سابقون اولون کے طبقات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سابقون اولون کے طبقات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 2

روایت 3 کو دیکھئے کہ قصہ غار کے برعکس، عریش بدر میں حضور اکرمﷺ انتہائی متفکر اور پریشان ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ تسلی دے رہے ہیں کیونکہ وہاں حفاظتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر تھی یہاں لشکر لڑانے اور ہار جیت کی ذمہ داری حضور اقدسﷺ‏ پر تھی ہر ایک کا ذمہ داری کو محسوس کر کے متفکر و حزین ہونا فطری اور دلیلِ ایمانی تھا۔ رہا قتلِ کافر کا ثبوت نہ ملنا، تو شان میں کمی نہیں کر سکتا کیونکہ کسی کافر کو کلمہ پڑھا دینا ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے۔ حضرت وحشیؓ بن حرب (قاتلِ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ) کا اسلام قبول کرتے وقت آپﷺ نے فرمایا: دعوہ فلاسلام رجل واحد احب الی من قتل الف کافر اسے زندہ رہنے دو ایک شخص کا مسلمان ہونا میرے نزدیک ہزار کافروں کے قتل سے زیادہ پسند ہے۔

(سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 552 از مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ)

چند صفحے پہلے سوال 300 کا جواب پڑھیے کہ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے آغازِ اسلام میں کتنے لوگوں کو مسلمان کیا اور کرایا۔ وہ اسی وقت سے سب سے آگے بڑھ گئے۔ رضی اللہ عنہ۔

سوال نمبر 321: حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اصل نام والدین نے کیا رکھا تھا؟

جواب: آپؓ کا نام عبداللہ رکھا گیا، عتیق لقب تھا کیونکہ آپؓ کا چہرہ حسین اور شریف تھا۔ آپؓ کے عتیق نام کی ایک وجہ یہ لکھی ہے کہ ماں نے نذر مانی کہ اگر بچہ ہوا تو عبدالکعبہ نام رکھوں گی اور کثیر رقم بیت اللہ پر خرچ کروں گی۔ جب آپ بچ گئے اور جوان ہوئے تو عتیق نام رکھا گیا۔ گویا موت سے آزاد ہوئے۔ مسلمان ہونے تک یہ دونوں نام چلتے تھے تاآنکہ زمانہ اسلام میں رسول اللہﷺ نے آپؓ کا نام عبداللہ رکھا، عتیق کی وجہ یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ مسلمان ہوتے وقت آپﷺ نے یہ بشارت دی تھی۔ انت عتیق من النار آپ اگ سے آزاد ہیں۔

(حاشیہ سیرت ابنث ہشام: جلد، 1 صفحہ، 266)

سوال نمبر 322: مشرک ظالم ہے یا عادل؟

جواب: بحالتِ شرک ظالم ہے جب توبہ تائب اور مسلمان ہو جائے تو عادل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡئًا (سورۃ مریم: آیت 60)

ترجمہ: ہاں جو توبہ کر کے اور مسلمان ہو کر اچھے اعمال کرے تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔

بعد از اسلام جو کسی کو کافر و ظالم ہونے کا طعنہ دے وہ خود ظالم اور منکرِ قرآن ہے۔

سوال نمبر 323: کیا ظالم خلیفہ ہو سکتا ہے تو پھر لَا يَنَالُ عَهۡدِى الظّٰلِمِيۡنَ (کہ ظالموں کو میرا عہدہ نہیں مل سکے گا) کی شرط کا کیا تدراک ہو گا؟

جواب: مسلمان ہو کر جب ظالم نہ رہا، عادل بن گیا تو عہدۂ خلافت اسے مل جائے گا مگر آیت سے استدلال غیر تام ہے۔ کیونکہ یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی نبوت والی امامت و خلافت کی بات ہے۔ جس کے لیے مطلقاً معصومی شرط ہے۔ غیر نبی کی خلافت عین نبوت یا اس کا ہم مرتبہ اور افضل نہیں ہے تو پھر ایسی شرط لگانا ایجاد بندہ ہے۔ جبکہ صغر سنی کے باوجود شیعہ کے ممدوحین (قبل اسلام) ایسے افکار سے پاک ثابت نہیں کیے جا سکتے۔ ابنِ اسحاق کی مفصل روایت ملاحظہ فرمائیں:

بعثت سے اگلے روز حضرت علیؓ نے آنحضرتﷺ‏ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نماز پڑھتے دیکھا تو دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ اللہ کا دین ہے۔ یہی دین لے کر پیغمبر دنیا میں آئے۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں کہ اس کی عبادت کرو اور لات اور عُزیٰ کا انکار کرو۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کہا یہ بالکل ایک نئی چیز ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ جب تک میں نے اپنے باپ ابو طالب سے اس کا ذکر نہ کر لوں اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آپﷺ پر یہ بات شاق گزری کہ آپﷺ‏ کا راز کسی پر فاش ہو۔ اس لیے حضرت علی المرتضیٰؓ سے فرمایا کہ اے حضرت علی رضی اللہ عنہ! اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو اس کا کسی سے ذکر مت کرو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے، ایک رات گزرنے نہ پائی تھی کہ دل میں اسلام ڈال دیا گیا۔ صبح کو حضرت علیؓ نے اسلام قبول کیا اور عرصہ (ایک سال) تک اپنے اسلام کو ابو طالب سے مخفی رکھا۔ (البدایہ والنہایہ: جلد، 3 صفحہ، 24)



صفحہ 2 از 2