تفسیر آیت مباھلہ
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 324: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضور اکرمﷺ صدیق مانتے تھے تو مباہلہ میں ساتھ کیوں نہ لیا؟
جواب: شیعوں کا مقصد کسی نہ کسی بہانے سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر طعن کرنا ہے۔ ورنہ مباہلہ کا آپ کے مناقب یا مطاعن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مباہلہ باقاعدہ ہوا نہ تھا اگر ہوتا تو آیت کے مطابق تینوں قسم کی جماعتیں مسلمانوں کی طرف سے اور تینوں نصارٰی کی طرف سے ایک میدان میں جمع ہوتیں ان میں یقیناً خلفاء راشدینؓ اور دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متبعینِ رسول ہوتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيۡهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ (سورۃ آل عمران: آیت 61)
ترجمہ: پس جو شخص تم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حجت کرے بعد اس کے کہ تمہارے پاس علم آ چکا ہے تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں، تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر ہم خدا کی طرف رجوع کریں اور خدا کی لعنت جھوٹوں پر قرار دیں۔
اور یہ متبعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرد و عورتیں ہوتے کیوں کہ عیسائیوں کے مقابل حضرت رسولﷺ کے ہمراہ خدا کے آگے یہی چہرہ جھکائے ہوئے تھے تو مباہلہ میں شریک ہونا ان کا اولین حق تھا۔ اور خدا ان کے ایمان و یقین کی شہادت دے چکا تھا۔
فَاِنۡ حَآجُّوۡكَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِىَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ (سورۃ آل عمران: آیت 20)
ترجمہ: پس اگر وہ تم سے حجت کریں تو کہہ دو کہ میں نے اور میرے تابعین (پیروکاروں) نے خدا کے سامنے (اطاعتہً) اپنا سر جھکا دیا ہے۔
روایت سے اگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضورﷺ حضرات حسنینؓ اور حضرت فاطمہؓ و حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لے کر گئے تو یہ بھی سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ اور سیدنا باقر رحمۃ اللہ سے ابنِ عساکر نے روایت کی ہے:
تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا الآیہ قال فجاء بابی بکر و ولدہ و بعمر و ولدہ و بعثمان و ولدہ و بعلی و ولدہ
ترجمہ: کہ اس آیت کے جواب میں حضور اقدسﷺ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور اس کے بیٹوں کو، حضرت عمر فاروقؓ اور اس کے بیٹوں کو، حضرت عثمان غنیؓ اور اس کے بیٹوں کو، حضرت علی المرتضیٰؓ اور اس کے بیٹوں کو لے کر آ گئے۔
(درِمنثور: جلد، 2 صفحہ، 40 روح المعانی: جلد، 1 صفحہ، 406 تفسیر آیت قرآنی: صفحہ، 442)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے تیاریاں ہو رہی تھیں اور حضورﷺ نے اپنے گھر کے ننھے بچوںؓ اور صاحبزادی رضی اللہ عنہا کو بھی تیار کر لیا تھا۔ مگر فریقِ نصاریٰ نے انکار کر دیا۔ ان کو بوڑھوں نے سمجھایا تھا کہ تم یقین سے جانتے ہو کہ محمدﷺ آخر الزمان سچے پیغمبر ہیں۔ اگر مباہلہ کرو گے تو تباہ ہو جاؤ گے چنانچہ انہوں نے بطورِ جزیہ سالانہ دو ہزار جوڑے صفر میں اور ایک ہزار رجب میں دینا منظور کر لیا اور مباہلہ کی نوبت نہ آئی۔
