ممکن ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اختلافی مسائل میں امام ثوریؒ امام ابو حنیفہؒ کے سب سے بڑھ کر مقلد تھے۔ ایک مرتبہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ نے اقرار کیا کہ امام ثوریؒ مجھ سے بھی زیادہ امام ابو حنیفہؒ کے پیروکار ہیں۔ خطیب بغدادی نے بھی تاریخِ بغداد صفحہ، 341 پر سفیان ثوریؒ کے امام ابو حنیفہؒ کے حق میں تعریف و احترام والے اقوال نقل کیے ہیں اور ابنِ عبدالبر نے الانتقاء صفحہ، 127 پر ایسی بہت سی روایات ذکر کی ہیں جو امام ثوریؒ کے ہاں امام ابو حنیفہؒ کی قدر و منزلت پر صریح دلیل ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ امام ثوری رحمۃ اللہ ان بہتانوں سے بالکل بری اور پاک ہیں۔ (تانیب الخطیب: صفحہ، 110 للزاہد الکوثری)

 امام بخاری رحمۃ اللہ نے علو مرتبت کے باوجود ان جعلی اقوال کو بلاتحقیق ذکر کر دیا۔ اللہ ان کو معاف کرے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی جلالتِ شان اور مرجع تقلید ہونے پر امام سفیان بن عیینہ کا ہی یہ قول کافی ہے: امام ابوحنیفہؒ سب لوگوں سے زیادہ (اور اچھی) نماز پڑھنے والے سب سے بڑے امین تھے۔ سب سے زیادہ شریف اور خوش اخلاق تھے۔ نیز فرمایا: ابو حنیفہؒ نے ہی مجھے حدیث کی گدی پر بٹھایا اور لوگوں میں اعلان کیا کہ عمرو بن دینار کی احادیث کو سب سے زیادہ جاننے والا یہ ہے۔ تو لوگ میرے پاس جمع ہو گئے اور میں ان سے حدیثیں بیان کرنے لگا۔ (تانیب الخطیب: صفحہ، 108)



صفحہ 4 از 4