Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کرامات صدیقیؓ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 333: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوئی کرامات یا معجزہ صحیح روایت سے بیان کریں؟

جواب: اہلِ سنت شرک فی التوحید کی طرح شرک فی النبوت بھی نہیں کرتے۔ معجزہ خاصہ نبوت ہے۔ غیر نبی کے خرقِ عادت اور حیران کن واقعات کو بصورتِ اسلام و اتباعِ سنت کرامت کہا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی کرامات کافی ہیں۔ ایک یہ کہ بنو تیم کے قلیل الافراد کمزور قبیلے سے ہو کر خدا و رسولﷺ‏ اور مؤمنین رضی اللہ عنہم کے انتخاب سے سب عربوں کے حاکم اور خلیفہ نبی قرار پائے۔ یہ وہ بڑا اعزاز اور بزرگی ہے جس پر شیعہ جل رہے ہیں۔

دوم: یہ کہ منافقین، منکرینِ زکوٰۃ، مرتدین اور جھوٹے متنبیوں نے، اسلام اور آپ کے خلاف جو طوفانِ بدتمیزی مچایا۔ سب امتحانات سے آپ ایسے کامیاب ہوئے کہ شر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ یہ دونوں واقعات معجزاتِ نبوت کی طرح آپ کی کرامت اور تابع تائید ایزدی کا بیّن ثبوت ہیں۔

سوم: غابہ میں اپنے مال سے 20 وسق حضرت عائشہؓ کو بخشیش کی تھی پھر وفات ہونے لگی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ بیٹی اگر تو پہلے سے اس مال کی فصل اٹھا کر سنبھال لیتی تو تیرا تھا۔ اب تو وارثوں کا مال ہے جو تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر لینا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا ابا جان میری بہن تو صرف ایک اسماء ہے تو دوسری کون ہے؟ فرمایا خارجہؓ کے پیٹ میں بچی ہے مجھے منجانب اللہ یہ بات بتائی گئی ہے۔ چنانچہ (مدت کے بعد) سیدہ اُمِّ کلثومؒ پیدا ہوئیں۔ (ریاض النظرۃ: صفحہ، 168) 

چہارم: وفاتِ رسول اللہﷺ‏ پر جب بنو طے بھی مرتد ہو گئے اور زکوٰۃ روک لی تو عدی بن حاتم بنو طے کی زکوٰۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس لے آئے حضرت ابوبکرؓ نے ان کو از خود سلام کیا تو عدی نے پوچھا: اے خلیفہ رسول اللہ آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ فرمایا: ہاں تو عدی ہے۔ جب لوگوں نے کفر کیا تو تو ایمان پر رہا اور تو اسلام کی طرف آ گیا جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو نے وفاداری کی جب دوسری غدار نکلے۔ میں نے تجھے اور تیرے ساتھی زید کو پہچان لیا اور اگر میں تمہیں نہ پہچانتا تو خدا تو تم کو پہچانتا ہے۔ (ریاض النظرۃ: جلد، 1 صفحہ، 168 ذکر فراستہ وہ کرامتہ)

پنجم: اپنی وفات کے پیشن گوئی فرمائی پھر اسی منگل والی رات وصال فرمایا اور صبح سے پہلے دفن ہوئے۔ (ابو یعلیٰ از سیدہ عائشہؓ، تاریخ الخلفاء: صفحہ، 62) 

ششم: آپ کی وفات پر مکہ معظمہ کانپا، تھرایا زمین کو صدمہ سے زلزلہ آ گیا۔ والد نے پوچھا یہ زلزلہ کیسا؟ لوگوں نے کہا آپ کا بیٹا فوت ہو گیا۔ کہنے لگے بڑی سخت مصیبت آ پڑی۔ (ابنِ سعد، تاریخ الخلفاء: صفحہ، 62)

ہفتم: تھوڑا سا کھانا تھا۔ مہمان کھاتے تھے تو تین گنا اور بڑھ جاتا تھا حتیٰ کہ رسولِ خداﷺ‏ کی طرف بھیجا اور آپﷺ‏ نے بھی کھایا۔ یہ مشکوٰۃ کے باب الکرامات صفحہ 545 پر مذکور ہے۔

ہشتم: سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حضور اکرمﷺ نے درد سے شدید بیمار دیکھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع کی ہی تھی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ تندرست ہو کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر جا پہنچے اور کہا کہ آپﷺ‏ کے بعد فوراً حضرت جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے مجھے ایک دوا سنگھائی۔ میں تندرست ہو کر آ گیا ہوں۔ (ابنِ ابی الدنیا و ابنِ عساکر قرۃ العینین: صفحہ، 99) 

نہم: سیدنا باقرؒ کہتے ہیں کہ حضرتِ رسولﷺ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سرگوشی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سنتے تھے۔ مگر ان کو دیکھتے نہ تھے۔ (ابنِ ابی داؤد فی المصاحف و ابنِ عساکر، کنز العمال: جلد، 6 صفحہ، 311 بحوالہ کرامات صحابہؓ: صفحہ، 15، 16) 

دہم: حدیبیہ کے موقع پر جو جواب حضرت عمؓر کو رسولِ خداﷺ‏ نے دیا تھا۔ وہی جواب حضرت صدیقِ اکبرؓ نے دیا تھا یہ مطابقت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی کرامت اور بزرگی کی دلیل متصور ہوتی ہے۔ (کتبِ سیرت) اور جو مکارمِ اخلاق حضور اقدسﷺ‏ کے حضرت خدیجہؓ نے پہلے وحی کے دن بتائے تھے۔ بلفظہٖ وہی مکارم ابنِ دغنہ نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے حق میں کہے تھے کہ تم شہر سے نہیں جا سکتے۔ الخ (بخاری)