آیت تطہیر سے متعلق شیعہ امامیہ کے استدلال کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ
علی محمد الصلابیا: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث چند لفظوں کے ساتھ وارد ہے:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہتی ہیں:
کَانَ النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم عِنْدِیْ وَعَلِیٌّ وَّ فَاطِمَۃُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ ، فَجَعَلْتُ لَہُمْ خَزِیْرَۃٌ ، فَأَکَلُوْا وَ نَامُو ْا غَطَّی عَلَیْہِمْ عَبَائَ ۃً أَو قَطِیْفَۃٌ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَاء ِ أَہْلُ بَیْتِیْ أَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیْرًا۔
وَفِیْ روَایَۃ أُخری: أَنَّہُ صلي الله عليه وسلم أَجْلَسَہُمْ عَلَی کِسَائٍ ثُمَّ أَخذَ بِأَطْرَافِہِ الْأَرْبَعَۃِ بِشِمَالِہِفَضَمَّہُ فَوْقَ رُؤْوْسِہِمْ ، وَأَوْمَا بِیَدِہِ الْیُمْنٰی إِلَی رَبِّہِ فَقَالَ: ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِیْ فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطہِیْرًا۔
’’میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، علی، فاطمہ، حسن اور حسین( رضی اللہ عنہم ) تھے، میں نے ان کے لیے خزیرہ (قیمہ اور آٹے سے بنا کھانا) تیار کیا، ان لوگوں نے کھایا اور سو گئے، آپ نے ان پر چادر ڈالی اور کہا: اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں، ان کی گندگی کو دور کردے اور انھیں پاک کردے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک چادر پر بٹھایا، پھر اس کے چاروں کونوں کو اپنے بائیں ہاتھ سے ان کے سروں پر پکڑ لیا، اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے رب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں، ان کی گندی کو دور کر دے اور انھیں پاک کردے۔‘‘
یہ دونوں روایتیں اور امام مسلمؒ کی روایت کردہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اس بات پر متفق ہیں کہ یہ پانچوں آیت میں داخل ہیں، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرے اس میں داخل نہیں ہیں۔
(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 177)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی کچھ روایتیں وارد ہیں جن میں اس طرح کے اضافے ہیں جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آیت کے مفہوم میں داخل نہ ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں وہ سب ضعیف ہیں، لیکن درج ذیل روایت صحیح ہے:
جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞
نازل ہوئی، تو آپﷺ نے فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، انھیں ایک چادر اڑھا دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپﷺ کے پیچھے تھے انھیں بھی چادر اڑھا دی، پھر فرمایا:
اللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِیْ فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِرْہُمْ تَطْہِیْرًا۔
’’اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں، ان کی گندگی کو دور کردے، اور انھیں پاک کردے۔‘‘
سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی جگہ پر ہو اور تم بہتری میں ہو۔‘‘
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 727، رقم 1994 اس کی سند ضعیف اور اس کے دوسرے قوی طرق ہیں۔)
ایک دوسری بہت اہم روایت ہے جو اسنادِ حسن سے مروی ہے اور اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اہل کساء کے کساء سے نکلنے کے بعد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس میں داخل ہوئی تھیں۔
(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 177)
بعد میں داخل ہونے کا سبب یہ ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ہی چادر میں داخل ہونا درست نہیں تھا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اہل کساء کے نکلنے کے بعد داخل کیا۔
’’شہر‘‘ سے مروی ہے کہتے ہیں جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اہل عراق پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، کہہ رہی تھیں: انھوں نے انہیں شہید کردیا، اللہ انھیں قتل کرے، ان کو دھوکہ دیا اور رسوا کیا، اللہ کی ان پر لعنت ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپﷺ کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہانڈی میں بصورت عصیدہ (گھی اور آٹے کا حلوہ) کھانا ایک طبق میں اٹھائے آئیں، اور آپﷺ کے سامنے رکھ دیا، آپﷺ نے ان سے پوچھا: تمھارے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟ کہا: وہ گھر میں ہیں، فرمایا: جاؤ انھیں بلاؤ اور ان کے دونوں بچوں کو بھی میرے پاس لے آؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ اپنے دونوں بچوں کو ہر ایک ایک ہاتھ میں پکڑے لے آئیں، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے آرہے تھے، سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپﷺ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے داہنے اور سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے بائیں بٹھایا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپﷺ نے خیبر کی بنی ہمارے سونے والی چادر کو کھینچا اور اس کو اس طرح سمیٹا کہ اس کے دونوں کناروں کو اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا اور داہنے ہاتھ کو آسمان کی جانب اٹھا کر فرمایا: اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں، ان کی گندگی کو دور کردے، اور انھیں پاک کردے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپﷺ کے اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں، تم بھی چادر میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ جب آپﷺ اپنے چچا زاد بھائی علی، ان کے دونوں لڑکے اور اپنی صاحبزادی فاطمہ ( رضی اللہ عنہم ) کے حق میں دعا سے فارغ ہوئے تو میں چادر میں داخل ہوئی۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 852، رقم 1170 اس کی اسناد حسن ہے۔)
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے اہل بیت میں سے ہونے کی گواہی دی، اور انھیں دعا دینے کے بعد ان کو چادر میں داخل کیا۔
(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 178)