Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار

  علی محمد الصلابی

1۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے پوچھا کتنے دن پہلے تمھاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہے؟ میں نے انھیں جواب دیا: اتنے اور اتنے دن پہلے، کہتے ہیں کہ انھوں نے مجھے سخت سست اور برا بھلا کہا۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: بس رہنے دیں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں، آپﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں گا، پھر آپﷺ کے ساتھ ہی رہوں گا، یہاں تک کہ آپﷺ میرے اور آپ کے لیے مغفرت کی دعا کردیں، کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپﷺ کے ساتھ مغرب پڑھی، عشاء پڑھ کر آپﷺ نکلے، میں آپﷺ کے پیچھے ہولیا، اسی اثنا میں آپﷺ کے پاس ایک شخص آیا، آپﷺ نے اس سے رازدارانہ گفتگو کی، پھر وہ چلا گیا، میں آپﷺ کے پیچھے چلتا رہا، آپﷺ نے میری آواز سنی، پوچھا: کون ہو؟ میں نے کہا: حذیفہ، فرمایا: کیا معاملہ ہے؟ میں نے معاملہ بیان کردیا تو آپﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا:

غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ وَلِأُمِّکَ۔

’’اللہ تعالیٰ تمھاری اور تمھاری ماں کی مغفرت فرمائے۔‘‘

پھر فرمایا: تھوڑی دیر پہلے آنے والے کو تم نے دیکھا؟ کہتے ہیں، میں نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ ایسا فرشتہ ہے جو اس سے پہلے روئے زمین پر نہیں آیا ہے، اس نے مجھ سے سلام کرنے کی اپنے رب سے اجازت مانگی ہے، وہ مجھے اس بات کی خوشخبری دے رہا تھا کہ حسن و حسین جنتی جوانوں کے اور فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔

(مسند احمد: جلد 5 صفحہ 391)

2۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

(الاحادیث الواردۃ بشأن السبطین: صفحہ 182) یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔)

3۔ ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں، سوائے دو خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ و یحییٰ بن زکریا علیہم السلام کے۔‘‘

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2144 اس کی سند حسن ہے۔)

عثمان خمیس نے اس حدیث کے طرق کا دراسہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ حدیث سولہ صحابیوں سے مروی ہے۔

(الاحادیث الواردۃ بشأن السبطین: صفحہ 211)

مزید بتایا ہے کہ اس حدیث کے بارے میں احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا تو آپ نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔

(السؤال: رقم: 124 المنتخب من العلل للخلال، لابن المقدسی)

ابن کثیرؒ نے اس کو ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور کہا ہے: اس کی تمام سندوں میں ضعف ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 208) 

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے، ان میں سے بعض بعض کو تقویت پہنچاتے ہیں۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 283)

اس کے بعد عثمان خمیس کہتے ہیں: ائمہ کے ان اقوال کے مابین تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ ابن کثیرؒ کے قول کے مطابق اس کی سندوں میں ضعف ہے، اور حافظ ذہبیؒ کے قول کے مطابق بعض سندیں حسن اور بعض حسن لغیرہ ہیں، اس طرح بعض بعض کو تقویت پہنچاتی ہیں، نتیجتاً امام احمدؒ کے قول کے مطابق صحیح لغیرہ ہے۔

(الاحادیث الواردۃ بشان السبطین: صفحہ 212) 

واللہ اعلم