مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 334: کیا نحن معاشر الانبیاء والی حدیث صحیح ہے تو قرآن کے موافق دکھائیں؟
جواب: جی ہاں! ہم نے تحفہ امامیہ باغِ فدک کی بحث میں 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کتبِ اہلِ سنت سے اور 10 احادیث کتبِ شیعہ سے اس مضمون کی نقل کر دی ہیں مراجعت کریں۔ یہاں مختصراً کتاب اللہ سے موافقت پیشِ خدمت ہے۔ قرآن میں دسیوں انبیاء علیہ السلام کا ذکرِ خیر اور کچھ کی وراثت کا ذکر بھی ہوا ہے۔ مگر وراثتِ مالی کسی کی بھی مذکور نہیں ہے۔ سب کی علمی، کتابی اور معنوی وراثت کا ذکر ہے۔
1: وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ (سورۃ النمل: آیت 16)
ترجمہ: اور حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کا وارث ہوا تو کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں۔ اگر وراثت مالی ہوتی تو دیگر 17 بیٹوں کا بھی۔ (خواہ لفظ ابناء سے اجمالاً ذکر ملتا) پرندوں کی بولی کی تعلیم معجزہ نبوت اور وراثتِ معنوی ہے۔
2: فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙيَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ (سورۃ مريم: آیت 5، 6)
حضرت زکریا علیہ السلام (نجار پیشہ مزدور) بیٹا مانگ رہے ہیں۔ جو میرا اور آلِ یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے۔ دینوی مال تو سوائے چند معمولی اوزاروں کے تھا نہیں۔ بنی اعمام نالائق اور پیغمبری کے اہل نہ تھے۔ خاندان سے منصب چھین جانے کا اندیشہ تھا۔ لائق و پسندیدہ بیٹا مانگا جو آپ کی پیغمبری اور باپ دادا سے وراثۃً منتقل شدہ نبوت کا وارث بنے چنانچہ یحییٰ بیٹا ملا جس کو یہ حکم ملا۔
يٰيَحۡيٰى خُذِ الۡكِتٰبَ بِقُوَّةٍ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا (سورۃ مريم: آیت 12)
ترجمہ: اے یحییٰ کتابِ الہٰی مضبوطی سے تھامو اور ہم نے اسے حکمت و نبوت بچپن میں دے دی۔
اگر وراثتِ مالی مراد ہوتی۔ تو دعا کے جواب میں کتاب و حکمت کے بجائے مالی خزانوں کا ذکر ملتا۔
3: سورت اعراف میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے ذکر میں ہے:
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ سَيُغۡفَرُ لَنَا (سورۃ الأعراف: آیت 169)
ترجمہ: ان کے بعد ان کے جانشین جو ان سے کتاب کے وارث بنے۔ یہ گھٹیا دنیا لینے لگے اور کہتے تھے ہم بخشے جائیں گے۔
معلوم ہوا کہ پیغمبروں نے تو کتاب اور اپنی سنت وراثت میں چھوڑی تھی۔ مگر پیغمبروں کی غیر پیغمبر نااہل اولاد دنیا پرست نکلی۔
4: ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا (سورۃ فاطر: آیت 32)
ترجمہ: پھر ہم نے کتاب (قرآن) کا وارث اپنے چنے ہوئے بندوں (امتِ محمدیہ) کو بنایا۔
اب یہ کتاب ان کو اپنے پیغمبر سے ہی بطورِ وراثت ملی جو تمام امتِ محمدیہ کا حصہ ہے۔ اگر حضور اکرمﷺ کی بھی وراثت مالی ہوتی تو اس کا کہیں ذکر ملتا۔ انبیاء سابقین کی طرح وراثت علمی و کتابی کا ذکر نہ ملتا جس کے دعویدار ائمہ شیعہ بھی ہیں اور سب احادیث تحفہ امامیہ میں مذکور ہیں۔
سوال نمبر 335: اگر موافق نہ ہو سکے تو اس کے تین راوی بنو عبدالمطلب سے بتائیں؟
جواب: بخاری جلد، 2 صفحہ، 575، 966 میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ و حضرت علیؓ کا تولیت صدقات میں تنازعہ ختم کرانے کے لیے پوچھا تھا:
فاقبل عمر الی علی و عباس فقال انشد کما باللہ ھل تعلمان ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد قال ذٰلک (لا نورث ما ترکنہ صدقۃ) قالا نعم
ترجمہ: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی و سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں تم سے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا (ہماری وراثت نہیں ہوتی جو چھوڑیں صدقہ ہوتا ہے) دونوں نے فرمایا۔ جی ہاں۔
تیسرے راوی حضرت زبیرؓ بن عوام بھی ہیں جو عبدالمطلب کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و رسول اللہﷺ کی پھوپھی زاد بھائی تھے۔ (البدایہ: جلد، 5 صفحہ، 287) اگر یہ تسلیم نہ ہوں تو حضرت جعفر صادق، سیدنا محمد باقر کو گن لیں جن کی احادیث (نفی وراثت دنیوی از پیغمبرﷺ) اصولِ کافی باب صفتہ العلم اور باب ان الائمتہ ورثو اعلم النبی و جمیع الانبیآء میں مذکور ہیں۔
سوال نمبر 336: اگر حدیث صحیح ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ جائیدادِ مدینہ حضرت علیؓ و حضرت عباسؓ کو دے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قول و فعل کو عملاً کیوں باطل کر دکھایا؟
جواب: حدیث صحیح ہے جس کے مطابق یہ تمام صدقات اور جائیداد فقراء کے لیے وقف رہی۔ سیدنا عمرؓ نے دو ہاشمی بزرگوں کو بطورِ وراثت و تملیک قبضہ نہ دیا تھا بلکہ مساکن پر خرچ کے لیے متولی و انچارج صدقات بنایا۔ روایت میں یہ سب تصریح ہے مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض اور شیعہ کی روایتی خیانت اس کاروائی پر آپ کو مجبور کرتی ہے اوپر والی حدیث اسی تنازعہ۔ کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مساکن پر طبعاً فیاض تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فراخ دستی کے بجائے کفایت شعاری سے کام لیتے تو دونوں میں جھگڑا پڑ جاتا اور قضیہ حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچا۔ اس کو ختم کرنے کے لیے آپؓ نے ان سے حدیث پوچھی۔ پھر تولیت ان سے لے کر اپنے ہاتھ میں کر لی۔
سوال نمبر 337: بخاری سے ثابت کیجئے کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکرؓ پر غضب ناک نہ تھیں؟
