سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا کے میرے لیے دو خوشبودار پھول ہیں
علی محمد الصلابیابونعیم سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے محرم کے بارے میں پوچھا گیا، شعبہ کہتے ہیں غالباً سوال مکھی کے قتل کے بارے میں تھا تو میں نے انھیں کہتے سنا: اہل عراق مکھی کے بارے میں پوچھتے ہیں، جب کہ انھوں نے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا ہے، اور فرمان نبوی ہے:
ہُمَا رَیْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْیَا۔
(صحیح البخاری: رقم: 3735)
’’وہ دونوں میرے دنیا کے دو خوشبودار پھول ہیں۔‘‘
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بحالت نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر چڑھتے دیکھا ہے، آپﷺ ہاتھوں سے ان کو تھامے رہتے، جب زمین پر پہنچتے چھوڑ دیتے، نماز سے فارغ ہوکر انھیں اپنی گود میں بٹھاتے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، پھر کہتے:
إِنَّ اِبْنَيَّ ہٰذَیْنِ رَیْحَانَتَا مِنَ الدُّنْیَا۔
’’بلاشبہ میرے یہ دونوں بچے میرے دنیا کے دو خوشبودار پھول ہیں۔‘‘
پھر لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر کہتے: میرا یہ بچہ سردار ہے، مجھے امید ہے کہ آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔
(صحیح ابن حبان: رقم: 6964)
محمد بن حسین آجری کہتے ہیں: اس سے آپ کی مراد حسن رضی اللہ عنہ ہیں۔
(الشریعۃ للآجری: صفحہ 2157)
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے، جب سجدے کرتے تو حسن رضی اللہ عنہ آکر آپ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے، جب آپ سجدے سے سر اٹھاتے، انھیں زمین پر آسانی سے اتار دیتے، جب دوبارہ سجدے کرتے تو پھر پیٹھ پر سوار ہوجاتے، جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوتے، انھیں اپنی گود میں بیٹھاتے، اورانھیں بوسہ دیتے، ایک شخص نے آپﷺ سے کہا: آپﷺ اس بچے کے ساتھ ایسا کرتے ہیں، تو آپﷺ نے فرمایا:
إِنَّہُمَا رَیْحَانَتَايَ وَعَسَی اللّٰہُ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
(الشریعۃ للآجری: صفحہ 2157 اس کی سند حسن ہے۔)
’’وہ دونوں میرے دو خوشبودار پھول ہیں، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