مطاعنِ صدیقی
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 297: کیا دعوتِ ذوالعشیرہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شریک تھے؟
جواب: اس دعوت کے متعلق ہم مفصل کلام اور شیعی استدلال کا رد تحفہ امامیہ سوال 3 کے تحت کر چکے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک کمزور تاریخی روایت ہے۔ سیرت و حدیث کا مستند واقعہ نہیں۔ پھر بنو عبدالمطلب کی تعداد 40 تک پہنچی ہی نہ تھی نیز بصورتِ صحت یہ جہری تبلیغ کا واقعہ ہے۔ جب آیت وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ نازل ہوئی تھی تو آپﷺ نے تمام برادری کے غیر مسلم افراد کو بلا کر دعوتِ طعام دی۔ پھر توحید و رسالت کی تبلیغ کی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چونکہ تین سال قبل پہلے دن ہی اسلام قبول کر چکے تھے اس لیے اس خانگی بنو اعمام کی دعوت میں شرکت کا سوال نہ تھا۔
مولانا آزادؒ اور غلام رسول مہر رحمۃ اللہ رسول رحمتﷺ میں لکھتے ہیں:
(پہلی وحی اور نماز و وضو کی تعلیم کے بعد) ساتھ ہی پیغامِ حق کی تبلیغ شروع ہو گئی یہ سرّی تبلیغ کا دور تھا جو تین سال جاری رہا۔ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ (جن کی عمر صرف آٹھ سال تھی) حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ مسلمان ہوئے، چند روز کے بعد سیدنا بلال سیدنا عمرو بن عبسہ اور سیدنا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ۔ نے اسلام قبول کیا۔ (رسولِ رحمتﷺ: صفحہ، 74)
سوال نمبر 298: اس دعوت پر رسولِ مقبولﷺ نے کیا ارشاد فرمایا؟
جواب: جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا: کہ جو شے میں نے تمھارے سامنے پیش کی ہے کسی شخص نے بھی اس سے بہتر شے اپنی قوم کے سامنے پیش نہیں کی میں تمھارے واسطے دنیا اور آخرت کی خبر لے کر آیا ہوں۔
(ابنِ اسحق و بیہقی ابنِ نعیم خصائص: جلد، 1 صفحہ، 123 بحوالہ سیرتِ مصطفیٰﷺ: صفحہ، 136)
سوال نمبر 299: آپﷺ کے پیغام کو کس کس نے قبول کیا؟
جواب: یہاں بالا کتب کی روشنی میں کسی نے قبول نہیں کیا، سیرت ابنِ ہشام میں اس دعوت و واقعہ کا کہیں ذکر نہیں۔ ضعیف روایات کی روشنی میں یہاں شیعہ یہ کہلوانا چاہتے ہیں:
کہ یہ دعوت تین دن تک ہوتی رہی۔ بنو عبدالمطلب برادری میں سے کسی نے حامی نہ بھری تو تیسرے دن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر لبیک کہی حالانکہ آپؓ صغیر سن تھے۔ ابولہب مذاق اڑاتا تھا۔ غالباً دیگر حاضرین نے خلیفتی فی اهلی (میرے گھر والوں میں میرا خلیفہ ہو گا۔) کے منصب کو اپنے شایان نہ جانا اور خاموش رہے۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 279 شیعی تفسیر مجمع البیان تفسیر قمی) تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 320 میں یہ لفظ ہیں:
کون اس شرط پر میری بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی ساتھی اور وارث بنے، آپﷺ نے تین مرتبہ یہ فقرہ دوہرایا جب کوئی نہ اٹھا تو میں سب سے چھوٹا تھا اٹھا تو آپﷺ نے فرمایا بیٹھ جا۔ تیسری مرتبہ میں نے بیعت کی پس اسی وجہ سے میں چچا کے بیٹے کا وارث (علمی) ہوں اور چچا کا نہیں ہوں۔
روایت سے ثابت چھ باتیں شیعہ کے خلاف ہیں
یہاں سے چھ باتیں ثابت ہوئیں
1: صرف اپنی غیر مسلم برادری بنو عبدالمطلب کو دعوت تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تیمی تو 3 سال پہلے سے مسلمان تھے۔
2: بنو ہاشم بن عبدالمطلب میں سے کسی نے بھی اسلام اور پیغمبرﷺ کی حمایت نہ کی۔
3: جناب ابو طالب کا بھی مؤمن و مسلمان نہ ہونا ثابت ہوا ورنہ ضرور لبیک کہتے۔
4: حضرت علیؓ نے بھی اسلام و ایمان کا اظہار تین سال بعد اسی موقع پر کیا۔
5: اس خلافت وزارت کا مقصد برادری اور خانگی امور میں جانشین بنانا تھا۔
6: انبیاء کی میراث علمی ہوتی ہے ورنہ سیدنا علی المرتضیٰؓ چچا کے بجائے چچا زاد کے وارث نہ بنتے۔
سوال نمبر 300: کیا اس دعوت سے پہلے آپﷺ نے عوام پر اظہارِ نبوت کیا؟
