تفسیر آیت مباھلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت مباھلہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

5: ان الفاظ کی خاص خاص مراد جس نے بھی بیان کی ہے اس کی بنیاد یہ ہے کہ اس نے خیال کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ان حضرات کو بلایا تھا تو ان الفاظ کا مصداق لامحالہ ان کو بنا دیا۔ حالانکہ یہ بنیاد ہی کچی ہے۔ ہاں اگر اہلِ نجران مباہلہ منظور کر لیتے تو اس وقت دیکھا جاتا کہ حضورﷺ کن کن لوگوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگر مباہلہ کی نوبت آتی تو اپنی ازواجِ مطہراتؓ کو ضرور ساتھ لے جاتے۔ کیونکہ نساءنا سے اور کوئی مراد نہیں ہو سکتا۔ تفسیر بحرِ محیط جلد 1 صفحہ 479 میں ہے:

اگر نجران کے عیسائی مباہلہ کے لیے آتے تو ضرور نبی کریمﷺ‏ مسلمانوں کو حکم دیتے کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر مباہلہ کے لیے آئیں۔

6: انفسنا سے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور نساءنا سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ابناءنا سے حضرات حسنینؓ کا مراد لینا لغتِ عربی اور محاورہ قرانی کے خلاف ہے۔

انفس، نفس کی جمع ہے ہر شخص کی اپنی ذات پر بولا جاتا ہے پھر لفظ جمع سے واحد مراد لینا نا جائز ہے۔ الامجازاً، قرآن میں بھی حضور اکرمﷺ‏ کے لیے من انفسھم من انفسکم (تم میں سے ایک) آیا ہے۔ تو صرف حضرت علی المرتضیٰؓ مراد لے کر باقی سب حاضرین یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خارج کرنا آیات کے خلاف ہے۔ حضور اقدسﷺ‏ کے بیٹے تھے ہی نہیں۔ قرآن میں مردوں کے باپ ہونے کی آپﷺ سے نفی کی گئی ہے۔ نواسے کو ابن البنت کہتے ہیں۔ لفظ نساء جمع ہے جب کسی شخص کی طرف مضاف ہو تو اس کی بیویاں مراد ہوتی ہیں۔ جیسے يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ سے احزاب میں بار بار خطاب آپﷺ کی بیویوں کو ہوا ہے لہٰذا نساءنا سے صرف حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا مراد لینا کسی طرح درست نہیں۔ ازواج کو پہلے اس لیے نہ بلایا تھا کہ وہ لفظ کا مصداق اصلی تھیں۔ ضرورت کے وقت فوراً بلائی جا سکتی تھیں۔ حضرت فاطمہؓ کو تبعاً شامل کرنے کے لیے اہتمام کیا، جیسے کملی میں ان کو لے کر اہتمام سے اہلِ بیتؓ میں داخل کرایا اور ازواج کو داخل نہ کیا کہ وہ تو نصِ قرآنی سے اہلِ بیتؓ قرار پا ہی چکی تھیں۔

7: فریقِ مخالف نے جس ذہانت سے ان تین لفظوں کا مصداق خلافِ لغت و محاورہ قرآن ان چار حضرات کو بنایا۔ ان کا کوئی مفہوم و مصداق اسی قسم کا، برابر کے فریق عیسائیوں کے لیے بھی تجویز کیا ہے؟ حالانکہ وہاں بھی تو لغوی معنی کے تحت عام نصارٰی مرد و عورتیں، لڑکے آتے تو یہاں ان کو خارج کیوں سمجھا جاتا ہے۔

