تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق…

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 6

سوال نمبر 372: کیا عمِّ رسول اللہﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر راضی ہوئے؟

جواب: جی ہاں یقیناً تبھی تو شیعہ ان کو ضعیف الایمان ذلیل النفس اور خوار کے الفاظ سے گالیاں دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔ حیات القلوب مجلسی ذکرِ عباسؓ جلد 2 

ہم نے تاریخوں کا بغور مطالعہ کیا ہمیں طبری، تاریخِ اسلام ندوی اور نجیب آبادی وغیرہ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اختلاف یا بیعت نہ کرنے کا کہیں تذکرہ نہیں ملا۔ جس کا معنیٰ یہ ہے کہ 33 ہزار بیعت کرنے والے مہاجرین و انصار اور قریش کے ساتھ آپؓ نے بھی بیعت کی اور برضا و رغبت کی۔

سوال نمبر 373: اگر عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کنارہ کش رہا تو اس کی بشارت برقرار رہے گی؟

جواب: کوئی صحابیؓ بھی بیعتِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کنارہ کش نہ رہا سب نے کر لی۔

سوال نمبر 374: اگر رہے گی تو کیوں منکرِ خلافتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مستحقِ سزا سمجھا جائے؟

جواب: منکرِ خلافت کوئی نہ تھا تو قطعی اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین قائم ہو گیا۔ اب اس کا منکر کافر ہو گا۔ فرمانِ الہٰی ہے: 

وَ يَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ‌ (سورۃ النساء: آیت 115) 

ترجمہ: جو مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر اور راستے چلا ہم اسے جانے دیں گے جدھر وہ ہو جاتا ہے پھر اسے دوزخ میں داخل کریں گے۔

سوال نمبر 375: اگر بشارت نہیں رہے گی تو تمام عشرہ مبشرہ کی بیعت ثابت کیجیئے؟ 

جواب: عشرہ مبشرہ سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیعت کی ثبوت ملاحظہ ہو:

1: یہ فرمانے کے بعد سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بشیر بن سعد انصاریؓ نے بیعت کی پھر تو یہ کیفیت پیدا ہوئی کہ چاروں طرف سے لوگ بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ یہ خبر باہر پہنچی اور لوگ سنتے ہی دوڑ پڑے۔ غرض تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بلا اختلاف متفقہ طور پر بیعت کر لی۔ (مہاجرین میں سب عشرہ مبشرہ داخل ہیں۔) انصار میں سے صرف حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اور مہاجرین میں سے ان لوگوں نے جو تجہیز و تکفین کے کام میں مصروف تھے اس وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں بیعت نہیں کی حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تھوڑی دیر بعد اسی روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے یہ باتیں سن کر فوراً شکایت واپس لے لی اور اگلے روز مسجدِ نبوی میں مجمع عام کے روبرو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ (تاریخ الاسلام از اکبر شاہ: جلد، 1 صفحہ، 238، 239)

2: تاریخِ طبری: جلد، 3 صفحہ، 222، 223 کے جملے یہ ہیں:

فاقبل الناس من کل جانب یبالعون ابابکر

ترجمہ: لوگ ہر طرف سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرنے آ گئے۔

3: وتتابع القوم علی البیعۃ و بایع سعد

ترجمہ: بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر قوم ٹوٹ پڑی اور سیدنا سعد بن عبادہؓ نے بھی بیعت کی۔ 

4: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہر جماعت میں ایسی محترم تھی کہ اس انتخاب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا تھا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے ساتھ مسلمان بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ اس کے دوسرے دن مسجدِ نبوی میں عام بیعت ہوئی ربیع الاوّل 12 ہجری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے۔ (تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 109)

مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: امام طبری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعدؓ نے بھی تھوڑی دیر کے بعد اسی دن سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔ (سیرت المصطفیٰ: جلد، 2 صفحہ، 366)

اور البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 247 پر ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا سعدؓ سے پوچھا: تو جانتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے امرِ خلافت کے قریش والی ہیں ان کے نیک نیکوں کے اور برے بروں کے تابع ہیں تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے سچ کہا ہم وزیر ہیں اور تم امیر و حاکم ہو۔

5: سقیفہ بنو ساعدہ والی مجلس چونکہ اچانک درپیش آئی تھی۔ اس میں حضرت زبیرؓ اور حضرت علیؓ شریک نہ ہو سکے تھے ان کو دوستانہ شکایت تھی کہ ہمیں شریکِ مشورہ کیوں نہ کیا گیا تو کچھ دیر تو انہوں نے توقف کیا پھر جب حضرت علی المرتضیٰؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پوری صورتِ حال اور اختلاف کے اندیشہ سے ذمہ داری اٹھانے کی بات بتائی تو وہ مطمئن ہو گئے اور انہوں نے کہا: ہم صرف اس لیے ناخوش ہوئے تھے کہ مشورہ میں شریک نہ کیے گئے، ورنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہی ہم امامت کا سب سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ غار کے ساتھی ہیں ہم ان کی شرافت اور سب سے افضلیت کو پہچانتے ہیں رسولِ خداﷺ‏ نے اپنی زندگی میں ہی ان کو لوگوں کا امام نماز بنا دیا ہے۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ 59)

6: شیعہ کی سب سے مستند کتاب کافی کتاب الروضہ میں ہے:

امام باقر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ‏ کے بعد سوا تین آدمیوں کے سب مرتد ہو گئے۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) میں نے کہا تین کون ہیں فرمایا: سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا ابوذر غفاری، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اللہ کی ان پر رحمتیں اور برکتیں ہوں کچھ دیر کے بعد لوگوں کو پہچان ہوئی۔ امام باقرؒ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر چکی گھومی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ جب امیر المؤمنین (سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ) کو لے آئے تو آپ نے بیعت کی (پھر انہوں نے بیعت کی۔) ان تاریخی اور سنی و شیعہ روایات سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیعت کی۔ عشرہ مبشرہ، حضرت سعدؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت ابوذرؓ، حضرت سلمانؓ، حضرت مقدادؓ سبھی نے کی۔ 

اب شیعوں کو چاہیے کہ وہ اپنے امام کی پیروی کریں اور اختلاف چھوڑ دیں اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو امامِ اوّل مان لیں۔

سوال نمبر 376: حدیث کل طویل احمق الا العمر سے حضرت ابوبکر صدیقؓ مستثنیٰ کیوں نہیں؟

صفحہ 1 از 6