جواب: جب ہم سنی و شیعہ معتبر کتب سے رضامندی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا ثابت کر چکے ہیں۔ (دیکھیے تحفہ امامیہ: صفحہ، 185 تا 188) پھر خاص کتاب کے حوالہ پر اصرار بچوں یا معاندوں والی ضد ہے دانشمندی اور دین کی بات نہیں ہے جب کہ حقیقت ہے کہ غضبت کا لفظ ابنِ شہاب راوی کا مدرج ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کا قول۔ حضرت عائشہؓ راوی حدیث کا قول یا امام بخاری رحمۃ اللہ کا اپنا تبصرہ نہیں ہے۔ صرف بعض روایات میں قال کے بعد یہ الفاظ ہیں: کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو چھوڑا۔ اور فدک مانگنے کے بارے میں تا وفات سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے بات نہ کی۔ الحدیث۔ بس راوی کا یہ اپنا تاثر ہے۔ شیعہ نے اسے ناراضگی بر ابوبکر بنا کر 1400 سال سے سر آسمان پر اٹھا رکھا ہے۔ رضامندی کی اپنی احادیث بھی نہیں سنتے اور زاہدہ بتولؓ پر یہ الزام تراشی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کہ وہ دنیا کے چند ٹکے غرباء کو دے دینے پر سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نانا پر اتنی ناراض ہوئیں کہ بات تک نہ کی۔
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
کیا خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی یہی شان ہے۔ معاذ اللہ۔ پھر جب سیدہ فاطمہؓ کے بعد حضرت علیؓ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جانشین تھے۔ جب وہ مشورہ نہ پوچھے جانے کی شکایت کے بعد راضی ہو گئے اور بیعت کر لی اور اس کی صراحت بخاری جلد، 2 صفحہ 609 پر موجود ہے تو گویا سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی رضامندی بخاری سے ثابت ہو گئی۔
فعظم حق ابی بکر و حدث انہ لا یحملہ علی الذی منعہ نفاسۃ علی ابی بکر ولا انکار اللذی فضلہ اللہ بہ۔ الخ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق کو عظیم جانا اور بیان کیا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر حسد یا اس کی فضیلت کے انکار کی وجہ سے نہیں کیا ہے بلکہ ہم اس کام اور مشورہ میں اپنا حصہ سمجھتے تھے۔ لیکن ہماری شرکت کے بغیر ہوا تو ہم جی میں ناخوش ہو گئے تھے۔
سوال نمبر 338: صحیح بخاری کتاب الجہاد باب برکته الغازی فی مالہ حیاً و میتاً مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم وولاۃ الامر میں ہے کہ حضرت زبیرؓ کی کل جائیداد 5 کروڑ دو لاکھ درھم کی ہوئی۔ سیدنا زبیرؓ دامادِ سیدنا ابوبکرؓ تھے اتنی دولت انہیں کیسے حاصل ہوئی؟
جواب: چور و خائن دوسرے کو بھی اپنے جیسا سمجھتا ہے۔ خویش نواز اور دنیا پرست شیعہ حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر یہ ناپاک بہتان کیوں نہ لگائیں۔ ورنہ خود مذکورہ بالا عبارتِ باب میں اس کا جواب آ گیا کہ جہاد کے مالِ غنیمت میں برکت ہوتی ہے اور غازی کا مال مرنے کے بعد بھی بابرکت ہوتا ہے۔ حضرت زبیرؓ بن عوام و بن سیدہ صفیہؓ بنتِ عبدالمطلب مشہور مجاہددوں، غازیوں سے ہیں عہدِ نبوت کے تمام غزوات میں شریک رہے اور غنیمت پاتے رہے۔ پھر تینوں خلافتوں میں اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار سے شریک رہے۔ اور وظیفہ و غنیمت پاتے رہے۔ خلافتِ رابعہ میں ایک ملعون بدبخت سبائی ابنِ جرموز نماز کی حالت میں صرف اس جرم میں شہید کیا کہ آپ نے حضرت عثمانؓ کے بدلہ قتل کا مطالبہ حضرت علیؓ سے کیوں کیا قاتل شیعہ علی کہلاتا تھا اور حضرت علیؓ نے اسے جہنم کی بشارت سنائی۔ (الاخبار الطوال لابی حنیفہ الدینوری) روایت میں تصریح ہے کہ میں مظلوماً شہید ہوں گا۔ حضرت زبیرؓ طبعاً فیاض تھے نقدی سب فقراء پر خرچ کر دیتے تھے۔ پھر قرض لے کر بھی خرچ کرتے تھے اور جو امانت رکھتا اس سے اجازت لے کر قرض بنا کر خرچ کر دیتے اس کے علاوہ اس روایت میں یہ صراحت بھی ہے۔ کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے دینار اور درہم کچھ نہ چھوڑا۔ صرف دو زمینیں اور کچھ مکانات چھوڑے قرضوں کی ادائیگی کے لیے حضرت عبداللہؓ نے یہ جائیدادیں بیچ ڈالیں۔ اس دور میں جائیدادوں کی قیمت پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی۔ (بتائیے اس غازی اور سخی پر کیوں اعتراض کیا جائے؟)
سوال نمبر 339: تاریخ الخلفاء سیوطی میں ہے کان ابوبکر سبابا و نسابا۔ کہ حضرت ابوبکرؓ سب سے زیادہ گالی بکنے والے تھے یا نسب جاننے والے تھے یہ عادت شیعوں کے لیے کیوں اعتراض بنائی جاتی ہے؟
جواب: بکواس بازی اور گالیاں شیعوں کو مبارک ہوں۔ تاریخ الخلفاء میں ایسی کوئی عبارت نہیں ہے صریح جھوٹ ہے ان کے اعلم الصحابہؓ ہونے کے باب میں یہ لفظ ہیں: وکان ابوبکر الصدیق من انسب العرب۔ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب عربوں سے زیادہ نسب نامے جانتے تھے۔ شیعوں کو اعتراف ہے کہ وہ گالیاں بکتے ہیں تو یہ کام منافقوں، بداطواروں کا ہے شیعہ انہی عادات سے پہچانے جاتے ہیں۔
وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِىۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ (سورۃ محمد: آیت 30)
سوال نمبر 340: فجاۃ نامی مسلم شخص کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کس جرم میں جلایا؟
جواب: آپ کے ممدوح اور مسلمانوں کے دشمن فجاۃ کا حال تاریخ میں یوں لکھا ہے: ادھر مدینہ منورہ میں بنو سلیم کا ایک سردار الفجاۃ بن عبد یا لیل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوں آپ آلاتِ حرب سے مدد کریں۔ میں مرتدین کا مقابلہ کروں گا۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اس کو اور اس کے ہمراہیوں کو سامانِ حرب عطا کر کے مرتدین کے مقابلے کو بھیجا۔ اس نے مدینے سے نکل کر اپنے مرتد ہونے کا اعلان کر دیا۔ اور بنو سلیم اور بنو ہوازن کے ان لوگوں پر جو مسلمان ہو گئے تھے شب خون مارنے کو بڑھا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس حال سے آگاہ ہو کر فوراً سیدنا عبداللہ بن قیسؓ کو روانہ کیا انہوں نے دھوکہ باز مرتدین کو راستہ ہی میں جا لیا۔ بعد مقابلہ و مقاتلہ الفجاۃ بن عبد یا لیل گرفتار ہو کر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے سامنے مدینہ میں حاضر کیا گیا اور مقتول ہوا۔