چاروں اہلِ بیتؓ حضرات کو تیاری کے لیے گھر بلانے کے واقعہ سے شیعوں نے عجیب ناجائز کاروائیاں کی ہیں۔
آیت کے الفاظ میں تحریفِ معنوی کی۔ حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کہہ کر آپﷺ کے برابر بنایا۔ خلیفہ بلا فصل بنایا۔ معصوم ثابت کیا۔ بناتؓ کا انکار کیا۔ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غیر مؤمن اور نااہل بتایا۔ جیسے اب مشتاق نے کیا۔ وغیرہا من الخرافات۔ اس لیے ہم مختصراً آیت سے کسی قسم کے ناجائز استدلال کی خرابیاں بیان کرتے ہیں۔
1: ان فاسد استدلالات کی بنیاد روایت پر ہے اور وہ بھی حد تواتر کو نہیں پہنچتی اور ان آیت سے تو ان کا کچھ ثبوت و ربط نہیں۔
2: اکثر روایات میں حضرت علیؓ کا بلایا جانا مذکور نہیں ہے۔ تفسیر طبری جلد 3 صفحہ 192 میں ہے:
ہم سے ابنِ حمید نے اس سے جریر نے ذکر کیا، جریر کہتا ہے کہ میں نے سیدنا مغیرہ سے کہا کہ لوگ نجران کے قصہ میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو انہوں نے کہا کہ سیدنا شعبیؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ اب میں نہیں جانتا کہ حضرت شعبی رضی اللہ عنہ نے اس وجہ سے ذکر نہیں کیا کہ بنو امیہ کا خیال حضرت علیؓ کے متعلق اچھا نہ تھا، یا دراصل واقعہ میں تھے ہی نہیں پھر اسی تفسیر میں ایک روایت سیدنا قتادہؓ سے منقول ہے اس میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
3: روایات سے تو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے ان حضرات کو بلایا، باقی رہا یہ کہ انفسنا سے مراد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں، ابناءنا سے مراد حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور نساءنا سے مراد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ یہ مضمون کسی روایت میں نہیں ہے جس نے مراد بیان کی ہے، اپنی رائے سے کی ہے لہٰذا اسے حدیثِ رسولﷺ کہنا کذب و افتراء ہے۔
4: معتبر مفسرین محققین، انفسنا سے حضرت علیؓ کی ذات مراد نہیں لیتے بلکہ حضورﷺ کی ذات مراد لیتے ہیں (طبری: جلد، 3 صفحہ، 192) کہا گیا ہے کہ الفاظ اپنے عموم پر ہیں، تمام جماعت اہلِ دین مراد ہیں۔ (معالم التنزیل)
کشاف میں ہے: یعنی ہر ایک ہم میں سے اور تم میں سے اپنے بیٹوں، عورتوں اور اپنی ذات کو مباہلہ کی طرف بلائے اور تفسیر مدارک میں بھی بالکل کشاف کی نقل ہے۔
بیضاوی میں ہے: یعنی ہر ایک ہم میں سے اور تم میں سے اپنے نفس کو اپنے عزیز گھر والوں کو بلائے۔
5: ان الفاظ کی خاص خاص مراد جس نے بھی بیان کی ہے اس کی بنیاد یہ ہے کہ اس نے خیال کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ان حضرات کو بلایا تھا تو ان الفاظ کا مصداق لامحالہ ان کو بنا دیا۔ حالانکہ یہ بنیاد ہی کچی ہے۔ ہاں اگر اہلِ نجران مباہلہ منظور کر لیتے تو اس وقت دیکھا جاتا کہ حضورﷺ کن کن لوگوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگر مباہلہ کی نوبت آتی تو اپنی ازواجِ مطہراتؓ کو ضرور ساتھ لے جاتے۔ کیونکہ نساءنا سے اور کوئی مراد نہیں ہو سکتا۔ تفسیر بحرِ محیط جلد 1 صفحہ 479 میں ہے:
اگر نجران کے عیسائی مباہلہ کے لیے آتے تو ضرور نبی کریمﷺ مسلمانوں کو حکم دیتے کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر مباہلہ کے لیے آئیں۔