جواب: ہاں اپنے احباب اور خواص کو ضرور دعوتِ اسلام دی اور سابق 7 افراد کے علاوہ مندرجہ ذیل افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم یہ سات مبشر بالجنہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی دعوت اور تحریک سے ہی حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ حضرت ابوسلمہ عبدالاسد بن بلال حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عامر بن فہیره ازدی، حضرت ارقم بن ابی الارقم، حضرت عمار بن یاسر، حضرت عباس کی اہلیہ سیدہ اُم الفضل، سیدہ اسماء بنتِ سیدنا ابی بکر، سیدہ اسماء بنتِ عمیس، سیدہ فاطمہ بنتِ خطاب (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن) رضی اللہ عنہم صادقین اولین کا یہ گروہ کسی گھاٹی میں جا کر نماز بھی پڑھا کرتا تھا۔
(رسولِ رحمتﷺ: صفحہ، 74 بحوالہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ، 55)
سیرت ابنِ ہشام جلد، 1 صفحہ، 271 تا 280 میں مذکورہ ناموں کے علاوہ 32 مردوں عورتوں کے اور نام نیز اسی طرف سیرت المصطفیٰﷺ جلد، 1 صفحہ، 126 پر اور ذکر کیے ہیں۔
دونوں سیرت نگار اس کے بعد لکھتے ہیں: کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو علانیہ تبلیغ کا حکم دیا اور تین سال چھپی تبلیغ کے بعد یہ آیتیں نازل ہوئیں:
1: فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ (سورۃ الحجر: آیت 94)
ترجمہ: خدا کا حکم دو ٹوک سنائیں اور مشرکوں سے اعراض کریں۔
2: وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ
(سورۃ الشعراء: آیت 214)
ترجمہ: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں
سوال نمبر 301: کیا اس دعوت سے پہلے حضورﷺ نے کسی کو دعوتِ اسلام دی؟
جواب: جی ہاں خفیہ طور پر ضرور دی۔ تفصیل مذکور ہو چکی۔
سوال نمبر 302: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دعوتِ ذوالعشیرہ کے موقع پر مکہ میں تھے یا نہ؟
جواب: یقینی طور پر پتہ نہ چل سکا جبکہ غیر موجودگی سے ان کا نقصان نہ تھا کیونکہ وہ اس دعوتِ بنو عبدالمطلب سے تین سال پہلے مسلمان ہو چکے تھے اور کافی لوگوں کو مسلمان کر چکے تھے۔
مولانا شبلی نعمانی رحمۃ اللہ سیرت النبیﷺ جلد، 1 صفحہ، 207 پر رقم طراز ہیں: سیدنا ابوبکر صدیقؓ دولت مند ماہر انساب، صاحب الرائے اور فیاض تھے۔ ابنِ سعد نے لکھا ہے: کہ جب وہ ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ (جو آپؓ نے تبلیغِ اسلام اور مسلمان غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر ڈالے) غرض ان اوصاف کی وجہ سے مکہ میں ان کا عام اثر تھا اور معززینِ شہر ان سے ہر بات میں مشورہ لیتے تھے۔ ارباب روایت کا بیان ہے کہ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص فاتحِ ایران، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم سب ان ہی کی ترغیب اور ہدایت سے اسلام لائے ان کی وجہ سے یہ چرچا چپکے چپکے اور لوگوں میں بھی پھیلا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ لیکن جو کچھ ہوا پوشیدہ طور پر ہوا۔ نہایت احتیاط کی جاتی تھی کہ محرمانِ خاص کے سوا کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔
دعوتِ ذی العشیرہ تین برس کے بعد اعلانِ عام اور 4 نبوت میں ہوئی اس میں صرف خاندانِ عبدالمطلب کے تمام افراد کو مدعو کیا گیا۔ حضرت حمزہؓ، ابو طالب، حضرت عباس رضی اللہ عنہ سب شریک تھے (مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نو عمر لڑکے کے سوا کسی نے حضورﷺ کا ساتھ دینے کا اعلان نہ کیا)
مع ہٰذا (تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 1171) اور (تفسیر طبری: جلد، 19 صفحہ، 68) میں عبدالغفار بن قاسم اور منہال بن عمرو کے واسطے سے اس کو روایت کیا ہے۔
پہلا راوی شیعی اور متروک ہے۔ دوسرا بد مذہب۔ اس روایت میں اور بھی وجوہ ضعف بلکہ وجوہ وضع ہیں تو نہ یہ شیعوں کو مفید ہے۔ نہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی غیر موجودگی کے لیے نقصان دہ ہے۔