(تاریخ اسلام نجیب آبادی: جلد، 1 صفحہ، 339 بلدیہ و تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 264، 265)
سوال بناتے وقت اتنی بد دیانتی نہ ہونی چاہیے کہ ایک اعلانیہ مرتد کافر کو، حضرت ابوبکر صدیقؓ دشمنی میں مسلمان کہا جائے۔ شاید وہ شیعوں کا پیشوا ہو گا؟
سوال نمبر 341: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت میں سادات کا خمس کیوں بند کر دیا؟ (بخاری، ابوداؤد)
جواب: دو وجہیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ قرابت کی وجہ سے ادائیگی عہدِ نبوی کے ساتھ خاص سمجھتے تھے اور اس کی وجہ (واللہ اعلم) اس بات سے سمجھی کہ رسول اللہﷺ کے قریبی بنو عبد شمس اور بنو نافل بھی تھے۔ حضور اکرمﷺ نے ان کو خمس نہ دیا صرف بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو دیا جب انہوں نے آ کر یہ گزارش کی:
قرابتنا و قرابتہم منک واحدۃ
ترجمہ: ہماری اور ان کی رشتہ داری تو آپ سے یکساں ہے۔
تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا میں اور بنو مطلب زمانہ جاہلیت میں اور اسلام میں اکٹھے رہے ہیں اور ہم انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ (ابو داؤد: صفحہ، 61)
تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفاتِ نبوی سے اس اصول میں کمی دیکھی تو خمس تو نہ دیا لیکن ان کے اخراجات بیت المال سے ادا کرتے رہے چنانچہ ابو داؤد صفحہ 58 پر ہے وانما یاکل ال محمد فی ھذا المال یعنی اللہ کے مال سے آلِ محمد حسبِ ضرورت کھاتے رہیں گے۔
2: حضرت ابوبکر صدیقؓ اموال کی تقسیم مساویانہ کی۔ قرابت یا اسلام میں اولیت وغیرہ کا خیال نہ کیا کہ ان چیزوں کا بدل اللہ ان کو دے گا رزق میں وہ سب مساوی ہیں۔ چنانچہ اس بناء پر خمس کی خصوصی ادائیگی بند کی اور مالی امداد عمومی تبرعات سے یا اپنے مال سے خصوصی کرتے رہے۔ ابو داؤد صفحہ 59 پر ہے کہ رسولِ خداﷺ اپنے گھر والوں پر خرچ کے بعد بقیہ صدقہ کر دیتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ دو سال خلیفہ رہے تو اسی طرح کرتے رہے جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی پالیسی اور اصولِ قرابت فضائل اور اولیتِ اسلام میں فرقِ مراتب کرنا تھا چنانچہ انہوں نے ادائیگی جاری رکھی اسی روایت میں صراحت ہے:
فکان عمر بن الخطاب یعطیھم منہ و عثمان بعدہ
کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کو خمس دیا کرتے تھے۔
خلاصہ یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اصول پرستی سے خمس نہ دیا تو ان کی ضروریات کا پورا خیال رکھا۔ حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانِ غنیؓ نے خمس جاری رکھا۔ یہ جواب روایت ماننے کی صورت میں ہے اگر اسے صحیح نہ مانے کیونکہ درجِ ذیل دو روایتیں اس کے خلاف ہیں تو جواب کی حاجت نہیں۔ دوسری روایت میں یہ صراحت ہے کہ خمس کے انچارج و متولی عہدِ نبوتﷺ صدیقیؓ اور فاروقیؓ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ (اور اپنا حصہ باقاعدہ لیا کرتے تھے) فرماتے ہیں:
ولانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس الخمس فوضعتہ مواضعہ حیوۃ ابی بکر و حیوۃ عمر فاتی بمال فدعانی خذہ فقلت لا اریدہ فقال خذہ فانتم احق بہ قلت قد استغینا عنہ فجعلہ فی بیت المال (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 61)
ترجمہ: مجھے رسول اللہﷺ نے خمس الخمس کا متولی بنایا میں نے حضور اقدسﷺ کی زندگی میں اس کے مواقع پر خرچ کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اور سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں بھی اس کے مواقع پر خرچ کیا۔ پھر کچھ مال آیا مجھے بلایا کہ لے لو میں نے کہا میں نہیں لینا چاہتا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہنے لگے لے لو تم اس کے زیادہ حق دار ہو میں نے کہا اب ہم غنی ہو گئے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں ڈال دیا۔
تیسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں سیدنا عباسؓ اور سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور سیدنا زید بن حارثہؓ رسول اللہﷺ کے پاس گئے میں نے کہا یا رسول اللہﷺ اگر آپ کا خیال ہو کہ اس خمس کا کتاب اللہ کے مطابق مجھے متولی بنا دیں۔ تو اپنی زندگی میں تقسیم کر دیں تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے۔ حضورﷺ نے ایسا کر دیا۔ تو میں نے رسول اللہﷺ کی زندگی میں (اپنی برادری وغیرہ پر) خرچ کیا پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ متولی بنایا۔ تو میں یونہی تقسیم کرتا رہا یہاں تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا اور مال بہت آ گیا تھا تو آپ نے ہمارا حق نکالا اور میری طرف بھیجا۔ میں نے کہا ہمیں ضرورت نہیں ہے اور مسلمانوں کو ضرورت ہے تو ان کو تقسیم کر دیں چنانچہ انہوں نے تقسیم کر دیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے کسی نے نہ بلایا۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 61)
دو روایتوں سے معلوم ہوا کہ بنو ہاشم کو بدستور عہدِ نبوت کی طرح عہدِ صدیقی اور فاروقی میں خمس ملتا رہا ان کی کوئی مالی حق تلفی نہیں ہوئی جب وہ امیر ہو گئے تو خود چھوڑ دیا۔
سوال نمبر 342: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سفیرِ قریش کو بُت کی شرم گاہ چاٹنے کی گالی حضورﷺ کے سامنے کیوں دی اور مذکر بُت کے لیے یہ مؤنث بات کرنا کیسی تہذیب و علم ہے؟
جواب: سبحان اللہ! صاحبغ پیغمبر کی دشمنی میں اب کفارِ قریش کے حمایت و طرف داری کی جا رہی ہے آپ کی مسلمانی قابلِ داد ہے کیا حضور اکرمﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے یا رضا و جنت کی سند پانے والے 1500 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہ اعتراض کیا تھا؟ خود قریشی سفیر کو جب یہ پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں تو آپ کے سابق احسانات یاد کر کے خاموش ہو گیا۔ یہ گالی نہ تھی۔ کافر کی اشتعال انگیزی کا مناسب جواب تھا جیسے قرآن نے عُتُلٍّ بَعۡدَ ذٰلِكَ (سورۃ القلم: آیت 13) الخ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بت خواہ مذکر کے نام و شکل پر ہوں۔ حقیقتاً مؤنث ہیں۔ قران مجید میں ارشاد ہے:
اِنۡ يَّدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰـثًـا (سورۃ النساء: آیت 117)
ترجمہ: مشرکین اللہ کے علاوہ صرف عورتوں کو پکارتے ہیں۔
نیز مشرکین لات و منات اور عزی کو خدا کی بیٹیاں کہتے تو فرمایا کیا تم نے لات عزی اور تیسری منات کو دیکھا تم تو بیٹے پسند کرو اور خدا کے لیے بیٹیاں ہوں یہ تو غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ (سورۃ النجم: آیت 19، 22)
معترض سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی عربیت میں غلطی نہ پکڑے اپنے علم و تہذیب کا ماتم کرے۔
سوال نمبر 343: صواعقِ محرقہ باب اوّل فصل 5 اور روزۃ الاحباب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کا وظیفہ 10 ہزار درہم مقرر کیا دخترِؓ رسولﷺ کا باغ کیوں چھینا؟
جواب: صواعقِ محرقہ فصلِ پنجم سب دیکھی اس میں ایسا کوئی بہتان نہیں ہے کہ اپنی صاحبزادی کا وظیفہ 10 ہزار درہم مقرر کیا۔ باغ کا طعن ہم بار ہا رد کر چکے ہیں۔ روضتہ الاحباب غیر معتبر کتاب ہے۔ خلفاءؓ نے باغ اگر فقراء کے نام قرآن شریف کے مطابق وقف کر دیا تو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی ویسے بہت امداد کی۔ سیرت المصطفیٰ جلد 2 صفحہ 383 پر ہے: پھر ان مدعیان غصب کو یہ خیال نہیں آتا کہ خلفاء نے زمانہ خلافت میں فقیرانہ اور درویشیانہ زندگی گزاری اور اہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم کو بیک وقت 50 ہزار اور 60، 60 ہزار درہم و دینار دیا کرتے تھے۔ جس وقت شہر بانو شہزادیٔ ایران خلیفہ برحق کے زمانہ خلافت سراپا شوکت و عظمت میں مقید ہو کر آئیں تو خلیفہ وقت نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو حصہ غنیمت دینے کے بعد تینوں کو 30، 30 ہزار درہم دیے اور اس کے علاوہ خاص حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہر بانو مع ان کے زیور جواہرات کے عطا کی جس کا ہر جوہر اور موتی اتنا قیمتی تھا کہ ایک موتی کی قیمت سے کم از کم سو باغِ فدک خریدے جا سکیں۔
سوال نمبر 344: جنگِ خندق میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کردار میں سپردِ قلم کیجیے؟
جواب: وہی کردار ہے جو حضرت رسولِ خداﷺ اور تین ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا سخت سردی کے موسم میں بھوکے پیاسے لمبی چوڑی دفاعی خندق کھود کر مہینہ بھر دشمن کے سامنے ڈٹے رہے خندق کے جس جس حصے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمانِ غنی، حضرت علی المرتضیٰ وغیرہم رضی اللہ عنہم کو متعین کیا تھا وہاں سے دشمن کو اگے نہ بڑھنے دیا آج ان مقامات پر بطورِ یادگار مساجد رقمِ آثم نے خود دیکھی ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے سے خندق کم چوڑی تھی۔ چار پہلوان خندق پار کر آئے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک جماعت کے ہمراہ ان پر حملہ کیا۔ 90 سال کا پہلوان عمرو بن ود مارا گیا۔ شیعہ تفسیر قمی سورت احزاب میں قتل کا واقعہ یہ لکھا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے داؤ کھیلا۔ اتنے بڑے پہلوان ہو پھر ساتھی لے کر مجھ سے لڑتے ہو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے اس کے پاؤں پر وار کیا اور دوسرا سر پر کیا تو جہنم رسید ہو گیا ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس پانچ منٹ کی بہادری اور شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے کارنامے کا اعتراف ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ تعلیم حضرت علی المرتضیٰؓ نے دی کہ اس گھمنڈ میں باقی تین ہزار مہاجرین انصار رضی اللہ عنہم کی پگڑیاں اچھالتے رہو نام لے لے کر پوچھو کہ فلاں فلاں کے کیا کارنامے ہیں کیا آپ اپنے تین یاروں حضرت ابوذر، حضرت مقداد اور حضرت عمار رضی اللہ عنہم کے کارنامے بھی اس جنگ میں بتا سکتے ہیں؟ معاف کیجئے فضیلت جتلانے کا یہ کا معیار انتہائی گھٹیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کل آپ کے خلاف اور مہاجرین کی حمایتی ہوں گے جب کہ دیگر جنگوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قتل کرنا بھی ثابت ہے۔ مسلم شریف جلد 2 صفحہ 89 پر ہے کہ غزوۂ بنو فزارہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضور اکرمﷺ نے امیر بنایا تھا۔ ثمہ شن الغاره فورد الماء فقتل من قتل علیه وسبی کہ خوب حملہ کیا پانی پر اترے تو کتنے آدمی قتل کیے کتنے قیدی بنائے۔
سوال نمبر 345: شہداء احد کے متعلق حضور اکرمﷺ نے فرمایا میں ان کا گواہ ہوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہم ان کے بھائی نہیں تو حضور اقدسﷺ نے فرمایا معلوم نہیں میرے بعد تم کیا احداث کرو گے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے بتائیے آپﷺ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے گواہ کیوں نہ ہوئے (کشف المغطاعن المؤطا: صفحہ، 301)
جواب: یہ پوری جنس امت کو خطاب ہے لیکن شخصی خطاب بنا کر طعن تراشا گیا ہے درحقیقت اس میں یہ جتلانا ہے کہ مدار خاتمہ بالخیر پر ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہید ہو گئے ان کا خاتمہ بالخیر اور آپ کی شہادت یقینی ہے مگر جو امتی زندہ ہیں یا بعد میں آئیں گے اور فوت ہوں گے۔ ان کی وفات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی یا گواہی نہ ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی گناہ و احداث میں مبتلا ہو تو حضور اقدسﷺ یہ تنبیہہ فرما رہے ہیں کہ کیے ہوئے اعمالِ خیر پر ہی بھروسہ نہ کرو خاتمہ بالخیر کا بھی فکر کرو تبھی تو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے کیونکہ کاملین کی یہی شان ہے: ہر وقت اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: آیت 57) ورنہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو جنت کی بشارت ملی ہے حضورﷺ کو ان کے خاتمہ کا فکر نہ تھا حضرت شعیب پیغمبر علیہ السلام فرماتے ہیں:
وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا (سورۃ نمبر 7 الأعراف: آیت 89)
ترجمہ: کفر میں لوٹنا ہمارے لیے ممکن نہیں مگر یہ کہ ہمارا اللہ اور رب ہی یہ چاہے۔
یعنی اپنے مؤمن ساتھیوں کے خاتمہ بالخیر ہونے نہ ہونے کا حضرت شعیب علیہ السلام کو بھی فکر تھا سو سوا سو نام بنام مبشر بالجنتہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوا باقیوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہیں فکر تھا شیعوں کو چونکہ دولتِ ایمان حاصل ہی نہیں تو ان ملنگوں کو اس کے چھن جانے کا کیا ڈر وہ تو شفاعت قہری والا کفار کا یہ عقیدہ اپنائے ہوئے ہیں کہ چونکہ ہم شیعہ علی کہلاتے علی ولی اللہ پڑھتے۔ ماتم و بین کرتے اور تعزیہ حسینی کی تعظیم کرتے ہیں تو آخرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے لال کے صدقے بنی ہوئی ہے۔ پر ہی نازاں اور خود فریبی میں مبتلا ہیں جلدی وہ وقت آنے والا ہے جب ایسے بدعمل بد عقیدہ بدعتی مشرکوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور ان کے فرضی شفعاء، شرکاء اور مشکل کشا ہستیاں ان سے تبرا کریں گی۔
اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِيۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا وَرَاَوُا الۡعَذَابَ (سورۃ البقرة: آیت 166)
ترجمہ: پیر مشرک مریدوں سے بری ہو جائیں گے مرید عذاب دیکھیں گے اور تعلقات ختم ہو جائیں گے۔
سچا قرآن فرماتا ہے: اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو خدا کو چھوڑ کر ایسے کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب ہی نہ دے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر بھی رہیں اور قیامت کے دن جب سب آدمی جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن بھی ہوں گے اور ان کی عبادت کے منکر بھی۔ (سورۃ الأحقاف: آیت 5، 6) (ترجمہ مقبول: صفحہ، 601)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے کلماتِ حکمت میں ہمیں یہ دو مقولے ملے ہیں:
1: مجھ سے پانچ باتیں لے لو تم میں سے ہر شخص اپنے گناہ ہی سے ڈرے صرف اپنے رب سے امید رکھے نہ جاننے والا سیکھنے میں شرم نہ کرے اور عالم سے اگر وہ بات پوچھی جائے جو نہ جانتا ہو تو وہ یہ کہنے میں شرم نہ کرے۔ اللہ بہتر جانتا ہے صبر ایمان کا سر ہے۔ صبر گیا تو ایمان ختم۔ جب سر کٹا تو بدن ختم۔
2: پورا عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ کرے انہیں گناہوں کی چھٹی نہ دے اور خدا کے عذاب سے نڈر نہ کرے۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 142) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ ڈر اور گریہ اسی حقیقت کی تصویر تھی۔
سوال نمبر 346: اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیعت نہ کرے تو اس کا گھر جلا دو۔ حکمِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ۔ تاریخ ابو الفداء: صفحہ، 165 کیا خلیفہ برحق ایسے بیعت طلب کرتے ہیں؟
جواب: ہمارے نزدیک بالکل غلط روایت ہے مولانا شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
اور جو کچھ قصہ قنفذ اور دروازہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا جلا دینے کا اور ان کے پہلو میں تلوار چبھونے کے معاملہ میں لکھا ہے یہ سب جھوٹی باتیں اور افتراء شیاطینِ کوفہ کے ہیں جو شیعہ اور رافضیوں کے پیشوا ہوئے ہیں ہرگز کسی اہلِ سنت کی کتاب میں نہ صحیح طریق پر نہ ضعیف طریق پر موجود ہے۔ (تحفہ اثناء عشریہ اردو: صفحہ، 715)
حضرت علی المرتضیٰؓ بروایت تاریخِ طبری تین دن بھی بیعت سے الگ نہیں رہے تو ایسی بات پیدا نہیں ہوئی۔
بالفرض والمحال ایسا اگر کہا ہو تو یہ صرف دھمکی ہے حقیقت نہیں ہے جیسے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے جمعہ سے الگ رہنے والوں یا نماز باجماعت نہ پڑھنے والے منافقوں کے متعلق یہ فرمایا: میں ان کے گھر جلانا چاہتا ہوں مگر معصوم بچوں کے جلنے کا اندیشہ ہے۔ الحدیث
عدلیہ کے علمبردار ذرا انصاف سے دیکھیں خلیفہ برحق سے منسوب یہ دھمکی سخت ہے یا قصاصِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت مشروط کرنے والوں پر چڑھائی کر کے 70 ہزار مسلمانوں کا کٹ جانا زیادہ سخت ہے؟
سوال نمبر 347: ازالتہ الخلفاء صفحہ 199 میں ہے کہ حضور اکرمﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا ثقلتک امک یہ بد دعائیہ کلمہ آپﷺ نے کیوں کہا؟
جواب: صحیح لفظ ثکلتک امک ہے۔ تیری ماں تجھے گم پائے یہ کلمہ بددعائیہ نہیں بلکہ عربوں کا عام محاورہ ہے۔ مخالف کو اس کی سوچ کے خلاف جب بات بتانی ہو تو ایسا کہہ دیتے ہیں جیسے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
ویحک یا عمار تقلتک الفئۃ الباغیۃ (بخاری)
ترجمہ:اے سیدنا عمارؓ! تجھ پر افسوس تجھے باغی ٹولہ (قاتلِ سیدنا عثمان) قتل کرے گا۔
یہاں بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ شرک صرف غیر اللہ کی عبادت کا نام ہے حضور اکرمﷺ نے اس کے خلاف فرمایا کہ نہیں۔ بلکہ شرک خفی بھی ہوتا ہے جو ریا اور دکھلاوا ہے چیونٹی کی چال سے بھی سست وہ مسلمانوں میں چلتا ہے۔
سوال نمبر 348: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کسی بھی جنگ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ماتحت ہوئے؟
