سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت اور لاڈ و پیار
علی محمد الصلابی1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن وحسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔
(سنن النسائی: رقم: 8168)۔ احادیث بشأن السبطین: صفحہ 312 میں عثمان الخمیس نے اس حدیث کو حسن لذاتہ قرار دیا ہے۔)
2۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر کود کود کر چڑھتے، لوگ انھیں دور کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو ایسا کرنے دو، ان دونوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں، جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے ان دونوں سے محبت کرنا چاہیے۔
(احادیث بشأن السبطین: صفحہ 293 یہ حدیث حسن ہے۔)
3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو تو اس سے اور ان لوگوں سے محبت کر جس سے یہ محبت کرتا ہے۔
(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 249، 331) اس کی سند صحیح ہے۔)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب بھی میں انھیں دیکھتا میری آنکھیں اشک بار ہوجاتیں۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 74)
4۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا اور آپﷺ فرما رہے تھے:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أُحِبُّہُ فَأَحِبَّہُ۔
(صحیح مسلم: رقم: 2422)
’’اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو تو ان سے محبت کر۔‘‘
5۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں کو پکڑ کر فرمایا: جس نے مجھ سے، ان دونوں سے، اور ان کے والدین سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میری برابری میں ہوگا۔ امام احمدؒ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اور امام ترمذیؒ کی نقل کردہ حدیث میں ’’کان معي في الجنۃ‘‘ کے الفاظ ہے اور اس پر حکم لگایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 77۔ سنن الترمذی: رقم: 3734) سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 254) اس میں حکم لگایا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے اور متن منکر ہے۔ المیزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 117)
6۔ یعلی بن مرہ سے مروی ہے کہتے ہیں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سبقت کی دوڑ لگاتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی گردن میں ڈال کر انھیں اپنے پیٹ سے چمٹا لیا، ان کو بوسہ دیا پھر اِن کو بوسہ دیا اور فرمایا: میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، اس لیے لوگو!ان سے محبت کرو، بچے بخیلی و بزدلی کا باعث ہوتے ہیں۔
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 172) سنن ابن ماجہ: رقم: 366) الزوائد میں بوصیری نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے سیراعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 255)
7۔ اسرائیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔
(المسند: جلد 5 صفحہ 288) تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 26)
8۔ زہیر بن اقمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ قبیلہ ازد کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ اس سے محبت کرے، تم میں سے حاضر غائب کو یہ بات پہنچا دے، اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید نہ ہوتی تو میں تم سے بیان نہ کرتا۔
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 173، 174) سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 253، 254) اس کی سند صحیح ہے۔
9۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھاتے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر اور کہتے: اے اللہ! میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں تو بھی ان پر رحم فرما۔
(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 415، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی: صفحہ 216)
10۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں ’’اقرع بن حابس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا اور کہا: آپﷺ ان کو بوسہ دیتے ہیں، میرے دس لڑکے ہیں میں ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
(صحیح مسلم: رقم: 2318)
11۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن کی زبان یا ہونٹ چومتے تھے، اور ایسی زبان یا ہونٹ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوما ہو عذاب میں مبتلا نہیں کی جائے گی۔
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 93۔ اس کی سند صحیح ہے، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 259)
اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس حدیث کو روایت کرنا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے محبت کی دلیل ہے۔
12۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ کے کسی راستے میں ان کی ملاقات سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ان سے کہا: آپ پر میرے باپ قربان ہوں، آپ میرے لیے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھا دیں تاکہ میں اس جگہ کو بوسہ دے سکوں جہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ انھوں کپڑا اٹھایا تو انھوں نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 163) حاکم نے اس کو صحیح قرار دیاہے اور ذہبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے۔)
13۔ عکرمہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، ایک آدمی نے کہا: اے بچے کیا ہی اچھی سواری ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہی اچھا ہے سوار ہونے والا۔
(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2160 اس کی سند ضعیف ہے۔)
14۔ ابوالزبیر جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں؛ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپﷺ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل زمین پر کھڑے تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر سوار تھے، آپﷺ ان کو لیے ہوئے گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُکُمَا وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا۔
(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 216۔ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں مسروح راوی ہے۔ المجروحین: جلد 3 صفحہ 19) المیزان: جلد 4 صفحہ 97)
’’تمھارا اونٹ کیا ہی اچھا ہے، اور تم دونوں کیا ہی اچھے سوار ہو۔‘‘
15۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، جب آپﷺ حالت سجدہ میں ہوتے تو سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے، جب آپﷺ سر اٹھاتے، انھیں زمین پر اتار دیتے، جب آپﷺ پھر سجدہ کرتے تو وہ دونوں پھر چڑھ جاتے، یہاں تک کہ آپﷺ اپنی نماز پوری کر لیتے۔
(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2161)۔ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں محمد بن عیسیٰ بن حیان المدائنی راوی ہے۔)
16۔ ابن بریدہ اپنے والد بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سرخ قمیص پہنے آ رہے تھے اور لڑکھڑا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے، دونوں کو اٹھا لیا اور فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا ہے:
اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ ۞
(سورۃ التغابن آیت 15)
ترجمہ: تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔
میں نے ان دونوں بچوں کو آتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو صبر نہ کرسکا، اپنی گفتگو کو روک دیا، ان دونوں کو اٹھا لیا۔
(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2162)
17۔ حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں دن کے ایک حصے میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نکلا، ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار بنو قینقاع پہنچ کر لوٹ پڑے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے، پوچھا: کیا یہاں ننھا بچہ ہے؟ کیا یہاں ننھا بچہ ہے؟ آپﷺ کی مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے تھی، ہمارا خیال ہے کہ ان کی والدہ نے انھیں نہلانے اور خوشبوؤں کا ہار پہنانے کے لیے روک رکھا تھا، تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آئے، اور دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔
(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 1882، 1883)
19۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ کے سرخ خچر پر تھے، میں ان کے آگے آگے چلتا رہا، یہاں تک کہ میں نے انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے میں پہنچا دیا، یہ آپﷺ کے آگے اور یہ آپﷺ کے پیچھے تھے۔
(صحیح مسلم: رقم: 2423)
اس سرچشمۂ ہدایت سے بچوں کے والد بچوں کے ساتھ محبت، ان پر لطف و کرم اور شفقت کو سیکھیں، ان حدیثوں میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، رحم و کرم اور لاڈ پیار کا تذکرہ ہے، ان میں مسلمانوں کے لیے نبوی رہنمائی ہے کہ کس طرح وہ بچوں کو تربیت دیں اور پروان چڑھائیں، ان میں اس اہم سوال کا جواب ہے کہ ہم بچوں کے جذبات کی تشکیل کس طرح کریں؟ ہم ان کے حقوق کس طرح ادا کریں کہ وہ مستقبل کے اچھے آدمی بن سکیں؟ ان احادیث نبویہ میں بہت ساری ایسی بنیادی باتوں کی جانب اشارہ ہے کہ جن کو اپنا کر ہم راہ راست اور روشن شاہرہ پر چل سکتے ہیں۔
ا: مہربانی پر مشتمل پہلی بنیاد:
بچوں کو بوسہ دینا، ان کے ساتھ شفقت و رحمت سے پیش آنا:
بچوں کے جذبات و احسانات کو بیدار کرنے اور ان کی ناراضی اور غصے کو ختم کرنے میں بوسے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بوسہ بڑوں اور بچوں کے مابین محبت کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنے گہرے ربط کا احساس دلاتا ہے۔ بوسہ چھوٹے بچے کے ساتھ دلی لگاؤ اور چھوٹوں پر بڑوں کی شفقت کی دلیل ہوتا ہے، وہ ایسی چمکدار روشنی ہے جو بچے کے دل کو منور کرتی ہے، اس کے نفس کو تازگی دیتی ہے اس کے اردگرد موجود لوگوں سے اس کی انسیت میں اضافہ کردیتی ہے، پھر بوسہ ہر حال میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ رہا ہے۔
