Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ نبوی صفات

  علی محمد الصلابی

1۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اپنے ماموں ہند بن ابوہالہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (امت کے لیے) برابر غمگین اور فکر مند رہتے تھے، آپﷺ کو چین و سکون نہیں رہتا تھا، اکثر خاموش رہتے بغیر ضرورت گفتگو نہ کرتے، پوری گفتگو آپﷺ تصنع سے بچتے ہوئے پورا منہ کھول کر کرتے، آپﷺ کی گفتگو بڑی جامع، حق و باطل کے مابین فیصل اور افراط و تفریط سے عاری ہوتی، آپ کی طبیعت واخلاق میں سختی نہیں تھی، چھوٹی سے چھوٹی نعمت کو بڑی سمجھتے، اس کی مذمت نہ کرتے، کھانے پینے کی چیزوں میں عیب نہ تلاش کرتے اور نہ ان کی تعریف کرتے، دنیا آپﷺ کے غضب کا باعث نہ بنتی اور نہ ہی آپﷺ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت تھی، جب حق کو پامال ہوتے دیکھتے تو ناراض ہوتے اور اہل حق کو بدلہ دلاتے، آپ اپنے نفس کے لیے نہ ناراض ہوتے اور نہ ہی اس کے لیے بدلہ لیتے، جب آپﷺ اشارہ کرتے تو اپنی پوری ہتھیلی سے اشارہ کرتے اور جب تعجب کرتے تو اس کو پلٹ دیتے، جب گفتگو کرتے تو ہتھیلیوں کو ملا لیتے، اپنی داہنی ہتھیلی سے بائیں ہتھیلی پرمارتے، اپنے بائیں انگوٹھے کے نچلے حصہ کو داہنی ہتھیلی سے ملالیتے، جب ناراض ہوتے تو مکمل اعراض کرتے، خوش ہوتے تو نگاہ نیچی کرلیتے، آپﷺ کی اکثر و بیشتر ہنسی مسکراہٹ ہوتی، جب آپﷺ مسکراتے تو اولے جیسے آپﷺ کے صاف و شفاف دانت ظاہر ہوتے، آپ بذات خود اور دوسروں کی نگاہ میں بھاری بھرکم تھے، آپﷺ کا چہرہ چودھویں رات کی طرح چمکتا تھا، آپﷺ کے قدم اس طرح چکنے تھے کہ ان پر سے پانی پھسل جاتا تھا، جب آپﷺ زمین سے اپنے پاؤں اٹھاتے تو مکمل طور سے اور آگے جھک کر اٹھاتے، آپ کی چال میں وقار و سنجیدگی اور تیزی ہوتی جب آپﷺ چلتے تو گویا آپ کسی ڈھلان سے اتر رہے ہوں جب آپﷺ کسی کی جانب متوجہ ہوتے تو مکمل طور سے متوجہ ہوتے، آپ کی نگاہ نیچی ہوتی، آسمان سے زیادہ آپ کی نگاہ زمین پر ہوتی، آپﷺ اکثر و بیشتر کن انکھیوں سے دیکھتے، اپنے صحابہؓ کی قیادت کرتے، ہر ملاقاتی سے سلام کرنے میں پہل کرتے۔ 

(مختارات من أدب العرب لأبی الحسن الندوي: صفحہ 13)

2۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی نبی کے اوصاف اس طرح وارد ہیں:

آپﷺ نہ طبعی طور سے اور نہ ہی بہ تکلف بدزبان تھے، بازاروں میں چیخنے چلانے والے نہیں تھے، برائی کا بدلہ برائی سے نہ دے کر عفو و درگزر سے کام لیتے، جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ آپﷺ  نے کسی کو قتل نہیں کیا، آپ نے نہ کسی خادم کو مارا اور نہ ہی کسی عورت کو، اپنے اوپر کیے گئے ظلم کا بدلہ نہیں لیا، الا یہ کہ اس کا تعلق اللہ کے محارم کی پامالی سے ہو، اللہ کے محارم کی پامالی پر آپﷺ بہت ناراض ہوتے تھے، دو چیزوں میں اختیار کے وقت آپﷺ نے آسان ہی کو منتخب کیا، آپﷺ اپنے گھر میں ایک آدمی کی طرح ہوتے، کپڑوں سے جوں نکالتے، بکریوں کا دودھ دوہتے، اپنی خدمت خود کرتے، ضرورت پر بولتے، لوگوں کو متحد کرتے ان میں نفرت پیدا نہ کرتے، ہر جماعت کے معزز شخص کی تکریم کرتے اسے ان کا ذمہ دار مقرر کردیتے، لوگوں سے آپﷺ بچتے اور محتاط رہتے، ہر ایک سے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق سے ملتے، اپنے صحابہؓ کی خبرگیری کرتے اور ان کے احوال پوچھتے، اچھے کو اچھا جانتے اور اس کی ہمت افزائی کرتے، برے کو برا مانتے اور اس کی ہمت افزائی نہ کرتے، آپﷺ اعتدال پسند تھے، آپﷺ بے اعتنائی نہ برتتے کہ مبادا لوگ بھی بے اعتنائی نہ برتنے لگیں اور اکتا جائیں، آپﷺ ہر صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے، نہ حق کو چھوڑ تے اور نہ حق سے تجاوز کرتے، بہترین لوگ ہی آپﷺ کے قریب ہوتے، آپﷺ کے نزدیک لوگوں میں سے افضل وہی ہوتا جس کی خیر خواہی زیادہ ہوتی، بڑا مقام و مرتبہ والا وہی ہوتا جو دوسروں کا زیادہ غمگسار اور مددگار ہوتا، اٹھتے بیٹھتے اللہ کا ذکر کرتے، جب آپ کہیں جاتے جہاں جگہ پاتے بیٹھ جاتے اور ایسا کرنے کا حکم بھی دیتے، اپنے ساتھ ہر بیٹھنے والے پر آپ توجہ کرتے، کسی بیٹھنے والے کو دوسروں کے مقابلے میں اپنی بے عزتی کا احساس نہ ہوتا، جو آپﷺ کے ساتھ بیٹھتا، یا کسی ضرورت کے سلسلے میں گفتگو کرتا تو آپﷺ اس کے ساتھ رکے رہتے، یہاں تک کہ وہ خود چلا جائے، ضرورت مند کی یا تو ضرورت پوری کردیتے یا بڑے ہی نرم لہجے کی گفتگو سے واپس کردیتے، تمام لوگوں کو اپنی سادگی اور اچھے اخلاق کی لپیٹ میں لے لیا، اس طرح آپﷺ ان کے لیے بہ منزلہ والد کے ہوگئے، اور تمام لوگ حق میں آپﷺ کے نزدیک برابر ہوگے، آپ کی مجلس علم، حیا، صبر اور امانت کی مجلس ہوتی، اس میں نہ عورتوں پر بہتان تراشی کی جاتی اور نہ ہی ان کے عیوب کی تشہیر کی جاتی، آپﷺ کے نزدیک سب برابر ہوتے، فضیلت صرف تقویٰ والوں کو حاصل ہوتی، سب متواضع ہوتے، چھوٹے بڑوں کا احترام کرتے، بڑے چھوٹوں پر شفقت کرتے، ضرورت مند کو ترجیح دیتے، اجنبی کی حفاظت کرتے۔

(مختارات من أدب العرب لأبی الحسن الندوي: صفحہ 15)

3۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی شمائل ترمذی سے ماخوذ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اس طرح وارد ہیں:

آپﷺ ہمیشہ ہنس مکھ، اچھے اخلاق اور نرم گوشہ والے تھے، بدخلق، سخت دل، شور و ہنگامہ کرنے والے، بدکلام، عیب جو اور بخیل نہیں تھے، اَن چاہی چیزوں سے صرفِ نظر کرتے، نہ اس سے کسی کو مایوس کرتے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی کو جواب دیتے، اپنے متعلق تین چیزوں کو ترک کردیا تھا:

1۔ لڑائی جھگڑا 2۔ بڑھک پن 3۔ لایعنی بات۔

اور لوگوں سے متعلق تین چیزوں کو ترک کردیا تھا:

1۔ کسی کی مذمت نہ کرتے نہ عیب لگاتے۔

2۔ کسی کی پوشیدہ برائیوں کے پیچھے نہ پڑتے۔

3۔ وہی گفتگو کرتے جس میں ثواب کی امید ہوتی۔

جب آپﷺ گفتگو کرتے تو حاضرین اپنے سروں کو جھکا لیتے، گویا ان کے سروں پر چڑیاں ہوں، آپﷺ کی خاموشی کے وقت لوگ آپﷺ کے پاس سلیقے سے باتیں کرتے، جب کوئی بات کرتا تو لوگ غور سے سنتے، یہاں تک کہ وہ اپنی بات ختم کرلے، آپﷺ کے پاس ان کی بات ایسی ہی ہوتی جیسے ان کا پہلا شخص بول رہا ہو، جن باتوں پر لوگ ہنستے آپ بھی ہنستے، جن باتوں پر لوگ تعجب کرتے آپﷺ بھی تعجب کرتے، آپﷺ کے صحابہ کے بلائے ہوئے اجنبیوں کی سخت کلامی اور سوال کی سختی پر آپﷺ صبر کرتے، آپﷺ فرماتے: جب تم کسی حاجت مند کو دیکھو تو اس کی مدد کرو، آپﷺ صرف سچی تعریف کرنے والوں کی تعریف قبول کرتے، کسی کو گفتگو سے نہ روکتے، یہاں تک کہ وہ حد سے تجاوز کرنے لگے تو اس کو یا تو روک دیتے یا اٹھ کر چلے جاتے، سب سے زیادہ سخی، سب سے زیادہ سچے، سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے اچھی صحبت والے تھے، جو آپ کو دیکھتا مرعوب ہوجاتا، جو آپﷺ کے ساتھ رہ کر آپﷺ کو جان لیتا، آپﷺ سے محبت کرنے لگتا، آپ کا وصف بیان کرنے والا کہتا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ آپﷺ کے پہلے دیکھا اور نہ آپﷺ کے بعد۔

(مختارات من أدب العرب لأبی الحسن الندوي: صفحہ 16 شمائل ترمذی سے منقول ہے۔)