6: انفسنا سے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور نساءنا سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ابناءنا سے حضرات حسنینؓ کا مراد لینا لغتِ عربی اور محاورہ قرانی کے خلاف ہے۔
انفس، نفس کی جمع ہے ہر شخص کی اپنی ذات پر بولا جاتا ہے پھر لفظ جمع سے واحد مراد لینا نا جائز ہے۔ الامجازاً، قرآن میں بھی حضور اکرمﷺ کے لیے من انفسھم من انفسکم (تم میں سے ایک) آیا ہے۔ تو صرف حضرت علی المرتضیٰؓ مراد لے کر باقی سب حاضرین یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خارج کرنا آیات کے خلاف ہے۔ حضور اقدسﷺ کے بیٹے تھے ہی نہیں۔ قرآن میں مردوں کے باپ ہونے کی آپﷺ سے نفی کی گئی ہے۔ نواسے کو ابن البنت کہتے ہیں۔ لفظ نساء جمع ہے جب کسی شخص کی طرف مضاف ہو تو اس کی بیویاں مراد ہوتی ہیں۔ جیسے يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ سے احزاب میں بار بار خطاب آپﷺ کی بیویوں کو ہوا ہے لہٰذا نساءنا سے صرف حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا مراد لینا کسی طرح درست نہیں۔ ازواج کو پہلے اس لیے نہ بلایا تھا کہ وہ لفظ کا مصداق اصلی تھیں۔ ضرورت کے وقت فوراً بلائی جا سکتی تھیں۔ حضرت فاطمہؓ کو تبعاً شامل کرنے کے لیے اہتمام کیا، جیسے کملی میں ان کو لے کر اہتمام سے اہلِ بیتؓ میں داخل کرایا اور ازواج کو داخل نہ کیا کہ وہ تو نصِ قرآنی سے اہلِ بیتؓ قرار پا ہی چکی تھیں۔
7: فریقِ مخالف نے جس ذہانت سے ان تین لفظوں کا مصداق خلافِ لغت و محاورہ قرآن ان چار حضرات کو بنایا۔ ان کا کوئی مفہوم و مصداق اسی قسم کا، برابر کے فریق عیسائیوں کے لیے بھی تجویز کیا ہے؟ حالانکہ وہاں بھی تو لغوی معنی کے تحت عام نصارٰی مرد و عورتیں، لڑکے آتے تو یہاں ان کو خارج کیوں سمجھا جاتا ہے۔
8: بالفرض مانا بھی جائے کہ انفسنا سے حضرت علیؓ مراد ہیں تو خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ حقیقتاً نفس ماننے سے شرک فی النبوت، ختمِ نبوت کا انکار اور سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے نکاح ناجائز ہو گا، لامحالہ مجازاً نفسِ رسول ہوں گے تو پھر ان کا نہ معصوم ہونا ثابت ہو گا نہ افضل الصحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہونا کیونکہ مجاز میں حقیقت کے تمام اوصاف کا ہونا ظاہر ضروری نہیں ہے۔ جیسے زید شیر ہے میں مشابہت صرف بہادری میں ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کو صدیق رسول اللہﷺ نے بارہا کہا ہے، پھر مباہلہ میں صدیقوں کو ہی لے جانا ضروری نہ تھا مؤمن اور تابعدار ہونا کافی تھا، پھر حضرات حسنینؓ کو تو صغر سنی کی وجہ سے دونوں صفتیں ابھی نہ رکھتے تھے۔ اگر وہ تبعاً للابوین شامل ہو سکتے ہیں تو متبعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بدرجہ اولیٰ شریک ہوتے۔ اگر مباہلہ منعقد ہو جاتا۔
مباہلہ کے متعلق یہ اہم باتیں ہماری کسی کتاب میں نہیں۔ اس لیے اس کتاب میں ذکر کر دی گئیں۔ ان کا ماخذ امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃ اللہ کا ایک مضمون ہے۔
