Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حیات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دوسری شادی کا پروگرام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 187: کیا حضورﷺ آپ کے نزدیک کتاب و سنت کے خلاف کسی امتی کو مجبور کر سکتے ہیں؟ 

جواب: سنت آپﷺ ہی کے عمل کا نام ہے آپ ایک حاکم یا طبیب کی طرح سابق امر کے خلاف حکم دے سکتے ہیں، یا عام قانون کے برعکس کسی کو شخصی حکم یا مشورہ دے سکتے ہیں۔ (یہاں سائل نے حضرت علیؓ کو امتی مان لیا)

سوال نمبر 188: اگر کر سکتے ہیں تو ایسا نبی واجب الاطاعت نہیں کہ اپنی قانون شکنی کرتا ہے۔

جواب: شیعہ کے لیے واجب الاطاعت نہ ہو اور شیعہ واقعی خاتم الشریعہﷺ‏ کو واجب الاطاعت نہیں مانتے۔ تبھی تو ثقلین قرآن و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو مانتے ہیں۔ مگر حضرت علی المرتضیٰؓ سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسلمان آپﷺ کو واجب الاطاعت جانتے ہیں۔

سوال نمبر 189: اگر نہیں کر سکتے تو معاذ اللہ رسول اللہﷺ‏ خود غرض ہوئے کہ اوروں کی بیٹیوں پر تین تین سوکنیں جائز ہوں مگر اپنی بیٹی کے لیے شریعت تبدیل کر دیں؟

جواب: شیعی ذہن پر ہزار تعجب و افسوس ہوتا ہے کہ جو چیز سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی منقبت اور احترام و راحت پر دلیل ہے، اسے رد کر کے الٹا حضور اکرمﷺ پر طعن کر رہا ہے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اتنی تعظیم واقعی اہلِ سنت کا خاصہ ہے اگر شیعوں کا بس چلتا تو نہ معلوم حضرت علیؓ کے گھر میں کتنی منکوحہ و غیر منکوحہ متعائی عورتیں جمع کر دیتے آخر حب دار جو ٹھہرے؟

واضح رہے کہ یہ دوسری شادی کا قصہ ہمارا مشہور کردہ نہیں، ایک تاریخی حقیقت ہے اور کتب شیعہ سے ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو جلاء العیون: صفحہ، 150

اسی موقع پر آپﷺ نے فرمایا! سیدہ فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس سے اس کو تشویش اور تکلیف ہو اس بات سے مجھے بھی تکلیف و پریشانی ہوتی ہے۔ جسے شیعہ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر استعمال کرتے ہیں اور اس کا شانِ نزول ہرگز نہیں بتاتے۔ حکم دینے کی وجہ اگلے سوال میں ہے۔

سوال نمبر 190: ابو داؤد جلد، 2 میں ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے دین میں فتنہ نہ آ جائے اور فتنہ کو قرآن نے قتل و غارت سے کہا ہے۔ مفصل روشنی ڈالیں۔

جواب: یہی روایت حضرت علی المرتضیٰؓ کو روکنے کی وجہ اور حکمت بیان فرما رہی ہے: کہ میں خدا کے حلالوں کو حرام یا حراموں کو حلال تو نہیں کرتا تاہم میرا مشورہ یہ ہے کہ مجھے حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے دین پر آزمائش کا خطرہ ہے کہ سیدنا شیرِ خدا رضی اللہ عنہ جیسے خاوند سے ناراض اور بدظن رہے گی دشمنِ خدا کی بیٹی کو سوکن اور چہیتی دیکھ کر غمگین اور پریشان رہا کرے گی جس سے اس کی عبادت میں خضوع اور لذت جاتی رہے گی۔ خاوند کی خدمت میں کوتاہی کا بھی امکان ہے اور یہ سب چیزیں دین کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے اگر حضرت علیؓ فاطمہ بنتِ ابوجہل سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے۔ ورنہ میں اجازت نہیں دیتا۔ یعنی اس پر خوش نہیں ہوں۔ (الحدیث) پھر اسی سلسلہ میں بنوامیہ میں سے اپنے داماد سیدنا ابو العاصؓ بن ربیع زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ‏ جو حضرت خدیجہؓ کے بھانجے بھی تھے کی خوب تعریف کی: کہ اس نے میری بیٹی کا خوب خیال رکھا۔ جو بات کہی سچ کر دکھائی۔ جو وعدہ کیا پورا کیا۔ میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال تو نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ کی قسم رسولِ خداﷺ‏ کی بیٹی اور دشمنِ خدا کی بیٹی ایک جگہ کبھی جمع نہ ہوں گی۔ (ابو داؤد: جلد، 1 صفحہ، 283) 

اس میں کوئی خود غرضی نہیں بلکہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے دین و آرام کا تحفظ ہے اگر وہ خوش ہوتیں تو آپﷺ کو یہ خطبہ دینے کی حاجت نہ تھی۔ مگر بتقاضائے بشریت و انسانیت جب سیدہ فاطمہؓ خوش نہ تھیں تو آنحضورﷺ نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ مشورہ تلقین کیا اور یوں نہ کہا کہ نکاحِ ثانی تمہارے لیے حرام ہے یہ بالکل جائز معقول اور فطری بات ہے۔ اب بھی سینکڑوں خسر اپنی بیٹی پر سوکن دلی رضا سے پسند نہیں کرتے اور نکاحِ ثانی نہ کرنے کا مشورہ اور ترغیب دیتے ہیں اور یہ کوئی شرعاً و عرفاً معیوب بات نہیں کیونکہ دوسرا نکاح کرنا کوئی فرض تو نہیں ہے کہ نہ کرنے کا مشورہ دینا جرم ہو۔ ہاں یہ عیب و گناہ اس وقت ہو گا جب دوسری شادی ہو جائے اور والدین پہلی کو خاوند کے گھر نہ بسنے دیں۔ خاوند کی خدمت چھڑوائیں اور سوکن کو اس کے ذریعے تکلیف پہنچوائیں۔

