تفسیر آیت مباھلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت مباھلہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

جواب: خلفاء اربعہ راشدینؓ میں یہ تفریق بھی مسلم نہیں۔ سب بہادر عالم تھے۔ جہالت ان شیعوں کو نصیب ہو جو اپنے اقرار سے قرآن و سنتِ نبوی سے محروم ہیں۔ بزدلی کا یونیفارم ان رافضیوں کو مبارک ہو جو شیرِ خدا کے ساتھ ہو کر ان کی جنگی ناکامیوں کا سبب بنے۔ (خطبات نہج البلاغہ) پھر تو کسی امام کا ساتھ نہ دیا۔ بارہویں تاجدار امامت اپنے شیعوں کے خوف سے ہی بارہ سو برس سے عراق کی ایک غار میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کی امامت کا غاصب تیرہواں امام خمینی لاکھوں شیعوں کو کاٹ چکا ہے یا کٹوا چکا ہے۔ مگر امام العصر کو ان مظلوموں کی امداد کی توفیق یا جرأت نہیں ہے۔

(ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَـغۡيِهِمۡ‌‌ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ)

سوال نمبر 331: اگر مستحق گھر میں ہو تو بیرونی حق داروں سے اس کا حق مقدم ہو گا یا نہیں؟

جواب: حق دار وہی ہو گا جس کو حق دینے والا حق ادا کرے خواہ وہ بروقت گھر نہ ہو تو اسے بلوا کر دے۔ جب مرضِ وفات میں آپﷺ نماز نہ پڑھا سکتے تھے تو اتفاقاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس گھڑی موجود نہ تھے۔ آپﷺ‏ نے گھر والے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حکم نہیں دیا کہ تم میرے جانشین اور نائب بن کر نماز پڑھا دو سنی و شیعہ یا دنیا کے کسی کتاب میں یہاں امامتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ سے لوگوں نے کہا نماز پڑھا دو (کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو موجود نہیں) سیدنا عمر فاروقؓ نے نماز پڑھائی تو حضورﷺ نے آواز سن کر کہا: 

این ابو بکر! یابی اللہ ذلک والمسلمون

(ریاض النضرۃ: جلد، 1 صفحہ، 150 بلفظہ بخاری، مسلم، ابو داؤد)

ترجمہ: سیدنا ابوبکر صدیقؓ کہاں ہیں؟ (ان کو نماز پڑھانے کا کہو)، خدا اور مسلمان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا (اب) کسی کو امام نہیں بناتے۔

چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دوبارہ نماز پڑھائی۔ یہی حق دار کو حق دینا تھا خود شیعہ کو بھی اعتراف ہے: معمولی بیماری میں تو آپﷺ خود نماز پڑھاتے تھے۔ جب مرض میں اضافہ ہو گیا تو حضور اکرمﷺ‏ نے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تو حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اس دن کے بعد دو دن تک نمازیں پڑھائیں پھر حضور اقدسﷺ‏ نے رحلت فرمائی۔ (درہ نجفیہ: صفحہ، 225 شرح نہج البلاغہ، ناسخ التواریخ: جلد، 1 صفحہ، 547 طبری: جلد، 3 صفحہ، 196)

سوال نمبر 332: حدیث چار یار (ترمذی جلد 2) میں حضرت ابوبکرؓ کا نام کیوں نہیں ہے؟

جواب: یہ مخالف سوچ ہی غلط ہے کہ کسی بزرگ کی فضیلت میں جو روایت مذکور ہو۔ تو اس روایت میں کسی اور بزرگ کا نام نہ پا کر اس پر عیب لگایا جائے کہ فلاں کا نام کیوں نہیں؟ جبکہ اس کی فضیلت میں اس سے زائد اوصاف و کمالات دیگر روایات میں منقول ہوں اگر جدا جدا یہ فضائل مذکور نہ ہوں تو محدثین کو ہر ایک کے نام کے ساتھ الگ الگ باب کیوں باندھنے پڑیں۔ اب اس روایت میں حضرت حسنینؓ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے کیا ان سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دشمنی رکھتے تھے یا ان سے محبتِ نبوی حکمِ خدا کے بر خلاف تھی؟

جب اس قسم کی حدیث ترمذی جلد 2صفحہ 243 مناقب اہلِ بیتؓ میں ہے: کہ جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بتائیے حضرت ابوذرؓ سے جنت کو کیوں دشمنی ہے؟ اور وہ آپﷺ‏ کے ان چار یاروں سے کیوں خارج ہیں۔ حالانکہ ان کے متعلق حضور اقدسﷺ‏ کا یہ ارشاد ہے: کہ سیدنا ابوذرؓ سے زیادہ سچے پر نہ آسمان نے سایہ کیا نہ اسے زمین نے اٹھایا۔ (ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 244) تو کیا آپ کے باقی تین یار سچے نہ تھے؟ کاش شیعہ فضائل و کمالات کے باب میں اور احادیثِ نبویﷺ میں امانت و دیانت سے دیکھتے۔ تو انہیں خلفاء راشدین و عشرہ مبشرہؓ سمیت تمام بزرگوں کے مشترکہ اور جدا جدا فضائل نظر آ جاتے پھر نہ وہ کسی کے شیعہ اور دھڑے باز بنتے نہ کسی کے منکر و دشمن ہوتے۔ حدیث کے ترجمہ میں سیدنا علیؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا علیؓ لکھ کر سائل نے خیانت کی اور مشرکانہ ذہنیت کا ثبوت دیا۔ صحیح ترجمہ یہ ہے: پوچھا گیا یا رسول اللہﷺ‏! ان کے نام لیجیے تو فرمایا: حضرت علیؓ ان میں سے ہیں۔ یہ تین دفعہ فرمایا اور سیدنا ابوذر، سیدنا مقداد، اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہم۔ الخ


صفحہ 4 از 4