ابو طالب عشاری اپنے مکمل سند کے ساتھ سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ سے روایت کرتے ہیں: کہ سیدنا محمد باقر رحمۃ اللہ کے والد حضرت علی بن حسینؓ کے پاس ایک شخص نے آ کر سوال کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق بتائیے؟ سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ نے پوچھا کہ تو حضرت صدیقِ اکبرؓ کے متعلق پوچھتا ہے؟ یہ سن کر وہ کہنے لگا۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ آپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق کے لقب سے یاد کرتے ہیں تو امام نے فرمایا کہ تیری ماں تجھ پر روئے، صدیق کا لقب تو انہیں اس ذات نے عطا فرمایا جو مجھ سے اور تجھ سے بہتر ہے یعنی رسول اللہﷺ اور مہاجرین اور انصارؓ سب نے ان کو یہ لقب دیا پھر امام نے فرمایا کہ جو شخص حضرت ابوبکرؓ کو الصدیق کے نام سے یاد نہ کرے، اللہ اس کی بات کو دونوں جہانوں میں سچا نہ کرے۔ (فضائلِ ابی بکر: صفحہ، 9 بحوالہ رحماء بینہم جلد، 1 صفحہ، 403)
پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا زین العابدینؒ تو حضرت ابوبکرؓ کو صدیق مانتے تھے اب شیعہ نہ مانیں تو ان کی بد قسمتی؟
سوال نمبر 325: حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر کس آیتِ قرآن سے فضیلت حاصل ہے؟
جواب: درجن بھر آیتیں مع تفسیر ہم نے تحفہ امامیہ باب دوم سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے خصائص صفحہ 69 تا 88 اور باب پنجم میں ذکر کر دی ہیں۔ مراجعت کریں۔ ایک آیت یہ ہے:
وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَى الَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰٓى اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى (سورۃ اللیل: آیت 17۔ 20)
ترجمہ: اور یقیناً وہ سب سے بڑا پرہیزگار اگ سے بچایا جائے گا جو اپنا مال پاک ہونے کے لیے دیتا ہے کسی کا اس پر احسان نہیں کہ بدلہ دیا جائے۔ ہاں صرف سب سے بڑی شان والے پروردگار کی رضا چاہنے کے لیے (مال دیتا ہے)۔
شیعہ تفسیر مجمع البیان جلد 5 میں بھی ہے: کہ بلا شبہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ کی شان میں اتری کیونکہ آپؓ نے ہی ان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جو مسلمان ہوئے۔ جیسے حضرت بلالؓ حضرت عامر بن فہیرہؓ وغیرہ۔
ملا باقر مجلسی نے بھی لکھا ہے کہ سیدنا بلالؓ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو غلاموں کے بدلے خریدا۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 630)
سوال نمبر 326: کوئی ایسی متواتر مرفوع بتوثیق رواۃ حدیث پیش کریں جو یہ ثابت کرے کہ حضرت ابوبکرؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں؟
جواب: تین ارشاداتِ نبوی پیشِ خدمت ہیں:
1: میری صحبت و رفاقت اور مال خرچ کرنے میں مجھ پر سب لوگوں سے زیادہ احسان سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ہے اور اگر میں کسی کو اللہ کے سوا خلیل (ہر وقت دل میں یاد رہنے والا) بناتا تو یقیناً حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بناتا لیکن اسلامی محبت اور اخوت باقی ہے مسجد میں سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کھڑکی اور نہ چھوڑی جائے۔ (بخاری و مسلم) اس سے پتہ چلا کہ جب پیغمبرِ اسلام اور دین کی خدمات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سب سے زیادہ ہیں بعد از خدا وہی رسولِ خداﷺ کے دل میں بستے ہیں تو وہی بشمول حضرت علیؓ سب سے افضل ہیں۔
