تطہیر کی آیت اور کساء والی حدیث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تطہیر کی آیت اور کساء والی حدیث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

بعض اثنا عشری شیعہ علماء نے آیت تطہیر جس میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو خطاب کیا ہے، کو قرآنی سیاق سے اس طرح کاٹنے کی کوشش کی ہے کہ ازواج مطہراتؓ کو خطاب سے علیحدہ کر دیں، اسی کے ساتھ ساتھ حدیث کساء سے استدلال کیا ہے جس کو امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، کہتی ہیں: ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپﷺ پر کالے بال کی ایسی چادر تھی جس پر کجاوہ کی تصویریں تھیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے آپﷺ نے انھیں اس میں داخل کر لیا، پھر حسین آئے اور اس میں داخل ہوگئے، پھر فاطمہ آئیں، انھیں بھی آپﷺ نے داخل کرلیا، پھر علی آئے انھیں بھی داخل کر لیا، پھر آپﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

اسی طرح انھوں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ فرمایا: تم اپنی جگہ پر ہو، اور تم بہتری میں ہو۔

(سنن الترمذی: کتاب المناقب: رقم: 3788)

ان دونوں حدیثوں سے استدلال اس معنیٰ کو ثابت کرنے کے لیے کیا ہے جس کے لیے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 176)

شیعی علماء کا خیال ہے کہ آیت تطہیر علی، فاطمہ، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم کے معصوم عن الخطا ہونے کی دلیل ہے، بلکہ بشریٰ سہو و نسیان سے معصوم ہونے کی دلیل مانتے ہیں 

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 176)

اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما دوسرے امام معصوم ہیں۔

شیعہ امامیہ کے نزدیک امام کا معصوم ہونا امامت کی شرطوں میں سے اور ان کے اعتقادی ڈھانچے کے اولین اصول و مبادی میں سے ہے، اور اس کی ان کے نزدیک بڑی اہمیت ہے۔ شیعہ کے اپنے ائمہ کے بارے میں لامحدود صفات و صلاحیات کے اعتقاد کے نتیجے میں ان کا خیال ہے کہ امام کسی بھی شخص کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، اس کے کاموں میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، بلکہ اس بات پر ایمان ضروری ہے کہ اس کا ہر کام خیر کا ہے، اس میں شر کا امکان ہی نہیں ہے، اس لیے کہ اس کے پاس ایسا علم ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے، چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ ائمہ زندگی بھر معصوم ہوتے ہیں، صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتے، ان سے کوئی برائی سرزد نہیں ہوتی، ان سے غلطی اور بھول چوک کا امکان نہیں ہے۔

(دراسات عن الفرق: دیکھیے احمد جلی: صفحہ 203)

اس سلسلے میں ان کے شیخ ’’مفید‘‘ اجماع نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ائمہ جو احکام کی تنفیذ، حدود کے قائم کرنے، شریعت کی حفاظت، اور لوگوں کو ٹھیک کرنے میں انبیائہ علیہم السلام کے قائم مقام ہیں، انبیاء کی طرح معصوم ہیں، ان سے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا امکان نہیں ہے، دین کے کسی معاملے میں ان سے غلطی نہیں ہوسکتی، کوئی حکم بھول نہیں سکتے، تمام شیعہ امامیہ کا یہی عقیدہ ہے، انھیں چھوڑ کر جنھوں نے شذوذ کا راستہ اپنایا ہے، اور اس سلسلے کی روایتوں کے ظاہری پہلوؤں کو اختیار کیا ہے اور ان تاویلات کو ترک کر دیا ہے جو اس کے ظنِ فاسد کے برخلاف ہیں۔‘‘

(اوائل المقالات للمفید: صفحہ 35)

اس سلسلے میں میں نے اپنی کتاب ’’سیرۃ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘‘ میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

(أسمی المطالب سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن ابی طالب: جلد 2 صفحہ 302)

مزید معلومات کے لیے اس کا مراجعہ کیا جائے۔ 


صفحہ 2 از 2