تفسیر آیت مباھلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت مباھلہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

1: میری صحبت و رفاقت اور مال خرچ کرنے میں مجھ پر سب لوگوں سے زیادہ احسان سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ہے اور اگر میں کسی کو اللہ کے سوا خلیل (ہر وقت دل میں یاد رہنے والا) بناتا تو یقیناً حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بناتا لیکن اسلامی محبت اور اخوت باقی ہے مسجد میں سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کھڑکی اور نہ چھوڑی جائے۔ (بخاری و مسلم) اس سے پتہ چلا کہ جب پیغمبرِ اسلام اور دین کی خدمات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سب سے زیادہ ہیں بعد از خدا وہی رسولِ خداﷺ‏ کے دل میں بستے ہیں تو وہی بشمول حضرت علیؓ سب سے افضل ہیں۔

2: سیدنا عمرو بن العاصؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا سب لوگوں سے زیادہ پیارا آپﷺ کو کون ہے؟ فرمایا سیدہ عائشہؓ، میں نے پوچھا مردوں سے کون؟ فرمایا اس کے باپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر اور آدمیوں کے نام بھی گنے، میں چپ ہو گیا کہ شاید مجھے آخر میں ذکر کریں۔ (بخاری و مسلم) خونی رشتے کے سوا اعمال کی حیثیت سے جو رسولِ خداﷺ‏ کو سب سے پیارا ہو وہی سب سے اتقی اور افضل ہوا۔ اہلِ سنت کے اتفاق سے بخاری و مسلم کی سب حدیثیں صحیح ہیں۔ راویوں کی پڑتال نہیں کی جاتی۔

3: ابو داؤد جلد 2 صفحہ 280 باب التفضیل مرفوع حدیث تقریری ہے: 

حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: کہ ہم سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہتے تھے کہ جب کہ رسول اللہﷺ زندہ تھے۔ (اور سنا کرتے تھے) حضور اکرمﷺ‏ کے بعد امت کے سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر سیدنا عمر فاروقؓ ہیں پھر حضرت عثمانِ غنیؓ ہیں۔ (رضی اللہ عنہم) اس کے راوی چھ ہیں:

1: احمد بن صالح: المصری ابو جعفر بن الطبری ثقتہ حافظ من العاشرۃ نسائی نے غلط فہمی اور اوہام قلیلہ کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ تقریب

2: عنبسہ: بن خالد بن یزید الاموی مولاھم الایلی صدوق من التاسعہ مات 198ھ

 3: یونس: بن سیف الکلاعی، الحمحی مقبول من الرابعہ ووہم من سماہ یوسف

4: ابنِ شہاب زھری: محمد بن مسلم بن عبیداللہ ابوبکر الزہری الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ۔

5: سالم بن عبداللہ: بن عمر القرشی العدوی احد الفقہاء السبعہ وکان ثبتا عادلا فاضلا کان یشبہ بابیہ فی الہدی والسمت من کبار الثالثہ مات فی آخر 106ھ 

6: سیدنا عبداللہ بن عمر ابن الخطاب: جلیل القدر صحابی ہیں۔ کثیر الروایتہ یکے از عبادلہ اربعہ اور سب لوگوں سے زیادہ متبع سنت تھے۔ 73ھ میں (حجاج کے زہر سے) شہادت پائی۔

4: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اپنا فیصلہ بھی یہی ہے، محمد بن حنفیہ بن علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا۔ امت میں سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا: سیدنا عمرؓ میں نے کہا پھر آپ ہیں؟ فرمایا: میں ایک مسلمان آدمی ہوں۔ (بخاری) ازالۃ الخلفاء میں ہے کہ اسی سندوں سے مروی ہے۔

خیر ھذہ الامة بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر و لا یفضلنی احد علیھما الا جلدتہ جلد المفتری

ترجمہ: اس امت کے سب سے بہتر نبی کریمﷺ‏ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ ہیں پھر حضرت عمرؓ ہیں۔ مجھے ان دونوں سے جو افضل کہے گا میں اسے جھوٹے کی سزا کوڑے ماروں گا۔

سوال نمبر 327: ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے سب الشیخین وقتلھما لیس بکفر پھر شیعوں پر انکارِ فضیلت کی وجہ سے کیوں بے ہودہ فتوے لگاتے ہیں؟ 

جواب: یہ قول مرجوح ہے۔ اس پر مفصل بحث ہماری کتاب عدالتِ صحابہؓ صفحہ، 246 تا 251 دیکھیے کہ ساب شیخین کی تکفیر پر دسیوں فتوے نقل کیے گئے ہیں۔ اس قول کی تاویل یہ ہے کہ ایک مسلمان کی مسلمان کے ساتھ یہ کاروائی کفر نہیں کیونکہ قتلِ مسلم اور اسے گالی دینا قریب الکفر گناہِ کبیرہ اور فسق ہے۔ لیکن جب صحابیت، ایمان، خلافت، جمع قران، مرتدین و منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ وغیرہ کارناموں کی نفی کی یا بغض کی وجہ سے ان کو برا بھلا کہا تو یقیناً کافر ہو گا خصوصاً جب کہ اس ساب کے دیگر شرکیہ کفریہ عقائد اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ 

شیعہ امامیہ اثناء عشریہ صرف حضرت علیؓ پر آپؓ کی افضلیت کا انکار نہیں کرتے بلکہ وہ آپؓ کو مؤمن، سچا مسلم اور محترم صحابی رسول بھی نہیں مانتے تو قران و حدیث کی دسیوں نصوص کے انکار کی وجہ سے کافر قرار پاتے ہیں۔

سوال نمبر 328: اللہ کی بنائی ہوئی شے اچھی ہے یا بندوں کی؟

جواب: مجہول سوال ہے۔ اللہ کی مخلوق اچھی چیزیں بھی ہیں اور بری (نقصان دہ) بھی۔ بندوں کے کام اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ اگر خلافتِ راشدہ پر طعن مقصود ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ وہ بھی خدا کی بنائی ہوئی تھی کہ قران میں مومنین صالحین سے خلافت اور اقتدارِ ارضی کا وعدہ تھا تمام مسلمانوں کی تائید سے اسے تمکین دینِ الہٰی نصیب ہوئی۔

جب کہ شیعہ کی فرضی امامت کو خدا کی بنائی ہوئی کہنا صریح جھوٹ ہے اور چار مسلمانوں کی بھی اسے تائید حاصل نہ ہو سکی۔ ہاں بعد میں اسے منوانے کے لیے قران، توحید، ختمِ نبوت، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اور امت کو ایک متعہ مجسم ذاکر اور ظاہر الفسق مجتہد کے بنائے ہوئے امام باڑہ پر قربان کرنا پڑا۔

سوال نمبر 329: گنہگار و خاطی بہتر ہے یا بے گناہ و معصوم؟

جواب: یہ بھی لایعنی سوال ہے۔ ہم خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور حضرت علیؓ کے درمیان اس تفریق کے قائل ہی نہیں سب کو یکساں نیک، عادل اور راشد مانتے ہیں۔ گنہگار یا معصوم کسی کو نہیں کہتے ہیں۔ تقاضا بشریت سے کسی بات میں بھول یا خطاء ممکن تصور کرتے ہیں۔

سوال نمبر 330: شجاع و عالم افضل ہو گا یا جاہل و بزدل؟

صفحہ 3 از 4