2: سیدنا عمرو بن العاصؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا سب لوگوں سے زیادہ پیارا آپﷺ کو کون ہے؟ فرمایا سیدہ عائشہؓ، میں نے پوچھا مردوں سے کون؟ فرمایا اس کے باپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر اور آدمیوں کے نام بھی گنے، میں چپ ہو گیا کہ شاید مجھے آخر میں ذکر کریں۔ (بخاری و مسلم) خونی رشتے کے سوا اعمال کی حیثیت سے جو رسولِ خداﷺ کو سب سے پیارا ہو وہی سب سے اتقی اور افضل ہوا۔ اہلِ سنت کے اتفاق سے بخاری و مسلم کی سب حدیثیں صحیح ہیں۔ راویوں کی پڑتال نہیں کی جاتی۔
3: ابو داؤد جلد 2 صفحہ 280 باب التفضیل مرفوع حدیث تقریری ہے:
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: کہ ہم سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہتے تھے کہ جب کہ رسول اللہﷺ زندہ تھے۔ (اور سنا کرتے تھے) حضور اکرمﷺ کے بعد امت کے سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر سیدنا عمر فاروقؓ ہیں پھر حضرت عثمانِ غنیؓ ہیں۔ (رضی اللہ عنہم) اس کے راوی چھ ہیں:
1: احمد بن صالح: المصری ابو جعفر بن الطبری ثقتہ حافظ من العاشرۃ نسائی نے غلط فہمی اور اوہام قلیلہ کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ تقریب
2: عنبسہ: بن خالد بن یزید الاموی مولاھم الایلی صدوق من التاسعہ مات 198ھ
3: یونس: بن سیف الکلاعی، الحمحی مقبول من الرابعہ ووہم من سماہ یوسف
4: ابنِ شہاب زھری: محمد بن مسلم بن عبیداللہ ابوبکر الزہری الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ۔
5: سالم بن عبداللہ: بن عمر القرشی العدوی احد الفقہاء السبعہ وکان ثبتا عادلا فاضلا کان یشبہ بابیہ فی الہدی والسمت من کبار الثالثہ مات فی آخر 106ھ
6: سیدنا عبداللہ بن عمر ابن الخطاب: جلیل القدر صحابی ہیں۔ کثیر الروایتہ یکے از عبادلہ اربعہ اور سب لوگوں سے زیادہ متبع سنت تھے۔ 73ھ میں (حجاج کے زہر سے) شہادت پائی۔
4: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اپنا فیصلہ بھی یہی ہے، محمد بن حنفیہ بن علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا۔ امت میں سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا: سیدنا عمرؓ میں نے کہا پھر آپ ہیں؟ فرمایا: میں ایک مسلمان آدمی ہوں۔ (بخاری) ازالۃ الخلفاء میں ہے کہ اسی سندوں سے مروی ہے۔
خیر ھذہ الامة بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر و لا یفضلنی احد علیھما الا جلدتہ جلد المفتری
ترجمہ: اس امت کے سب سے بہتر نبی کریمﷺ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ ہیں پھر حضرت عمرؓ ہیں۔ مجھے ان دونوں سے جو افضل کہے گا میں اسے جھوٹے کی سزا کوڑے ماروں گا۔
سوال نمبر 327: ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے سب الشیخین وقتلھما لیس بکفر پھر شیعوں پر انکارِ فضیلت کی وجہ سے کیوں بے ہودہ فتوے لگاتے ہیں؟