8: بالفرض مانا بھی جائے کہ انفسنا سے حضرت علیؓ مراد ہیں تو خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ حقیقتاً نفس ماننے سے شرک فی النبوت، ختمِ نبوت کا انکار اور سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے نکاح ناجائز ہو گا، لامحالہ مجازاً نفسِ رسول ہوں گے تو پھر ان کا نہ معصوم ہونا ثابت ہو گا نہ افضل الصحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہونا کیونکہ مجاز میں حقیقت کے تمام اوصاف کا ہونا ظاہر ضروری نہیں ہے۔ جیسے زید شیر ہے میں مشابہت صرف بہادری میں ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کو صدیق رسول اللہﷺ نے بارہا کہا ہے، پھر مباہلہ میں صدیقوں کو ہی لے جانا ضروری نہ تھا مؤمن اور تابعدار ہونا کافی تھا، پھر حضرات حسنینؓ کو تو صغر سنی کی وجہ سے دونوں صفتیں ابھی نہ رکھتے تھے۔ اگر وہ تبعاً للابوین شامل ہو سکتے ہیں تو متبعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بدرجہ اولیٰ شریک ہوتے۔ اگر مباہلہ منعقد ہو جاتا۔

مباہلہ کے متعلق یہ اہم باتیں ہماری کسی کتاب میں نہیں۔ اس لیے اس کتاب میں ذکر کر دی گئیں۔ ان کا ماخذ امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃ اللہ کا ایک مضمون ہے۔

ابو طالب عشاری اپنے مکمل سند کے ساتھ سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ سے روایت کرتے ہیں: کہ سیدنا محمد باقر رحمۃ اللہ کے والد حضرت علی بن حسینؓ کے پاس ایک شخص نے آ کر سوال کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق بتائیے؟ سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ نے پوچھا کہ تو حضرت صدیقِ اکبرؓ کے متعلق پوچھتا ہے؟ یہ سن کر وہ کہنے لگا۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ آپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق کے لقب سے یاد کرتے ہیں تو امام نے فرمایا کہ تیری ماں تجھ پر روئے، صدیق کا لقب تو انہیں اس ذات نے عطا فرمایا جو مجھ سے اور تجھ سے بہتر ہے یعنی رسول اللہﷺ اور مہاجرین اور انصارؓ سب نے ان کو یہ لقب دیا پھر امام نے فرمایا کہ جو شخص حضرت ابوبکرؓ کو الصدیق کے نام سے یاد نہ کرے، اللہ اس کی بات کو دونوں جہانوں میں سچا نہ کرے۔ (فضائلِ ابی بکر: صفحہ، 9 بحوالہ رحماء بینہم جلد، 1 صفحہ، 403)

پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا زین العابدینؒ تو حضرت ابوبکرؓ کو صدیق مانتے تھے اب شیعہ نہ مانیں تو ان کی بد قسمتی؟

سوال نمبر 325: حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر کس آیتِ قرآن سے فضیلت حاصل ہے؟

جواب: درجن بھر آیتیں مع تفسیر ہم نے تحفہ امامیہ باب دوم سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے خصائص صفحہ 69 تا 88 اور باب پنجم میں ذکر کر دی ہیں۔ مراجعت کریں۔ ایک آیت یہ ہے:

وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَى الَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى‌ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰٓى اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى‌ (سورۃ اللیل: آیت 17۔ 20)

ترجمہ: اور یقیناً وہ سب سے بڑا پرہیزگار اگ سے بچایا جائے گا جو اپنا مال پاک ہونے کے لیے دیتا ہے کسی کا اس پر احسان نہیں کہ بدلہ دیا جائے۔ ہاں صرف سب سے بڑی شان والے پروردگار کی رضا چاہنے کے لیے (مال دیتا ہے)۔

شیعہ تفسیر مجمع البیان جلد 5 میں بھی ہے: کہ بلا شبہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ کی شان میں اتری کیونکہ آپؓ نے ہی ان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جو مسلمان ہوئے۔ جیسے حضرت بلالؓ حضرت عامر بن فہیرہؓ وغیرہ۔

ملا باقر مجلسی نے بھی لکھا ہے کہ سیدنا بلالؓ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو غلاموں کے بدلے خریدا۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 630)

سوال نمبر 326: کوئی ایسی متواتر مرفوع بتوثیق رواۃ حدیث پیش کریں جو یہ ثابت کرے کہ حضرت ابوبکرؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں؟

جواب: تین ارشاداتِ نبوی پیشِ خدمت ہیں:

صفحہ 2 از 4