سوال نمبر 191: پھر دخترِ سیدنا ابوسفیانؓ سیدہ اُمِ حبیبہ رضی اللہ عنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیسے جمع ہو گئیں؟ 

جواب: بالا تقریر سے یہ بھی حل ہو گیا۔ کیونکہ حضرت اُمِ حبیبہؓ دخترِ دشمنِ خدا ہو کر حضرت فاطمہؓ کے ساتھ جمع نہ ہوئیں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا تو حضرت علی المرتضیٰؓ کے گھر میں تھیں اور کبھی والد کے گھر آتیں تو سوتیلی والدہ کے ساتھ حقوق میں تو کوئی شرکت نہ تھی جو باعثِ نزاع یا حق تلفی ہوتا۔ لہٰذا یہ معارضہ بالکل غلط ہے۔

سوال نمبر 193: بھی اسی سے حل ہو گیا کہ حضرت فاطمہؓ کی نازک مزاجی کا یہی تقاضا تھا کہ حضرت علیؓ اگر بخیال شیعہ معقول و جائز بات پر منشاء رسولﷺ کے خلاف عمل کریں تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ناراضگی یا کوتاہی کا میدان صاف کر دیا جائے۔ اس میں کوئی توہینِ رسولﷺ اور عداوتِ سیدنا علیؓ نہیں ہے بلکہ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا احترام ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے عشقِ رسولﷺ کا اظہار ہے کہ اپنی خواہش کو منشاء رسول اللہﷺ‏ پر قربان کر دیا اور حضور اقدسﷺ‏ کے حکیم و دانا ہونے کا بڑا ثبوت ہے۔ وللہ الحمد۔

سوال نمبر 194: حضور اکرمﷺ‏ نے یہ معاملہ گھر کی چار دیواری میں کیوں نہ سلجھایا جو شرفاء کا قاعدہ ہے؟

جواب: ہو سکتا ہے ایسا بھی کیا ہو۔ مگر بمصداق،

نہاں کے ماندآں رازے کنر و سازند محفلہا

بات جب مشہور ہو گئی تھی اور بنو مغیرہ رشتہ دینے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے تو خطابِ عام سے اپنی ناگواری ظاہر کی تاکہ ان کے بھی حوصلے پست ہو جائیں۔ چنانچہ ابو داؤد میں یہ الفاظ ہیں کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹے مجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی حضرت علیؓ بن ابی طالب کو بیاہ دیں۔ میں تو اجازت نہیں دیتا پھر نہیں دیتا پھر نہیں دیتا۔ الخ 

اور شیعہ روایت میں بھی ابنِ بابویہ نے بسندِ معتبر روایت کیا ہے کہ حضور اکرمﷺ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو واپس لے آ کر حضرت علی المرتضیٰؓ کے پاس مسجد میں آئے اور فرمایا: اے ابو سیدنا تراب رضی اللہ عنہ اٹھو، تم نے بہت سے آرام کرنے والوں کو بے قرار کیا ہے، جاؤ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہم کو بلا لاؤ، چنانچہ حضرت علیؓ ان تینوں کو بلا لائے، تب حضورﷺ نے فرمایا اے سیدنا علیؓ تم نہیں جانتے کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا میرے بدن کا ٹکڑا ہے اور میں اس سے ہوں، جس نے اسے دکھ پہنچایا اس نے مجھے دکھ پہنچایا۔ الخ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 151)

(شیعہ کا خیال ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کسی شقی نے یہ خواستگاری دخترِ ابوجہل کی قسمیہ خبر دی تھی تب وہ روٹھ کر میکے گئیں اور حضورﷺ نے خواص کے سامنے یہ خطبہ دیا مگر یہ حقیقت پوشی کی کوشش ہے) گھر کی چار دیواری میں بات سلجھائی تو بھی شیخین اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر فرمائی کیونکہ شادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہی گواہ تھے۔

سوال نمبر 195، 196: اگر دشمنِ خدا کی بیٹی کو اپنی بیٹی کے ساتھ نہ دیکھ سکتے تھے تو دشمنِ خدا کے کافر بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کو اپنا داماد کیوں بنایا؟

جواب: یہ بالکل مغالطہ ہے۔ دعویٰ نبوت سے قبل صغر سنی میں ان بیٹیوں کی نسبت یا عقد اپنے سگے چچا ابولہب کے بیٹوں کے ساتھ کر دیا تھا، اور شرفاء کے ہاں اتنی بات بھی نکاح کی طرح پکی بات سمجھی جاتی اور دوسری طرف سے انکار گویا طلاق سمجھی جاتی ہے۔ مگر دعویٰ نبوت اور اعلانیہ تبلیغ سے بدقسمت چچا بھڑک اٹھا اور بیٹوں سے ان رشتوں کا انکار کرا دیا جو ابھی تک رخصت ہو کر ان کے گھر گئی بھی نہ تھیں بلکہ نابالغہ تھیں تو نہ کافر داماد بنے نہ طبیعت پر گرانی آئی الطیبات للطیبین کے تحت وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آ گئیں۔