جواب: یہ قول مرجوح ہے۔ اس پر مفصل بحث ہماری کتاب عدالتِ صحابہؓ صفحہ، 246 تا 251 دیکھیے کہ ساب شیخین کی تکفیر پر دسیوں فتوے نقل کیے گئے ہیں۔ اس قول کی تاویل یہ ہے کہ ایک مسلمان کی مسلمان کے ساتھ یہ کاروائی کفر نہیں کیونکہ قتلِ مسلم اور اسے گالی دینا قریب الکفر گناہِ کبیرہ اور فسق ہے۔ لیکن جب صحابیت، ایمان، خلافت، جمع قران، مرتدین و منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ وغیرہ کارناموں کی نفی کی یا بغض کی وجہ سے ان کو برا بھلا کہا تو یقیناً کافر ہو گا خصوصاً جب کہ اس ساب کے دیگر شرکیہ کفریہ عقائد اپنی جگہ حقیقت ہیں۔
شیعہ امامیہ اثناء عشریہ صرف حضرت علیؓ پر آپؓ کی افضلیت کا انکار نہیں کرتے بلکہ وہ آپؓ کو مؤمن، سچا مسلم اور محترم صحابی رسول بھی نہیں مانتے تو قران و حدیث کی دسیوں نصوص کے انکار کی وجہ سے کافر قرار پاتے ہیں۔
سوال نمبر 328: اللہ کی بنائی ہوئی شے اچھی ہے یا بندوں کی؟
جواب: مجہول سوال ہے۔ اللہ کی مخلوق اچھی چیزیں بھی ہیں اور بری (نقصان دہ) بھی۔ بندوں کے کام اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ اگر خلافتِ راشدہ پر طعن مقصود ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ وہ بھی خدا کی بنائی ہوئی تھی کہ قران میں مومنین صالحین سے خلافت اور اقتدارِ ارضی کا وعدہ تھا تمام مسلمانوں کی تائید سے اسے تمکین دینِ الہٰی نصیب ہوئی۔
جب کہ شیعہ کی فرضی امامت کو خدا کی بنائی ہوئی کہنا صریح جھوٹ ہے اور چار مسلمانوں کی بھی اسے تائید حاصل نہ ہو سکی۔ ہاں بعد میں اسے منوانے کے لیے قران، توحید، ختمِ نبوت، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اور امت کو ایک متعہ مجسم ذاکر اور ظاہر الفسق مجتہد کے بنائے ہوئے امام باڑہ پر قربان کرنا پڑا۔
سوال نمبر 329: گنہگار و خاطی بہتر ہے یا بے گناہ و معصوم؟
جواب: یہ بھی لایعنی سوال ہے۔ ہم خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور حضرت علیؓ کے درمیان اس تفریق کے قائل ہی نہیں سب کو یکساں نیک، عادل اور راشد مانتے ہیں۔ گنہگار یا معصوم کسی کو نہیں کہتے ہیں۔ تقاضا بشریت سے کسی بات میں بھول یا خطاء ممکن تصور کرتے ہیں۔
سوال نمبر 330: شجاع و عالم افضل ہو گا یا جاہل و بزدل؟
جواب: خلفاء اربعہ راشدینؓ میں یہ تفریق بھی مسلم نہیں۔ سب بہادر عالم تھے۔ جہالت ان شیعوں کو نصیب ہو جو اپنے اقرار سے قرآن و سنتِ نبوی سے محروم ہیں۔ بزدلی کا یونیفارم ان رافضیوں کو مبارک ہو جو شیرِ خدا کے ساتھ ہو کر ان کی جنگی ناکامیوں کا سبب بنے۔ (خطبات نہج البلاغہ) پھر تو کسی امام کا ساتھ نہ دیا۔ بارہویں تاجدار امامت اپنے شیعوں کے خوف سے ہی بارہ سو برس سے عراق کی ایک غار میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کی امامت کا غاصب تیرہواں امام خمینی لاکھوں شیعوں کو کاٹ چکا ہے یا کٹوا چکا ہے۔ مگر امام العصر کو ان مظلوموں کی امداد کی توفیق یا جرأت نہیں ہے۔
(ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَـغۡيِهِمۡ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ)
سوال نمبر 331: اگر مستحق گھر میں ہو تو بیرونی حق داروں سے اس کا حق مقدم ہو گا یا نہیں؟