(منہج التربیۃ الاسلامیۃ للطفل: صفحہ 179)
بچوں کے ساتھ رحمت اور ان پر شفقت نبوی صفات میں سے، کا راستہ نیز رضائے الہٰی کے حصول کا سبب ہے۔
ب: دوسری بنیاد: بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا کھیلنا:
مذکورہ باتوں سے متعلق ہم نے چند حدیثوں کو ذکر کیا ہے، ان میں بچوں کے ساتھ لاڈ پیار سے متعلق نبوی طریقہ کے سبق آموز پہلو موجود ہیں، کبھی انھیں اٹھا کر، کبھی انھیں ہنسا کر وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی، چنانچہ اپنے بچوں سے لاڈ پیار کیا، انھیں ہنسایا، انھی کی طرح بچہ بن کر ان کے ساتھ کھیلے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
یَنْبَغِیْ لِلرَّجُلِ أَنْ یَکُوْنَ فِیْ أَہْلِہِ کَالصَّبِیِّ۔
’’آدمی کو اپنے اہل و عیال میں بچے کی طرح رہنا چاہے۔‘‘
یعنی اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کرتے، ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے، ہشاش بشاش اور مانوس رکھنے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو کھیلاتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ اسی لاڈ پیار اور کھیل کود سے پیش آتے، ان میں یہ جذبہ صادق پیدا کرتے، ان پر ظلم و زیادتی، سختی اور ان کو حقوق سے محروم کرنے سے بہت دور رہتے۔
(منہج التربیۃ النبویۃ: صفحہ 184)
ج: تیسری بنیاد: ہدیے اور تحفے:
عام طور پر لوگوں میں ہدیہ کی اچھی تاثیر ہوتی ہے، بچوں میں یہ چیز زیادہ ہی مؤثر ہوتی ہے۔ بچوں کے جذبات کو پروان چڑھانے، انھیں صحیح سمت دینے، ان کو مہذب بنانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اہم چیز کی تاثیر کو واضح کیا ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو ہدیہ دینے کا تذکرہ کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ زیور ہدیہ میں بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ ملک حبش کا تھا، آپﷺ نے قبول کرلیا، لیکن آپﷺ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، چنانچہ اسے اپنی صاحبزادی زینب کی بچی کو دے دیا اور کہا: اے لاڈلی بچی تو اسے پہن لے۔
(سنن ابن ماجہ: رقم: 3644۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 43)
د: چوتھی بنیاد: بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرنا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیر کر ان کے جذبات کو اجاگر کرتے، چنانچہ انھیں رحمت و شفقت، محبت و مودت کا احساس ہوتا، یہ ایسی چیز ہے جس سے بچوں کو اپنے وجود، بڑوں کی محبت اور اپنے ساتھ ان کے اہتمام کا احساس ہوتا ہے۔ مصعب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں عبداللہ بن ثعلبہ ہجرت کے چار سال پہلے پیدا ہوئے، فتح مکہ کے سال انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، آپﷺ نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، انھیں برکت کی دعائیں دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت وہ چودہ سال کے تھے۔
(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 379)
ھ: پانچویں بنیاد: بچوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ ملنا:
بچوں سے ملاقات ضروری ہے، ملاقات میں سب سے اہم ابتدائی لمحات ہوتے ہیں، اگر ملاقات اچھے ماحول میں ہو تو بچے اپنی بات جاری رکھ سکتے ہیں، متکلم کے ساتھ گفتگو، سوال و جواب کا دروازہ کھل سکتا ہے، بچے دل کھول کر اپنی باتیں کہہ سکتے ہیں، اپنی پریشانیوں کو بیان کرسکتے ہیں، اپنی تمناؤں کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے جب بچوں سے خوشی، محبت اور لاڈ پیار کے ماحول میں ملا جائے۔
(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 185)
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو اپنے خاندان کے بچوں سے ملاقات کرتے، ایک سفر سے آپﷺ واپس آئے تو مجھے آپﷺ کے پاس لے جایا گیا، آپﷺ نے مجھے اپنے سامنے سوار کرلیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دو بچوں حسن وحسین رضی اللہ عنہما میں سے ایک کو لایا گیا تو آپﷺ نے انھیں اپنے پیچھے سوار کرلیا، تو ہم تینوں مدینہ میں ایک سواری پر داخل ہوئے۔
(صحیح مسلم: رقم: 2328) سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 458)
و: چھٹی بنیاد: بچوں کی خبرگیری اور ان کے احول کی پرسش:
اکثر و بیشتر بچے اکیلے چلتے ہوئے راستہ بھول کر بھٹکتے رہتے ہیں، والدین اگر بچوں کا خاص خیال رکھتے ہوں تو وہ جلد ہی بچوں کے گم ہونے سے باخبر ہوجاتے ہیں، جلد ہی تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں، اور پتہ لگا لیتے ہیں اور اس کے برعکس صورت حال میں نتیجہ بھی برعکس ہوتا ہے، تلاش کرنے میں جلدی کا بچوں کی نفسیات پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے، اس سلسلے میں تاخیر اس کے ڈر، تکلیف اور رونے میں زیادتی کا سبب ہوتی ہے، جیسے جیسے والدین میں سے کسی ایک کے پہنچنے میں تاخیر زیادہ ہوتی ہے اس کی نفسیاتی تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی کرتے اور اپنے صحابہ کرامؓ کو تعاون کرنے اور گلیوں میں منتشر ہوجانے کا حکم دیتے، تاکہ سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما کا پتہ چلایا جاسکے۔
