سابقون اولون کے طبقات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سابقون اولون کے طبقات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 2

سوال نمبر 318: آپ سابقین سے کیا مراد لیتے ہیں؟

جواب: قرآن نے یوں ارشاد فرمایا ہے: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَار الخ 

سابق فی الاسلام مندرجہ ذیل طبقات میں منقسم ہیں:

1: حضرت خدیجہؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ

2: خفیہ سہ سالہ تبلیغ میں ایمان لانے والے جن کی تفصیل ابنِ ہشام سے مذکور ہو چکی۔

3: علانیہ تبلیغ اور تعذیب فی اللہ کے زمانے میں اسلام لانے والے جیسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ

4: دارالندوہ میں اسلام لانے والے کہ حضرت عمرؓ کی ترغیب اور کوشش سے مکہ کی ایک جماعت نے اسلام قبول کیا۔ (مہاجرینِؓ حبشہ ان چاروں میں سے ہیں۔)

5: عقبہ اولیٰ کی بیعت کرنے والے 11 افراد انصارؓ۔

6: عقبہ ثانیہ میں بیعت کرنے والے ستر انصار حضرات کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

7: مہاجرینِؓ مدینہ کا پہلا گروہ جو مسجدِ نبوی کی تعمیر سے پہلے بستی قباء میں ٹھہرے تھے اور مسجدِ قباء بنائی۔

8: اہلِ بدر

9: غزوۂ بدر اور صلح حدیبیہ کے درمیان ہجرت کر کے آنے والے (اہلِ احد و خندق وغیرہ انہی میں ہیں۔)

10: بیعتِ رضوان والے۔ کہ فرمانِ نبویﷺ ہے ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہ جائے گا۔ نیز فرمایا سب جنت میں جائیں گے۔

11: وہ مہاجر اور مسلمان جو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان ایمان لائے ان میں سیف اللہ حضرت خالد بن ولید، فاتح مصر عمرو بن العاص احفظ الصاحبہ حضرت ابوہریرہ جیسے حضرات (رضی اللہ عنہم) بھی ہیں۔ یہ گیارہ طبقات درجہ بدرجہ سابقون اوّلون میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سب کے متعلق اللہ کا فرمان ہے: 

اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ (سورۃ الحدید: آیت 10)

ترجمہ: ان کا درجہ فتح مکہ کے بعد والوں سے بہت بڑا ہے گو دونوں سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔

12: قریش مکہ کی وہ بڑی جماعت فتح مکہ یا اس کے بعد مسلمان ہوئی۔ عام قبائلِ عرب ان میں ہی شامل ہیں۔ جن کے ایمان و اسلام کی خدا نے یوں بشارت دی: جب اللہ کی مدد آ جائے اور (مکہ) فتح ہو جائے تو تو لوگوں کو فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتا دیکھے گا۔ تو اس وقت اپنے رب کی تعریف اور پاکی بیان کریں اور استغفار کریں۔ بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (سورۃ النصر: آیت 1، 3)

13: وہ نو عمر اور چھوٹے بچے ہیں جو فتح مکہ اور حجتہ الوداع کے موقع پر حضور اکرمﷺ سے ملے آپﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ دعا دی یا کچھ کھلایا۔

ان طبقات کی تشریح و تعیین (معمولی فرق کے ساتھ) امام حاکم نیشا پوری رحمۃ اللہ متوفی 405ھ نے معرفتہ علوم الحدیث کے ساتویں نوع میں کی ہے۔

سوال نمبر 319: حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ختنے قبول اسلام کے کتنے دن بعد ہوئے؟

جواب: ختنہ ملتِ ابراہیمی کی سنت ہے۔ عرب بچوں (بعض بچیوں تک کے) ختنے کرواتے تھے یہ بے ہودہ سوال ہے۔ کیا سائل ختنہ کے پیشے سے تعلق رکھتا ہے کہ یہ سوال کیا ہے؟