جواب: جب جنگ و جہاد سے بھی افضل عبادات حج اور نماز حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ماتحتی میں ادا کیں تو افضلیت ثابت ہو گئی۔ بخاری شریف میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج 9 ہجری میں ان منادیوں میں مقرر کر بھیجا جو منیٰ میں یہ اعلان کرتے تھے کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے گا نہ ننگے بدن بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حکم دیا کہ وہ بھی برأت کا اعلان کریں۔ (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) چنانچہ ہمارے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے مل کر اہلِ منیٰ میں برأت کا اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کرے نہ بیت اللہ کا ننگے طواف کرے۔
یہاں سے صراحتاً پتہ چل گیا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حضورﷺ نے معزول نہیں کیا تھا بلکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ایک مؤذن باقی مؤذنوں سمیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں بنا کر بھیجا۔ تاکہ عربوں کا یہ اصول پورا ہو جائے کہ عہد شکنی کے اعلان وغیرہا کو خود معاہد یا اس کا چچا زاد بھی برسرِ عام کرتے۔ (صواعقِ محرقہ: صفحہ، 33)
سوال نمبر 349: کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کوئی جنگ لڑی؟
جواب: مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کو دوبارہ مسلمان بنانے کے لیے جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے 11 دستے مقرر فرمائے۔ ایک کی کمان خود سنبھالی کہ بنو عبس اور بنو زیبان کے مقابلے میں خود گئے اور انہیں زیر کیا۔ (تاریخ اسلام: صفحہ، 112) ایک کے کماندار حضرت علی المرتضیٰؓ تھے۔ ملا فتح اللہ کاشانی شرح نہج البلاغہ فارسی میں لکھتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بہت سے عرب بدل گئے اور دین سے مرتد ہو گئے اور اصحابِؓ رسولﷺ اس معاملہ میں عاجز و حیران رہ گئے۔ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ نے یوں دیکھا تو صحابہؓ رسول اللہﷺ کی دلداری کرتے ہوئے حیدری بازوؤں کے زور کے ساتھ مرتدوں کو جہنم میں بھیجا اور پھر دین کا انتظام ٹھیک ہو گیا۔ (ترجمہ و شرح نہج البلاغہ تحت مکتوب امیر بسوئے اہالیان مصر بحوالہ رحماء بینھم حصہ اول: صفحہ، 279)
مگر اس ہنگامی دور کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے دیگر اہم شایانِ شان کام لیا ہے اور جنگوں میں بھیجنا مناسب نہ جانا۔ اس کے لیے چھوٹے درجے کے نوجوان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہترین جرنیل ثابت ہوتے رہے۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمانِ غنیؓ نے بھی جنگی خدمات لینے کی ضرورت نہ سمجھی اس میں علام الغیوب قادر مطلق نے یہ راز پنہاں رکھا تھا کہ شیعوں کا ایک فرقہ پیدا ہو گا جو عہدِ نبویﷺ کے 37 غزوات و سرایا میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے ہاتھ سے درجن پھر کافر قتل ہونے کی وجہ سے ایسا طوفانِ بدتمیزی مچائے گا کہ سوا لاکھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تین چار چھوڑ کر سب پر کیچڑ اچھالے گا اور فخر کرے گا۔ اگر ایران، روم، افریقہ، عجم و ترکستان (روس) کی فتوحات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جنگی خدمات کا ذرا بھی حصہ پایا گیا تو یہ زبان دراز ٹولہ انبیاء کرام علیہم السلام کی بھی پگڑیاں اچھالے گا۔ ہر مسلمان سے پوچھے گا۔ بتاؤ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیا کارنامہ ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا فتوحات کیں؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کتنے کافر مارے؟ (نقلِ کفر کفر نہ باشد، معاذ اللہ) جیسے وہ اب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق یہ یقینی کفریہ عقیدہ ہے کہ وہ ہر خوبی اور کمال میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گھٹیا تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فائق و افضل ہیں بلکہ امامت نبوت سے افضل ہے۔ (معاذ اللہ)
تو اللہ تعالیٰ نے کمالات کا توازن یوں برقرار رکھا کہ صحابیؓ رسولﷺ کی حیثیت سے جو شیعہ کے ہاں معیارِ فضیلت ہی نہیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ایمان، عمل، علم، تقویٰ شجاعت، شرافت ہر صفت سے نوازا اور اہلِ سنت کے ہاں بعد از پیغمبرﷺ یہ پوزیشن بحال رہی مگر بعد از پیغمبرﷺ شیعہ کے منصوص من اللہ امام کی حیثیت سے ایک وصف و کمال بھی با اعتراف شیعہ ظاہر نہ ہو سکا کیا کوئی شیعہ مجتہد اس پر روشنی ڈال سکتا ہے؟
سوال نمبر 350 تا 353: غصب فدک کے متعلق ہے ہم دوبارہ یہ بحث نہیں چھیڑتے تحفہ امامیہ کے 64 صفحات پر ہر قسم کی قیل و قال کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
سوال نمبر 354: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول درست ہے کہ فدک خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت تھا؟
جواب: لفظ ملکیت ایجادِ بندہ ہے وہاں نہیں البتہ یہ درست ہے کہ خالص آنحضرتﷺ کے زیرِ تصرف تھا۔ آپﷺ جیسے چاہیں خرچ کریں۔ قران میں مذکور 8 مصارف پر خرچ کریں کسی کو کم دیں یا زیادہ کسی کو اعتراض کا حق نہ تھا۔ اگر ذاتی ملکیت سمجھا جائے تو دو خرابیاں لازم آتی ہیں۔
ایک یہ کہ وہ ذاتی کمائی ہبہ وغیرہ سے حاصل ہوا ہو۔ حالانکہ وہ منصبِ نبوت اور حاکمانہ رعب سے حاصل ہوا۔ تو خرچ بھی رفاہی مدات میں ہو گا۔ دوم یہ کہ قران شریف نے ایسے مالِ فے کے آٹھ مصارف سورۃ حشر میں ذکر کیے ہیں تو مشرکہ مال ہوا ذاتی ملکیت نہ ہوا ہاں آپ اپنی ذات پر برادری پر یتامیٰ، مساکین، فقراء وغیرہ پر خرچ کرنے کے ایسے مجاز تھے کہ کسی کو چون و چرا کا حق نہ تھا۔
بخاری ابوداؤد جلد 2 صفحہ 56 پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے لیے ایک چیز مخصوص کی ہے اور کسی کے لیے نہ کی۔ تو رسول اللہﷺ اس مالِ مخصوصہ سے سال بھر کا خرچ لے کر باقی مصارف (ثمانیہ 8) میں خرچ کر دیتے تھے۔
