تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق…

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 6

جواب: یہ حدیث نہیں کسی کا مقولہ ہے قضیہ مہملہ ہے محصوہر کلیہ نہیں تو استثناء کی ضرورت نہیں۔

سوال نمبر 377: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ کوئی شخص پُل صراط پار نہ کر سکے گا جب تک حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس کو راہداری نہ دیں کیا راوی حدیث کو بھی ملے گا؟

جواب: جی ہاں! یقیناً ملے گا کیونکہ اسی حدیث کے جواب میں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے خوش ہو کر فرمایا اے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کیا تجھے میں خوشخبری نہ سناؤں؟ 

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یکتب الجواز الا لمن احب ابابکر (ابن السمان ریاض النظرہ: جلد، 1 صفحہ، 184)

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے پُل صراط کی راہداری صرف اسے لکھی ہوئی ملے گی جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہو۔ 

حدیث اگر صحیح ہے تو شیعہ اصول پر بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دوست و مؤمن ثابت ہوئے یقیناً راہداری پا کر جنت میں جائیں گے۔ دوست کا دشمن دشمن ہوتا ہے شیعہ اسی اصول پر راہداری سے محروم اور دوزخ میں جائیں گے۔

سوال نمبر 378: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دعویٰ کیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہوں؟

جواب: مسلمانوں کے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شیعوں کی طرح خود ستائی نہیں کرتے تھے انہوں نے خلیفہ منتخب ہو کر بھی پہلے خطبہ میں اس کی نفی کی۔ کیونکہ وہ ارشادِ قرانی فَلَا تُزَكُّوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ‌ (تم اپنی پاکی خود بیان نہ کرو) پر عامل تھے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کی فضیلت میں بہت کچھ بیان کیا اور فرمایا۔ مگر افضلیت پر بھی کوئی نص نہیں فرمائی۔ اہلِ سنت کی روایات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی شیخین رضی اللہ عنہما کی افضلیت میں بہت کچھ کہا روایات گزر چکی ہیں۔ مگر اپنے کو ان سے افضل نہیں بتایا مسئلہ افضلیت دراصل کسی بزرگ کے خود اپنے دعویٰ پر مبنی نہیں مگر اپنے کو ان سے افضل نہیں بتایا مسئلہ افضلیت دراصل کسی بزرگ کے خود اپنے دعویٰ پر مبنی نہیں۔ بلکہ ظاہر قرآن، احادیثِ نبوی، اجماعِ امت اور حضرت علی المرتضیٰؓ جیسے قاضی کے فیصلہ پر مبنی ہے۔ اور ہم تحفہ امامیہ میں سوال 4 میں مدلل بحث کر چکے ہیں۔ 

اور کمال اسی میں ہے کہ افضل خود کو افضل نہ جتلائے بلکہ معمولی مسلمان جانے، مگر خدا و رسولﷺ‏ اور اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و امت ان کو افضل کہیں۔ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ، رفیقِ غار، صاحبِ پیغمبرﷺ‏ بتائیں۔ مصلیٰ پر امام نماز بنائیں۔ لوگوں کو ان کی پیروی کا ان سے مسئلہ پوچھنے کا حکم دیں اور سب لوگ ان کو افضل اتقیٰ، ایمان کی روح، قلب کی لذت، عمل کی مسرت، آنکھوں کا نور، دل کا سرور اور واجب المحبت جانیں اور اس میں کوئی کمال نہیں کہ اپنے اعلیٰ اور افضل ہونے کا جگہ جگہ اعلان کریں۔ کارنامے جتلائیں مگر 10 (دس) آدمی بھی اسے قبول نہ کریں پھر اپنے حب دار ہی دشمن بن جائیں اور سارے آئمہ تقیہ کی زندگی بسر کریں۔

سوال نمبر 379: اگر کہا تو کوئی ان کا ایسا قول نقل کر دیجیے؟ 

جواب: ہمیں یہ نقل پسند تو نہیں تاہم مؤرخین نے لکھا ہے کہ بیعت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی تسلی کے لیے یوں فرمایا: کہ اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ کون مستحق ہے کیا میں وہ نہیں ہوں جس نے سب سے پہلے نماز پڑھی کیا میں ایسا نہیں کہ سب سے پہلے مسلمان ہوا کیا میں ایسا نہیں ہوں؟ تو انہوں نے چند واقعات اور فضائل بیان کے جو نبی کریمﷺ‏ کے ساتھ گزارے تھے۔ 

(طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 29 اردو تاریخ الخلفاء: صفحہ، 59 ریاض النضرہ: جلد، 1 صفحہ، 161)

سوال نمبر 380: اگر نہیں کیا تو پھر آپ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہونے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں؟

جواب: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ان فیصلوں کی وجہ سے کرتے ہیں: 

1: لوگوں نے جب آپؓ سے کہا آپ ہم پر کسی کو خلیفہ کیوں نہیں بنا دیتے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے کہا نبی کریمﷺ‏ نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا بس میں کیوں خلیفہ بناؤں لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ لوگوں کے ساتھ خیر کا ہو گا تو میرے بعد لوگوں کو کسی بہتر آدمی پر متفق اور مجتمع کر دے گا۔ 

کما جمعھم بعد نبیھم علی خیرھم اخرجہ البیہقی و اسنادہ جید (سیرۃ المصطفیٰ: جلد، 3 صفحہ، 370 ریاض النضرہ: جلد، 1 صفحہ، 161)

ترجمہ: جیسے کہ ان کے نبی کے بعد ان کے سب سے بہتر فرد پر ان کو جمع کر دیا تھا۔

2: بروایتِ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ‏ کے بعد امرِ خلافت میں ہم نے غور کیا تو یہ دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نماز میں آگے کر دیا تو ہم اپنی دنیا کے لیے اس پر راضی ہو گئے جس پر رسول اللہﷺ دین کے لیے راضی تھے ہم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو آگے کر دیا اور بالاتفاق خلیفہ مان لیا۔ (طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 31)

3: بروایت محمد بن حنفیہؒ بخاری میں ہے کہ میں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابا! حضور اکرمﷺ‏ کے بعد سب لوگوں سے بہتر کون ہے؟ فرمایا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور میں فکر میں پڑ گیا کہ پھر سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے تو خود کہہ دیا پھر آپ ہیں؟ فرمانے لگے میں ایک مسلمان آدمی ہوں۔

4: احمد وغیرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر و عمر

ترجمہ: اس امت کے سب سے بہتر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (پھر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ 

امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت علیؓ سے متواتر مروی ہے۔ اللہ رافضہ کو تباہ کرے کتنے بڑے جاہل ہیں۔

5: مجھے جو شخص بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے افضل کہے گا میں اسے جھوٹے کی سزا کوڑے لگاؤں گا۔ (تاریخ الخلفاءس: صفحہ، 42)

سوال نمبر 382: کشف المحجوب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان پکڑے کھینچ رہے ہیں اور فرماتے ہیں جس خرابی سے میں دو چار ہوا ہوں اسی کی وجہ سے ہوا ہوں۔ وہ خرابی کیا تھی؟

صفحہ 2 از 6