تطہیر کی آیت اور کساء والی حدیث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تطہیر کی آیت اور کساء والی حدیث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

آیت تطہیر یہ ہے

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 33) 

ترجمہ: ’’اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔"

کساء والی حدیث کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ایک دن صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپﷺ پر ایسی چادر تھی جس میں کجاوہ کی تصویریں تھیں، آپﷺ نے اس کے نیچے سیدنا علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو داخل کرکے اس آیت کی تلاوت کی:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 33) 

ترجمہ: ’’اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذکورہ حدیث کو روایت کرنا ان لوگوں کے جھوٹ کو واضح کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کو چھپایا ہے۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی کرتی تھیں اور وہی علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کی فضیلت والی حدیث کو روایت کرتی ہیں۔

(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 187)

آیتوں میں پورا پورا خطاب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہے، انھی سے ابتداء ہے اور انھی پر اختتام ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ ‌وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ۞ وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۞وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞

(سورۃ الأحزاب: آیت 28 تا 34)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔ اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ 

خطاب پورا کا پورا ازواج مطہراتؓ سے ہے، انھی کے لیے امر، نہی، وعدے اور وعید ہیں، لیکن جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کی منفعت انھیں اور دیگر اہل بیتؓ کو شامل ہے تو تطہیر کے مفعول کے لیے مذکر کی ضمیر ’’کم‘‘ استعمال کی گئی، اس لیے کہ جب مذکر و مؤنث اکٹھا ہوں تو تغلیباً مذکر کی ضمیر ذکر کی جاتی ہے، ایسا اس لیے ہوا تاکہ آیت تطہیر تمام اہل بیتؓ کو شامل ہوجائے، اس سلسلے میں دوسروں کے مقابلے میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو خصوصیت حاصل ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا کی، اسی طرح اہل بیت میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے علاوہ بھی شامل ہیں، جیسا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کی ازواج مطہراتؓ اہل بیت میں سے ہیں ؟ فرمایا: 

’’آپ کے اہل بیت وہ ہیں جنھیں صدقہ سے محروم کیا گیا ہے، اور وہ آل علی، آل جعفر، آل عقیل، اور آل عباس ہیں۔‘‘ 

(صحیح مسلم: رقم: 107)

صفحہ 1 از 2