سوال نمبر 355 تا 357: کیا رسول اللہﷺ نے اپنی اولاد کے لیے وصیت فرمائی؟ تو کیا تھی؟ ورنہ کیا اہلِ خانہ کو امت کے رحم و کرم پر چھوڑا؟
جواب: مالی سلسلے میں کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ یہی بات دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا ورثہ نہ بٹتا ہے نہ وصیت کے کام آتا ہے۔ بلکہ وہ عام صدقہ بیت المال کا حق قرار پاتا ہے اور حضور اکرمﷺ کے زہد کا تقاضا یہی تھا کیونکہ آپﷺ کو حکم تھا:
قُلۡ مَاۤ اَسۡئَـلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ (سورۃ ص: آیت 86)
ترجمہ: آپ فرمائیے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔
تو اگر بقولِ شیعہ نبوت اور حکومت کے رعب سے ایک بڑی جائیداد حاصل کریں اور دولت سے انبار بھر دیں جو ورثاء میں بٹے یا وصیت کی ضرورت پڑے تو یہ دنیا داروں کا سا بڑا تکلف ہوتا۔ اللہ نے اپنے پیغمبرﷺ کو اس حالت میں رخصت کیا کہ خالی ہاتھ تھے۔ ذرہ ایک یہودی کے ہاں گروی رکھی گئی تھی۔
اولاد کا فکر ہا تھا کیونکہ اس وقت ایک صاحبزادی تھی جو حضرت شیرِ خدا رضی اللہ عنہ جیسے طاقتور اور کمائی والے کے گھر تھی۔ فکر ہو سکتا تھا تو نو بیواؤں کا۔ مگر ان کو بھی اللہ کے بھروسے پر چھوڑا کوئی جائیداد ان کے نام وقف نہیں کی۔ وصیت فرمائی تو صرف تین باتوں کی۔ نماز، غلاموں اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک یہود و نصارٰی کا جزیرۃ العرب سے اخراج عہدِ نبوت کے بعد گھرانہ نبوی کے خرچ کا بندوبست یہ تھا کہ:
خیبر اور فدک کی جو زمینیں تھیں ان کا انتظام (بعد از سیدنا ابی بکر رضی اللہ عنہ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ اس طرح حضرت عمر فاروقؓ نے متروکہ زمینوں کو دو حصوں پر تقسیم کر دیا۔ ایک اموال بنی نظیر یعنی جائیداد مدینہ جس میں سے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے سالانہ مصارف دیئے جاتے تھے۔ اس کا انتظام تو حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا اس لیے کہ دونوں حضرات خواست گار تولیت ہوئے کہ وقفِ نبوی میں ذوی القربیٰ یعنی اقرباء نبوی کا بھی حق ہے بلکہ ان کا حق سب سے مقدم ہے اور یہ دونوں حضرات ذوی القربیٰ کے احوال اور ان کی ضروریات سے بخوبی واقف تھے۔ (سیرت المصطفیٰ: جلد، 3 صفحہ 379 از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ)
سوال نمبر 358: قران مجید میں جو وصیت کا حکم آیا ہے وہ نقل فرما دیجئے؟
جواب: كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَكَ خَيۡرَا اۨلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ (سورۃ البقرة: آیت 180)
ترجمہ: تم پر لکھا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اگر وہ مال چھوڑ کر مرا ہے تو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے۔
واضح رہے کہ والدین اولاد وغیرہ مقررہ حصص والے وارثوں کے لیے وصیت کا حکم منسوخ ہے ناسخ يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ (اللہ تم کو اولاد کے متعلق تاکیدی حکم دیتا ہے) آیت ہے۔ حصہ نہ پانے والے وارثوں کے لیے تہائی مال تک سے وصیت ہو سکتی ہے مگر یہ حکم استحبابی ہے واجبی نہیں۔ (کتبِ میراث)
سوال نمبر 359: کیا رسولِ خداﷺ عاملِ قران تھے؟
جواب: جی ہاں مگر آپ پر وصیت واجب نہ تھی کیونکہ قابلِ تقسیم ورثہ و ترکہ ہی نہ تھا۔ اُمُّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ما ترک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عند موتہ درھما ولا دینارا ولا عبدا ولا امۃ ولا شیئا الا بغلتہ البیضاء وسلاحہ و ارضا جعلھا صدقہ (بخاری: جلد، 2 کتاب الوصایا)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے اپنی موت کے وقت دینار، درہم، غلام باندی وغیرہ کچھ بھی نہ چھوڑا صرف سفید خچر اور ہتھیار ترکہ تھے اور وہ زمین (مالِ فے وغیرہ کی) جو صدقہ کر گئے تھے۔
سوال نمبر 360: اگر نہیں تھے تو امت کو عمل قرآن کی تعلیم کیوں فرمائی؟
جواب: عامل تھے۔ عمل کی تعلیم دینا آپﷺ کے ذمہ تھی کیونکہ کئی احکام آپﷺ کے لیے خالص ہیں اور کئی آپﷺ کی امت کے لیے اور کئی عام ہیں۔ آخری دونوں کی یقیناً تعلیم دی مگر صد افسوس کہ شیعہ نے اس قرآن کا انکار کر دیا جو آپﷺ امت کو تعلیم دے گئے تھے۔
سوال نمبر 361: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا شیخین رضی اللہ عنہما سے قطع کلامی کی تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بی بی صاحبہ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو خطاوار ٹھہرایا ہے؟
جواب: خطا وار ٹھہرانا دو طرح ہوتا ہے۔ 1: زبانی طور پر کہنا یا روکنا۔ اس طرح تو ان کو ادب مانع رہا۔ 2۔ دل میں ایسا سمجھ لینا۔ پھر عملاً تائید و نصرت نہ کرنا۔ دوسری صورت یقیناً پائی گئی۔ سیدنا عباس و سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے کوئی تائید و نصرت نہ کی۔ تبھی تو حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو بہت سخت سست کہا۔ ہم سنی کیوں ہیں صفحہ 250 میں حق الیقین کی وہ عبارت ہم لکھ چکے ہیں۔ یہاں دوبارہ لکھنے سے ادب مانع ہے اور یہ جواب شیعہ پروپیگنڈہ کا ہے۔ ورنہ ہمارے اعتقاد میں یہ رنجش بالکل وقتی تھی۔ جیسے والدین اور اولاد میں بھی ہو جاتی ہے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے معذرت کرنے سے راضی ہو گئیں یا وجدت، حزنت (غمگین ہوئیں) کے معنوں میں ہے پھر ترک کلام تین دن سے زائد شرع میں منع ہے۔ ہم سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا پر الزام نہیں لگا سکتے۔ جو شیعہ لگاتے ہیں کیونکہ یہ گناہ ہے۔
سوال نمبر 362، 363: بعد از وفات سیدہ فاطمہؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اولادِ سیدہ فاطمہؓ میں سے کسی نے اس اقدام کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا؟ تو نشاندہی کریں۔