سوال نمبر 320: جنگِ بدر میں کتنے کافر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے؟

جواب: آپ اکابر جرنیلوں سے اور خاص مشیر و محافظ نبوی تھے۔ بالفعل جنگ میں قتل کرنا ضروری نہ تھا جیسے خود حضور اکرمﷺ‏ سے کوئی کافر قتل نہیں ہوا۔ چند واقعات سے آپؓ کی بزرگی اور بہادری کا اندازہ لگائیں: 

1: جب قریش کے مسلح ہو کر آنے کی حضور اکرمﷺ‏ کو خبر ملی تو آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ پوچھا۔ تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھے اور بہت اچھا کہا۔ پھر حضرت عمرؓ بن الخطاب اٹھے اور بہت اچھا کہا پھر حضرت مقدادؓ بن اسود اٹھے تو کہا: اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جو اللہ نے آپ کو سمجھایا ہو، کر گزریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ بخدا ہم وہ بات نہ کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تو اور تیرا رب جا کر لڑے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم تو تمہارے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ خواہ آپ برک غماد ( یمن کے نزدیک شہر تک) ہمیں لے جائیں۔ الخ (سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 266)

2: میدانِ جنگ متعین کرنے کے لیے آپ بدر کے قریب اترے۔ آپ سوار تھے ایک صحابی آپ کے ساتھ تھا۔ ابنِ ہشام کہتے ہیں وہ شخص سیدنا ابوبکرؓ تھے۔ (جنگی مقامات کی تعیین جرنیلوں اور خاص بہادر لوگوں کا کام ہے) (ایضاً صفحہ 267)

3: صفیں برابر کر کے جب آپ ایک خاص چھپر (کمانڈر روم) میں داخل ہوئے تو آپﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی تھے آپ کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ رسولِ خداﷺ‏ اپنے رب سے گڑگڑا کر مدد مانگتے تھے اور فرماتے تھے: اے اللہ اگر تو نے اس جماعت کو آج ہلاک کر دیا تو تیری کبھی عبادت کوئی نہ کرے گا۔ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کہتے تھے، اے اللہ کے نبیﷺ‏ یہ گڑگڑاہٹ کم کریں آپﷺ‏ کا رب یقیناً آپﷺ‏ سے وعدہ (نصرت) پورا کرے گا۔ کچھ دیر حضورﷺ کی آنکھ لگ گئی جب بیدار ہوئے تو فرمایا اے حضرت ابوبکرؓ! خوش ہو جاؤ اللہ کی مدد تیرے پاس آ چکی۔ یہ حضرت جبریل علیہ السلام اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے کھڑے ہیں۔ اس کے اگلے دانتوں پر غبار ہے۔ (سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 279)

4: یہ اکابر تو عوام کے بجائے اپنے خواص کو ٹھکانے لگانے کے زیادہ حریص تھے جیسے کفار نے پہلے مبارزہ میں اپنی برادری کے جوڑ مانگے تھے، چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے ماموں، عاص بن ہشام بن المغیرہ کو بدر میں قتل کیا۔ (ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 289) اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کو پکارا جب وہ اس دن (قبل اسلام) مشرکین کے ساتھ تھا۔ اے خبیث! ادھر آ۔ (ایضاً صفحہ، 291) مگر وہ کنی کترا گیا۔ پھر بعد از اسلام ایک دن اس نے کہا: اے باپ آپ میری زد میں تھے مگر میں نے باپ ہونے کا لحاظ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا خدا کی قسم اگر تو میری زد میں آتا تو تجھے قتل کر دیتا۔

اب سب واقعات میں حضرت ابوبکرؓ رسولِ خداﷺ‏ کے ہمراہی اور شریک ہیں۔ اور غزوہ و جہاد کا ثواب بدستور آپؓ کو مل رہا ہے۔

صفحہ 1 از 2