(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 186)
امام طبرانیؒ نے سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! حسن و حسین گم ہوگئے ہیں۔ راوی حدیث کہتے ہیں یہ صبح کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو میرے لاڈلوں کو تلاش کرو، ہر شخص کسی نہ کسی جانب نکل پڑا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نکل پڑا، تھوڑی ہی دیر میں ایک پہاڑ کے دامن میں حسن و حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے پائے گئے۔ ایک زہریلا سانپ اپنی دُم پرکھڑا تھا، اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانپ لپکے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے پلٹا اور بھاگ کر کسی بل میں گھس گیا، پھر آپﷺ ان دونوں کے پاس آئے، انھیں ایک دوسرے سے الگ کیا، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
ل
بِأَبِیْ وَ أُمِّيْ أَنْتُمَا مَا أَکْرَکُمَا عَلَی اللّٰہِ۔
’’تم دونوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں، تم دونوں اللہ کے نزدیک کیا ہی معزز ہو۔‘‘
پھر آپﷺ نے ان میں ایک کو داہنے کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر اٹھالیا، میں نے کہا: تم دونوں کو مبارک ہو، تمھاری سواری کیا ہی خوب سواری ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور وہ دونوں کیا ہی اچھے سوار ہونے والے ہیں، اور ان کے والد ان سے بھی اچھے ہیں۔
(معجم الطبرانی: جلد 3 صفحہ 65، رقم: 2677)، المجمع: جلد 9 صفحہ 182) اس حدیث کی سند میں احمد بن راشد ہلالی ضعیف ہے۔ اسے ذہبیؒ نے المغنی: جلد 1 صفحہ 39 میں ضعیف کہا ہے۔)
آپﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے خوف کو دیکھا کہ سانپ سے ڈر کر ایک دوسرے سے چمٹ گئے تھے، نیز اس خوف کو دور کرنے اور ایک کو دوسرے سے الگ کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد بازی بھی دیکھی، پھر آپﷺ نے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا، ان کے لیے دعائیں کیں، اپنے کندھوں پر اٹھا کر انھیں اعزاز بخشا، پھر ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
وَنِعْمَ الرَّاکِبَانِ ہُمَا۔
’’اور وہ دونوں کیا ہی اچھے سوار ہونے والے ہیں۔‘‘
یہ سب حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، دیکھ ریکھ اور اہتمام کی شدت کے باعث ہوا۔
(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 187)
ز: ساتویں بنیاد: چھوٹوں اور بچوں کے ساتھ بڑوں کا کھیلنا:
جیسا کہ گزرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قائد و امیر ہوتے ہوئے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھیلتے تھے تاکہ والدین اور بڑوں کو تربیت کا ڈھنگ بتائیں اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف حسن رضی اللہ عنہ کی ہمت افزائی کرتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حسن و حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے بھڑ گئے، آپﷺ کہنے لگے: شاباش حسن! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ بڑے کی مدد کر رہے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام کہہ رہے ہیں: اے حسین! دھر پکڑو۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 266 اس کی سند حسن ہے)
جعفر بن محمد اپنے والد سے ایک ضعیف حدیث روایت کرتے ہیں، آپ کے والد فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازوں کی جگہ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آئے اور لڑ پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: شاباش حسن! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ حسین کے خلاف ابھار رہے ہیں، تو آپﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام کہہ رہے ہیں: شاباش حسین۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 284 اس کی سند میں انقطاع ہے، اور یہ روایت سخت ضعیف ہے)
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف قسم کے کھیلوں کو آپﷺ نے دیکھا، آپﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ بچوں کے ساتھ مختلف کھیلوں کے تصور کی جانب آپﷺ کی رہنمائی کریں، اسی طرح کھیل سے متعلق آپﷺ نے ان دونوں کی تعریف کی تاکہ کھیل میں ان کی نفسیاتی معنویات میں اضافہ کریں تاکہ وہ بلا تھکن و مشقت پوری رغبت و چاہت سے کھیلتے رہیں اور یہ ان کے لیے بیک وقت جسمانی و نفسیاتی غذا کا کام دے۔
(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ: 209، 216)
اسی طرح بچوں کے کھیل میں بہت سارے جسمانی، تربیتی، معاشرتی، اخلاقی، ذاتی اور طبی فوائد ہیں۔
(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 216)