Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تطہیر کی آیت اور کساء والی حدیث

  علی محمد الصلابی

آیت تطہیر یہ ہے

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 33) 

ترجمہ: ’’اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔"

کساء والی حدیث کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ایک دن صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپﷺ پر ایسی چادر تھی جس میں کجاوہ کی تصویریں تھیں، آپﷺ نے اس کے نیچے سیدنا علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو داخل کرکے اس آیت کی تلاوت کی:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 33) 

ترجمہ: ’’اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذکورہ حدیث کو روایت کرنا ان لوگوں کے جھوٹ کو واضح کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کو چھپایا ہے۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی کرتی تھیں اور وہی علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کی فضیلت والی حدیث کو روایت کرتی ہیں۔

(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 187)

آیتوں میں پورا پورا خطاب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہے، انھی سے ابتداء ہے اور انھی پر اختتام ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ ‌وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ۞ وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۞وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞

(سورۃ الأحزاب: آیت 28 تا 34)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔ اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ 

خطاب پورا کا پورا ازواج مطہراتؓ سے ہے، انھی کے لیے امر، نہی، وعدے اور وعید ہیں، لیکن جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کی منفعت انھیں اور دیگر اہل بیتؓ کو شامل ہے تو تطہیر کے مفعول کے لیے مذکر کی ضمیر ’’کم‘‘ استعمال کی گئی، اس لیے کہ جب مذکر و مؤنث اکٹھا ہوں تو تغلیباً مذکر کی ضمیر ذکر کی جاتی ہے، ایسا اس لیے ہوا تاکہ آیت تطہیر تمام اہل بیتؓ کو شامل ہوجائے، اس سلسلے میں دوسروں کے مقابلے میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو خصوصیت حاصل ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا کی، اسی طرح اہل بیت میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے علاوہ بھی شامل ہیں، جیسا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کی ازواج مطہراتؓ اہل بیت میں سے ہیں ؟ فرمایا: 

’’آپ کے اہل بیت وہ ہیں جنھیں صدقہ سے محروم کیا گیا ہے، اور وہ آل علی، آل جعفر، آل عقیل، اور آل عباس ہیں۔‘‘ 

(صحیح مسلم: رقم: 107)

بعض اثنا عشری شیعہ علماء نے آیت تطہیر جس میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو خطاب کیا ہے، کو قرآنی سیاق سے اس طرح کاٹنے کی کوشش کی ہے کہ ازواج مطہراتؓ کو خطاب سے علیحدہ کر دیں، اسی کے ساتھ ساتھ حدیث کساء سے استدلال کیا ہے جس کو امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، کہتی ہیں: ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپﷺ پر کالے بال کی ایسی چادر تھی جس پر کجاوہ کی تصویریں تھیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے آپﷺ نے انھیں اس میں داخل کر لیا، پھر حسین آئے اور اس میں داخل ہوگئے، پھر فاطمہ آئیں، انھیں بھی آپﷺ نے داخل کرلیا، پھر علی آئے انھیں بھی داخل کر لیا، پھر آپﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

اسی طرح انھوں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ فرمایا: تم اپنی جگہ پر ہو، اور تم بہتری میں ہو۔

(سنن الترمذی: کتاب المناقب: رقم: 3788)

ان دونوں حدیثوں سے استدلال اس معنیٰ کو ثابت کرنے کے لیے کیا ہے جس کے لیے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 176)

شیعی علماء کا خیال ہے کہ آیت تطہیر علی، فاطمہ، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم کے معصوم عن الخطا ہونے کی دلیل ہے، بلکہ بشریٰ سہو و نسیان سے معصوم ہونے کی دلیل مانتے ہیں 

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 176)

اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما دوسرے امام معصوم ہیں۔

شیعہ امامیہ کے نزدیک امام کا معصوم ہونا امامت کی شرطوں میں سے اور ان کے اعتقادی ڈھانچے کے اولین اصول و مبادی میں سے ہے، اور اس کی ان کے نزدیک بڑی اہمیت ہے۔ شیعہ کے اپنے ائمہ کے بارے میں لامحدود صفات و صلاحیات کے اعتقاد کے نتیجے میں ان کا خیال ہے کہ امام کسی بھی شخص کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، اس کے کاموں میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، بلکہ اس بات پر ایمان ضروری ہے کہ اس کا ہر کام خیر کا ہے، اس میں شر کا امکان ہی نہیں ہے، اس لیے کہ اس کے پاس ایسا علم ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے، چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ ائمہ زندگی بھر معصوم ہوتے ہیں، صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتے، ان سے کوئی برائی سرزد نہیں ہوتی، ان سے غلطی اور بھول چوک کا امکان نہیں ہے۔

(دراسات عن الفرق: دیکھیے احمد جلی: صفحہ 203)

اس سلسلے میں ان کے شیخ ’’مفید‘‘ اجماع نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ائمہ جو احکام کی تنفیذ، حدود کے قائم کرنے، شریعت کی حفاظت، اور لوگوں کو ٹھیک کرنے میں انبیائہ علیہم السلام کے قائم مقام ہیں، انبیاء کی طرح معصوم ہیں، ان سے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا امکان نہیں ہے، دین کے کسی معاملے میں ان سے غلطی نہیں ہوسکتی، کوئی حکم بھول نہیں سکتے، تمام شیعہ امامیہ کا یہی عقیدہ ہے، انھیں چھوڑ کر جنھوں نے شذوذ کا راستہ اپنایا ہے، اور اس سلسلے کی روایتوں کے ظاہری پہلوؤں کو اختیار کیا ہے اور ان تاویلات کو ترک کر دیا ہے جو اس کے ظنِ فاسد کے برخلاف ہیں۔‘‘

(اوائل المقالات للمفید: صفحہ 35)

اس سلسلے میں میں نے اپنی کتاب ’’سیرۃ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘‘ میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

(أسمی المطالب سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن ابی طالب: جلد 2 صفحہ 302)

مزید معلومات کے لیے اس کا مراجعہ کیا جائے۔