تفسیر آیت مباھلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت مباھلہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

سوال نمبر 324: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضور اکرمﷺ صدیق مانتے تھے تو مباہلہ میں ساتھ کیوں نہ لیا؟

جواب: شیعوں کا مقصد کسی نہ کسی بہانے سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر طعن کرنا ہے۔ ورنہ مباہلہ کا آپ کے مناقب یا مطاعن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مباہلہ باقاعدہ ہوا نہ تھا اگر ہوتا تو آیت کے مطابق تینوں قسم کی جماعتیں مسلمانوں کی طرف سے اور تینوں نصارٰی کی طرف سے ایک میدان میں جمع ہوتیں ان میں یقیناً خلفاء راشدینؓ اور دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متبعینِ رسول ہوتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيۡهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ (سورۃ آل عمران: آیت 61)

ترجمہ: پس جو شخص تم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حجت کرے بعد اس کے کہ تمہارے پاس علم آ چکا ہے تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں، تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر ہم خدا کی طرف رجوع کریں اور خدا کی لعنت جھوٹوں پر قرار دیں۔

اور یہ متبعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرد و عورتیں ہوتے کیوں کہ عیسائیوں کے مقابل حضرت رسولﷺ کے ہمراہ خدا کے آگے یہی چہرہ جھکائے ہوئے تھے تو مباہلہ میں شریک ہونا ان کا اولین حق تھا۔ اور خدا ان کے ایمان و یقین کی شہادت دے چکا تھا۔

فَاِنۡ حَآجُّوۡكَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِىَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ‌ (سورۃ آل عمران: آیت 20)

ترجمہ: پس اگر وہ تم سے حجت کریں تو کہہ دو کہ میں نے اور میرے تابعین (پیروکاروں) نے خدا کے سامنے (اطاعتہً) اپنا سر جھکا دیا ہے۔ 

روایت سے اگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضورﷺ‏ حضرات حسنینؓ اور حضرت فاطمہؓ و حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لے کر گئے تو یہ بھی سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ اور سیدنا باقر رحمۃ اللہ سے ابنِ عساکر نے روایت کی ہے:

تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا الآیہ قال فجاء بابی بکر و ولدہ و بعمر و ولدہ و بعثمان و ولدہ و بعلی و ولدہ

ترجمہ: کہ اس آیت کے جواب میں حضور اقدسﷺ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور اس کے بیٹوں کو، حضرت عمر فاروقؓ اور اس کے بیٹوں کو، حضرت عثمان غنیؓ اور اس کے بیٹوں کو، حضرت علی المرتضیٰؓ اور اس کے بیٹوں کو لے کر آ گئے۔

(درِمنثور: جلد، 2 صفحہ، 40 روح المعانی: جلد، 1 صفحہ، 406 تفسیر آیت قرآنی: صفحہ، 442)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے تیاریاں ہو رہی تھیں اور حضورﷺ نے اپنے گھر کے ننھے بچوںؓ اور صاحبزادی رضی اللہ عنہا کو بھی تیار کر لیا تھا۔ مگر فریقِ نصاریٰ نے انکار کر دیا۔ ان کو بوڑھوں نے سمجھایا تھا کہ تم یقین سے جانتے ہو کہ محمدﷺ آخر الزمان سچے پیغمبر ہیں۔ اگر مباہلہ کرو گے تو تباہ ہو جاؤ گے چنانچہ انہوں نے بطورِ جزیہ سالانہ دو ہزار جوڑے صفر میں اور ایک ہزار رجب میں دینا منظور کر لیا اور مباہلہ کی نوبت نہ آئی۔ 

چاروں اہلِ بیتؓ حضرات کو تیاری کے لیے گھر بلانے کے واقعہ سے شیعوں نے عجیب ناجائز کاروائیاں کی ہیں۔

 آیت کے الفاظ میں تحریفِ معنوی کی۔ حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کہہ کر آپﷺ‏ کے برابر بنایا۔ خلیفہ بلا فصل بنایا۔ معصوم ثابت کیا۔ بناتؓ کا انکار کیا۔ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غیر مؤمن اور نااہل بتایا۔ جیسے اب مشتاق نے کیا۔ وغیرہا من الخرافات۔ اس لیے ہم مختصراً آیت سے کسی قسم کے ناجائز استدلال کی خرابیاں بیان کرتے ہیں۔

1: ان فاسد استدلالات کی بنیاد روایت پر ہے اور وہ بھی حد تواتر کو نہیں پہنچتی اور ان آیت سے تو ان کا کچھ ثبوت و ربط نہیں۔

2: اکثر روایات میں حضرت علیؓ کا بلایا جانا مذکور نہیں ہے۔ تفسیر طبری جلد 3 صفحہ 192 میں ہے:

ہم سے ابنِ حمید نے اس سے جریر نے ذکر کیا، جریر کہتا ہے کہ میں نے سیدنا مغیرہ سے کہا کہ لوگ نجران کے قصہ میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو انہوں نے کہا کہ سیدنا شعبیؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ اب میں نہیں جانتا کہ حضرت شعبی رضی اللہ عنہ نے اس وجہ سے ذکر نہیں کیا کہ بنو امیہ کا خیال حضرت علیؓ کے متعلق اچھا نہ تھا، یا دراصل واقعہ میں تھے ہی نہیں پھر اسی تفسیر میں ایک روایت سیدنا قتادہؓ سے منقول ہے اس میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔

3: روایات سے تو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے ان حضرات کو بلایا، باقی رہا یہ کہ انفسنا سے مراد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں، ابناءنا سے مراد حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور نساءنا سے مراد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ یہ مضمون کسی روایت میں نہیں ہے جس نے مراد بیان کی ہے، اپنی رائے سے کی ہے لہٰذا اسے حدیثِ رسولﷺ کہنا کذب و افتراء ہے۔

4: معتبر مفسرین محققین، انفسنا سے حضرت علیؓ کی ذات مراد نہیں لیتے بلکہ حضورﷺ کی ذات مراد لیتے ہیں (طبری: جلد، 3 صفحہ، 192) کہا گیا ہے کہ الفاظ اپنے عموم پر ہیں، تمام جماعت اہلِ دین مراد ہیں۔ (معالم التنزیل)

کشاف میں ہے: یعنی ہر ایک ہم میں سے اور تم میں سے اپنے بیٹوں، عورتوں اور اپنی ذات کو مباہلہ کی طرف بلائے اور تفسیر مدارک میں بھی بالکل کشاف کی نقل ہے۔ 

بیضاوی میں ہے: یعنی ہر ایک ہم میں سے اور تم میں سے اپنے نفس کو اپنے عزیز گھر والوں کو بلائے۔

صفحہ 1 از 4