سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ احادیث
علی محمد الصلابیاپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم سے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ احادیث میں سے یہ بعض حدیثیں ہیں:
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا فتویٰ دینے والے صحابہ میں شمار ہوتا ہے، اسیدنا حسنؓ کا تعلق مفتیان صحابہ کے تیسرے طبقہ سے ہے۔ محدثین کرامؒ نے مفتیان صحابہؓ کو فتویٰ کی قلت و کثرت کے اعتبار سے تین طبقات میں تقسیم کیا ہے:
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ لوگ تین طرح کے تھے:
۱1۔ بکثرت فتویٰ دینے والے
2۔ اوسط درجہ کے فتویٰ دینے والے
3۔ کم فتویٰ دینے والے
ا: بکثرت فتویٰ دینے والے:
جن صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فتاویٰ محفوظ ہیں ان کی تعداد ایک سو تیس سے کچھ زائد ہے، ان میں سے بکثرت فتویٰ دینے والے سات تھے:
1۔ عمر بن خطاب 2۔ علی بن ابوطالب
3۔ عبداللہ بن مسعود 4۔ ام المؤمنین عائشہ
5۔ زید بن ثابت 6۔ عبداللہ بن عمر
7۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم ۔
ابومحمد ابن حزم کہتے ہیں:
’’ممکن ہے کہ ہر ایک کے فتاویٰ کی ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے۔‘‘
نیز کہتے ہیں:
’’ابوبکر محمد بن موسیٰ بن یعقوب بن امیر المؤمنین مامون نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فتاویٰ کو بیس جلدوں میں جمع کیا ہے، مذکور ابوبکر محمد حدیث و دیگر علوم کے ائمہ اسلام میں سے ایک ہیں۔‘‘
ب: اوسط درجہ کے فتویٰ دینے والے:
ابومحمد ابن حزم کہتے ہیں:
’’اوسط درجہ کے فتویٰ دینے والوں میں سے سیدنا ابوبکر صدیق، ام سلمہ، انس بن مالک، ابوسعید خدری، ابوہریرہ، عثمان بن عفان، عبداللہ بن عمرو بن عاص، اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ رضی اللہ عنہم تھے۔‘‘
ج: کم فتویٰ دینے والے:
مذکورہ دونوں قسموں کے علاوہ جو صحابہ کرامؓ تھے وہ کم فتویٰ دینے والے تھے، ہر ایک سے ایک مسئلہ یا دو مسئلے یا اس سے کچھ زائد مسائل سے متعلق فتاویٰ منقول ہیں اور وہ ابوالدرداء، ابوالیسر، ابوسلمہ مخزومی، ابوعبیدہ بن جراح، علی بن ابوطالب کے دونوں صاحبزادے حسن و حسین، نعمان بن بشیر، ابی بن کعب، ابوایوب، ابوطلحہ، ابوذر، ام عطیہ، ام المؤمنین صفیہ، حفصہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 12، 13، سیرۃ عائشہ: سلیمان الندوی: صفحہ 327)