Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دنیا و آخرت میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سرداری

  علی محمد الصلابی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا بھرے مجمع میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے مقام و مرتبہ اور جلالت شان کا اعلان کیا ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپﷺ کا یہ قول متواتر روایتوں سے ثابت ہے:

إِنَّ اِبْنِيْ ہٰذَا سَیِّدٌ۔

’’بلاشبہ میرا یہ بچہ سردار ہے۔‘‘

ابن عبدالبر کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیثیں بہ تواتر ثابت ہیں کہ آپﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا ہے:

إِنَّ اِبْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَ عَسَی اللّٰہُ اَن یُبْقِیْہ حَتّٰی یُصْلِحَ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(مسند احمد: جلد 5 صفحہ 51 اور صحیح بخاری میں اسی جیسی روایت ہے جلد 3 صفحہ 244)

’’میرا یہ بچہ سردار ہے، اللہ تعالیٰ اسے باقی رکھے گا تاآنکہ وہ مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں کے مابین صلح کرا دے گا۔‘‘

اس حدیث کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اس سلسلے میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

وَأَنَّہُ رَیْحَانَتَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَلَا أَسْوَدُ مِمَّنْ سَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم سَیِّدًا۔

(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 437) 

’’اور یہ کہ وہ میرے دنیا کے خوشبودار پھول ہیں اور جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سردار کہا ہو اس سے بڑا کوئی سردار نہیں۔‘‘

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کہتے ہوئے سنا ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپﷺ کے پاس تھے، کبھی آپﷺ ان کو دیکھتے کبھی لوگوں کو دیکھتے اور کہتے:

إِنَّ ابْنِيْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(صحیح البخاری: فضائل الصحابۃ: رقم: 3746)

’’بلاشبہ میرا یہ بچہ سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘

اس حدیث میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ سردار ہیں، ابن الاثیر کہتے ہیں: ایک قول کے مطابق سید سے مراد بردبار ہے، اس لیے کہ آپ نے حدیث کے آخر میں فرمایا:

وَاِنَّ اللّٰہَ یُصْلِحُ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 3 صفحہ 417)

’’اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘

تحفۃ الاحوذی شرح جامع ترمذی میں ہے:

’’سرداری سب سے افضل شخص کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ سردار قوم کا سربراہ ہوتا ہے، اس کی جمع ’’سَادَۃٌ‘‘ ہے، ’’السُؤَدد‘‘ مادے سے مشتق ہے، ایک قول کے مطابق ’’سَوَادٌ‘‘ سے مشتق ہے، اس لیے کہ وہ سواد عظیم یعنی زیادہ لوگوں کی سربراہی کرتا ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے دو جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا، ’’فِئَتَیْنِ‘‘ ’’فِئَۃٌ‘‘ کی تثنیہ ہے، جو جماعت و گروہ کے معنیٰ میں ہے۔‘‘

(تحفۃ الاحوذی: جلد 1 صفحہ 277)

اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’فِئَتَیْنِ‘‘ کی صفت ’’عَظِیْمَتَیْنِ‘‘ ذکر کی ہے، اس لیے کہ اس وقت مسلمانوں کی دو جماعتیں تھیں، ایک جماعت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور دوسری سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ، یہ ایک عظیم نبوی معجزہ تھا اس لیے کہ ویسے ہی ہوا جیسا کہ آپﷺ نے بتلایا تھا۔

معاملہ اصل میں یہ ہے کہ جمعہ و سنیچر کی درمیانی شب میں عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا، آپ 19 رمضان 40ھ کو وفات پاگئے اور اسی سال رمضان میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت لی گئی،آپ اس سلسلے میں سوچتے رہے اور دیکھا کہ لوگ دو گروہوں میں بٹے ہیں ایک گروہ سیدنا حسنؓ کے ساتھ ہے، دوسرا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ، اور معاملہ سدھر نہیں رہا ہے، اور آپ کی نظر میں مسلمانوں کی اصلاح اور ان کے خون کی حفاظت اپنے حق سے افضل قرار پائی، بنا بریں آپ نے 5 ربیع الاول 41 ھ کو خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردی، ایک دوسرے قول کے مطابق ربیع الثانی میں اور تیسرے قول کے مطابق جمادی الاولیٰ کے شروع میں، آپ کی خلافت چند دن کم چھ مہینہ رہی، اس سال کا نام ’’عام الجماعۃ‘‘ یعنی اجتماع و اتحاد کا سال ہے، اسی سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔

لَعَلَّ اللّٰہُ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ۔

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 66)

’’امید کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘

اس حدیث میں نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت ہے، اس لیے کہ سیدنا حسنؓ نے خلافت حامیوں کی قلت، یا ذلت و رسوائی، یا کسی اور سبب کی بنا پر نہیں چھوڑی بلکہ اخروی اجر، مسلمانوں کے خون کی حفاظت، اور امت کی مصلحت کے پیش نظر چھوڑی تھی۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے، سلام کیا، ہم نے جواب دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نہیں پہچانے، وہ چلے گئے، تو ہم نے کہا: اے ابوہریرہ یہ حسن بن علی( رضی اللہ عنہما ) ہیں جنھوں نے ہم کو سلام کیا ہے، چنانچہ وہ اٹھے، دوڑ کر ان کے پاس پہنچے اور کہا: ’’یا سیدي‘‘ اے میرے سردار، میں نے ان سے پوچھا: آپ ’’یا سیدی‘‘ کہہ رہے ہیں ؟تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: ’’إنہ لسید‘‘

(مستدرک الحاکم: جلد 3 صفحہ 169) اور کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔الطبرانی: رقم: 2596)

بلاشبہ وہ سردار ہے۔

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: جو جنتی جوانوں کے سردار کو دیکھنا پسند کرتا ہو وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھے۔

(صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 421، 422) 

جنت میں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی سرداری والی حدیث کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے، ایسا اس لیے ہوا کہ آپﷺ نے اس بات کا اعلان بارہا اور بہت ساری مجلسوں میں کیا ہے، چنانچہ یہ حدیث عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، عمر بن خطاب، علی بن ابوطالب، اسامہ بن زید، قرۃ بن ایاس، مالک بن حویرث، براء بن عازب اور ابوہریرہ وغیرہم رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔

(یہ روایتیں مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 183) اور المعجم الکبیر: جلد 3 صفحہ 24 میں ہیں۔)