Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیث قرن الشیطان کا مصداق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 192: حجرۂ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی جانب سے شیطان کا سینگ نکلنے کا کیا مطلب ہے؟

جواب: بد دیانتی سے شیعہ اس طعن کو بھی خوب اچھالتے ہیں۔ حالانکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ اس وقت مسکنِ نبوی تھا اب مزارِ نبوی ہے۔ یہاں شیطان کا سینگ ہونا اور اس کا نکلنا ماننا صریح کفر ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہ سمت ہے جس طرف حجرہ سیدہ عائشہؓ تھا اور وہ مشرقی سمت تھی۔ دین اسلام اور مسلمانوں میں پیدا ہونے والے فتنوں کی آپﷺ نے پیشین گوئی فرمائی کہ وہ مشرق سے شیطان کے سینگ کی طرح طلوع ہوں گے۔ فرمانِ رسولﷺ برحق ثابت ہوا کہ سب سے پہلا فتنہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف ابنِ سباء یہودی اور مالک اشتر وغیرہ اس کے یاروں کا ہے جو مدینہ سے مشرقی سمت واقع کوفہ سے اٹھا۔ ربیعہ اور مضر کے مکانات اسی سمت میں ہیں۔ پھر فتنہ ابنِ زیاد کا اٹھا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ پھر مختار ثقفی کا ہے جس نے دعویٰ نبوت کیا اور 70 ہزار بے گناہ مسلمان قتل کیے پھر معتزلہ کا بصرہ سے اٹھنا، قرامطہ کا سواد کوفہ سے، خارجیوں کا نہروان سے، دجال کا اصفہان سے نکلنا مسلمہ بات ہے۔ یہ سب مقامات مدینہ سے مشرقی سمت میں ہیں اور سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے کتبِ شیعہ میں صراحت ہے۔ سر کفر کا اس طرف ہے اشارہ مشرق کی طرف کیا جہاں ربیعہ اور مضر میں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔ (از تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ، 696)