Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

میں ہر شیطان، زہریلے جانور او رنظر بد سے اللہ کے کامل کلموں کی پناہ چاہتا ہوں

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پناہ کی دعا کرتے تھے اور کہتے تھے: تمھارے باپ یعنی ابراہیم علیہ السلام ان کلمات کے ذریعے سے اسماعیل و اسحاق علیہم السلام کے لیے پناہ کی دعا کرتے تھے:

أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّ ہَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامّۃٍ۔

(صحیح البخاری: رقم: 3371) 

’’میں ہر شیطان، زہریلے جانور اور نظر بد سے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پناہ کی دعا کرتے اور کہتے تھے:

أُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّ ہَامَّۃٍ وَّ مِنْ کُلِّ لَّامَۃٍ۔

’’میں تم دونوں کے لیے ہر شیطان، زہریلے جانور اور نظر بد سے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

اور کہتے تھے کہ ابراہیم علیہ السلام اسی طرح اسحاق و اسماعیل علیہم السلام کے لیے پناہ کی دعا کرتے تھے۔

( سنن الترمذی: رقم: 2060 یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

طب نبوی میں یہ بچوں کا منفرد علاج ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ علاج بچوں کے حفظان صحت کے اہم اصولوں میں سے ایک ہے، اور ایسا آپﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ کیا۔

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 248)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بچوں کے لیے والدین کی دعاؤں کی اہمیت اور دوسرے اہم فوائد کا تذکرہ کیا ہے، جیسے ایک طرف بچوں اور والدین کے لیے آرام و اطمینان اور حفاظت و برکت مہیا کرنا ہے، تو دوسری طرف بحکم الہٰی بچوں سے حسد، شیطان اور زمین کے زہریلے جانوروں کی برائیوں کو دور کرنا ہے، اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوی فرمان کے مطابق دعائیں عبادت کا لب لباب ہوتی ہیں، نیز اس حدیث میں اس احساس کا تذکرہ ہے کہ بندہ حقیقت میں صرف اللہ کا محتاج ہے، اور اسی کی پناہ طلب کرتاہے، اور یہ اسلام کا ایک اہم ترین مقصد ہے۔