جواب: حق دار وہی ہو گا جس کو حق دینے والا حق ادا کرے خواہ وہ بروقت گھر نہ ہو تو اسے بلوا کر دے۔ جب مرضِ وفات میں آپﷺ نماز نہ پڑھا سکتے تھے تو اتفاقاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس گھڑی موجود نہ تھے۔ آپﷺ نے گھر والے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حکم نہیں دیا کہ تم میرے جانشین اور نائب بن کر نماز پڑھا دو سنی و شیعہ یا دنیا کے کسی کتاب میں یہاں امامتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ سے لوگوں نے کہا نماز پڑھا دو (کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو موجود نہیں) سیدنا عمر فاروقؓ نے نماز پڑھائی تو حضورﷺ نے آواز سن کر کہا:
این ابو بکر! یابی اللہ ذلک والمسلمون
(ریاض النضرۃ: جلد، 1 صفحہ، 150 بلفظہ بخاری، مسلم، ابو داؤد)
ترجمہ: سیدنا ابوبکر صدیقؓ کہاں ہیں؟ (ان کو نماز پڑھانے کا کہو)، خدا اور مسلمان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا (اب) کسی کو امام نہیں بناتے۔
چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دوبارہ نماز پڑھائی۔ یہی حق دار کو حق دینا تھا خود شیعہ کو بھی اعتراف ہے: معمولی بیماری میں تو آپﷺ خود نماز پڑھاتے تھے۔ جب مرض میں اضافہ ہو گیا تو حضور اکرمﷺ نے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تو حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اس دن کے بعد دو دن تک نمازیں پڑھائیں پھر حضور اقدسﷺ نے رحلت فرمائی۔ (درہ نجفیہ: صفحہ، 225 شرح نہج البلاغہ، ناسخ التواریخ: جلد، 1 صفحہ، 547 طبری: جلد، 3 صفحہ، 196)
سوال نمبر 332: حدیث چار یار (ترمذی جلد 2) میں حضرت ابوبکرؓ کا نام کیوں نہیں ہے؟
جواب: یہ مخالف سوچ ہی غلط ہے کہ کسی بزرگ کی فضیلت میں جو روایت مذکور ہو۔ تو اس روایت میں کسی اور بزرگ کا نام نہ پا کر اس پر عیب لگایا جائے کہ فلاں کا نام کیوں نہیں؟ جبکہ اس کی فضیلت میں اس سے زائد اوصاف و کمالات دیگر روایات میں منقول ہوں اگر جدا جدا یہ فضائل مذکور نہ ہوں تو محدثین کو ہر ایک کے نام کے ساتھ الگ الگ باب کیوں باندھنے پڑیں۔ اب اس روایت میں حضرت حسنینؓ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے کیا ان سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دشمنی رکھتے تھے یا ان سے محبتِ نبوی حکمِ خدا کے بر خلاف تھی؟
جب اس قسم کی حدیث ترمذی جلد 2صفحہ 243 مناقب اہلِ بیتؓ میں ہے: کہ جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بتائیے حضرت ابوذرؓ سے جنت کو کیوں دشمنی ہے؟ اور وہ آپﷺ کے ان چار یاروں سے کیوں خارج ہیں۔ حالانکہ ان کے متعلق حضور اقدسﷺ کا یہ ارشاد ہے: کہ سیدنا ابوذرؓ سے زیادہ سچے پر نہ آسمان نے سایہ کیا نہ اسے زمین نے اٹھایا۔ (ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 244) تو کیا آپ کے باقی تین یار سچے نہ تھے؟ کاش شیعہ فضائل و کمالات کے باب میں اور احادیثِ نبویﷺ میں امانت و دیانت سے دیکھتے۔ تو انہیں خلفاء راشدین و عشرہ مبشرہؓ سمیت تمام بزرگوں کے مشترکہ اور جدا جدا فضائل نظر آ جاتے پھر نہ وہ کسی کے شیعہ اور دھڑے باز بنتے نہ کسی کے منکر و دشمن ہوتے۔ حدیث کے ترجمہ میں سیدنا علیؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا علیؓ لکھ کر سائل نے خیانت کی اور مشرکانہ ذہنیت کا ثبوت دیا۔ صحیح ترجمہ یہ ہے: پوچھا گیا یا رسول اللہﷺ! ان کے نام لیجیے تو فرمایا: حضرت علیؓ ان میں سے ہیں۔ یہ تین دفعہ فرمایا اور سیدنا ابوذر، سیدنا مقداد، اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہم۔ الخ