جواب: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں بھی ورثاء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہ دیا۔ نہ شیخین رضی اللہ عنہما کے عہد میں ان کو مالک بنایا نہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا۔ حالانکہ متولی خود تھے۔ تو یہ عملی کاروائی اس کا بین ثبوت ہے کہ اس اقدام کو انہوں نے غلط فہمی کا نتیجہ سمجھا۔ پھر وہ اکابر شیعہ مذہب نہ رکھتے تھے کہ کسی کی غلطی و خطا کو گاتے پھریں۔ ہم اہلِ سنت بھی ایسی جرأت و صراحت نہیں کرتے اور نہ کاملین کی لغزشوں کا ورد اور پھر مناظرہ بازی اچھی بات ہے۔ لہٰذا وقتی واقعہ کو وہ موضوع سخن نہ بناتے تھے۔ آخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خطا وار ٹھہرانے کی بھی ان سے صراحت منقول نہیں ہے حضرت زیدؓ کا ایسا قول 368 میں آ رہا ہے۔
سوال نمبر 364: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بی بی پاک (حضرت فاطمہؓ) سے گواہ طلب کیے۔ کیوں؟
جواب: ایسی روایت کو ہم مستند نہیں مانتے۔ رافضیوں کی بھرتی ہے۔ بالفرض کیے ہوں تو مُدعی سے گواہ مانگنا قرآن کا حکم ہے۔ (پارہ 3 رکوع 7)
سوال نمبر 365: کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث لا نورث بیان کرتے وقت گواہ پیش کئے۔
جواب: یہ حدیث حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ذاتی سماع از پیغمبرﷺ سے حاصل تھی اس لیے گواہ کی حاجت نہ تھی۔ حکمِ پیغمبرﷺ ہے۔ بلغوا عنی ولو اٰیۃ ایک حدیث و آیت بھی یاد ہو تو تبلیغ کر دو۔
سوال نمبر 366: کیا آپ اس اصول کو مانتے ہیں کہ قبضہ دلیلٹ ملکیت ہوتا ہے؟
جواب: دلیلِ تام نہیں ہوتا۔ نشانی اور قرینہ بن سکتا ہے۔ مگر یہ بھی اہلِ سنت کی ہی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہؓ کو قبضہ حاصل نہ تھا۔ ورنہ زیرِ قبضہ چیز کے لیے دعویٰ کی کیا ضرورت؟ سیدہ فاطمہؓ نے بیدخلی کا دعویٰ نہ کیا تھا وہ تو انتقالِ وراثت چاہتی تھیں۔
سوال نمبر 367: اگر کوئی فریقِ مقدمہ اپنے خلاف مقدمہ کا خود ہی فیصلہ کر دے تو اس کی قانونی نقطہ نگاہ سے کیا حیثیت ہوتی ہے؟
جواب: یہ نرالا دستور شیعوں سے ہی معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ نے عقل و نقل کے خلاف مقدمہ مدعیٰ علیہ کی عدالت میں دائر کیا اور امام برحق سیدنا علی المرتضیٰؓ کی عدالت کو چھوڑ دیا۔ دو باتیں لازم ہیں یا تو سیدہ معصومہ (حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا) نے غلطی کی کہ ظالم کے پاس مقدمہ لے گئیں یا پھر امام اوّل برحق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کر کے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر حقانیت کی اور مذہبِ شیعہ کے غلط ہونے پر مہر لگا دی۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ مدعیٰ علیہ یا فریقِ مقدمہ نہ تھے بلکہ قاضی منصف تھے ہاں مدعیٰ علیہم فقراء اور مساکین تھے جن کا حق اس دعویٰ سے متاثر ہوتا تھا۔ آپؓ چونکہ ان کے والی اور نمائندے تھے اسی لیے فرمانِ رسولﷺ کو مؤید تسلیم کر کے انتقالِ ارث کا فیصلہ نہ کیا بلکہ بحقِ فقراء وقف قرار دیا تو قانونی حیثیت سے مقدمہ کا فیصلہ مضبوط اور ٹائٹ ہے۔
سوال نمبر 368: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے اقوال سے ثابت کریں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ مبنی برحق تھا پھر توثیق کریں تاکہ شیعوں کا منہ بند ہو جائے؟
جواب:خدا نے فیصلہ دیا کہ مالِ فدک و فے 8 قسم کے لوگوں کا حق ہے۔ (پارہ 28) شیعوں کا منہ بند نہ ہوا وہ صرف قربیٰ کا حق بتاتے ہیں۔ رسولِ خداﷺ آٹھ مصارف پر خرچ کر کے عملی فیصلہ دیا شیعہ مطمئن نہ ہوئے تنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دینے کی بات گھڑ لی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ و حضرت حسنؓ نے اپنے دورِ خلافت میں وہی فیصلہ برقرار رکھا جو حضرت نبی کریمﷺ اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ مگر شیعوں کا منہ بند نہ ہوا۔ اب اگر اقوال سے ثابت کر دیں تو کیا ضمانت ہے کہ شیعوں کا منہ بند ہو جائے گا۔ کیا قول عمل سے زیادہ وزنی ہوتا ہے؟ حضرت زید بن علی بن حسین رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: اما انا لو کنت مکان ابی بکر لحکمت بما حکم به ابوبکر فی فدک کہ اگر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جگہ خلیفہ ہوتا تو فدک کا وہیں فیصلہ کرتا جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کیا۔ (رواہ البیہقی بسند صحیح، البدایہ: جلد، 5 صفحہ، 290 و صواعق محرقہ)
اب یہ پوتے کا قول دادا جی رضی اللہ عنہ کا ترجمان ہے مگر شیعوں کا منہ اب بھی بند نہیں ہو گا دراصل شیعوں کا منہ قبر کی مٹی اور جہنم کی آگ بھرے گی۔
سوال نمبر 369: قرآن سے ایک نبی کی مثال دیں جس کے وارثوں کو محروم کیا گیا ہو؟
جواب: سوال نمبر 334 میں چار مثالیں اس قسم کی ہم نے دے دی ہیں مراجعت کریں۔
سوال نمبر 370: کیا وفات سے پہلے سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا سہواً اپنی خطا پر نادم ہوئی تھیں؟
جواب: حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے پُر عظمت مقام کا تو یہی تقاضا ہے کہ نانا سے فرمانِ رسولﷺ سن کر لاعلمی سے یہ مطالبہ کرنے پر پشیمان ہوئی ہوں جیسے حضرت آدم اور نوح علیہما السلام سے ظاہر ہوئی تھی۔ راویوں کے غلط فہمی سے قطع نظر کی جائے تو ان الفاظ سے اسی ندامت کا اظہار ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی حتیٰ کہ فوت ہو گئیں۔
مسند احمد جلد 1 صفحہ 4 (مسانید ابی بکرؓ) میں ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا فانت وما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلم کہ آپؓ جانے اور فرمانِ رسول اللہﷺ (میں مقدمہ سے دستبردار ہوئی) کیونکہ آپؓ اسے خوب جانتے ہیں۔
سوال نمبر 371: اگر بی بی پاک (سیدہ فاطمہؓ) نے ایسا نہیں کیا تو یہ فعل آپ کی نظر میں کیسا ہے؟
جواب: سکوت کیا۔ اور خاموشی نیم رضا ہوتی ہے۔