تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق…

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 6

جواب: یہ بات موجبِ اعتراض نہیں بلکہ کاملین کی خشیتِ الہٰی کا پتہ دیتی ہے کہ وہ اپنے خدا کے ڈر میں اپنے اعضاء و جوارح کو قصوروار بتاتے ہیں۔ حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ کی دعاؤں کا مجموعہ (صحیفہ کاملہ) ایسی باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

ذنوبی بلاءی فما حیلتی اذا کنت فی الحشر حمالھا

ترجمہ: میرے گناہ میری مصیبت ہیں میں کیا تدبیر کروں گا جب حشر میں ان کو اٹھا کہ لاؤں گا۔

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خدا کے آگے ایسی کسر نفسی گڑگڑاہٹ اور تضرع نصیب فرمائے۔ واضح رہے ان کاملین کے متعلق ہمارا عقیدہ راست بازی اور گناہوں سے حفاظت کا ہے مگر وہ خود ایسا اعتقاد اپنے حق میں نہ رکھ سکتے تھے کیونکہ یہ خوف و خشیتِ الہٰی کے برعکس خود ستائی اور تکبر کی بات بن جاتی ہے۔

سوال نمبر 383: منہاج السنہ میں ہے کہ حضرت سعدؓ بیعتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے منکر رہے۔ کیوں؟

جواب: یہ حضرت سعد بن عبادہؓ انصاری اور بنو خزرج کے سردار ہیں۔ عشرہ میں سے نہیں ہیں۔ عشرہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قریشی مہاجر ہیں جن کی بیعت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلّم ہے۔ سیدنا ابنِ عبادہؓ خود خواہش مند تھے مگر قوم نے بھی ساتھ نہ دیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہو گئی تو کچھ دیر علیحدہ رہے مگر پھر بیعت کر لی جیسے حوالہ جات سوال نمبر 375 میں گزر چکے۔ اور مسبوط سرخسی جلد سوم میں بھی بیعت کرنا لکھا ہے یہی صحیح ہے۔ ان کے پُرعظمت مقام کا تقاضا ہے۔ جو کچھ مؤرخین نے اس کے خلاف لکھا وہ سب غلط ہے کیونکہ لوط بن یحییٰ دروغ گو رافضی ہے۔ طبری میں اس کے بہت ہفوات مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو (طبری: جلد، 3 صفحہ، 222)

سوال نمبر 384: جس طریقے سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ بنایا گیا کیا وہ مبنی برخیر ہے؟

جواب: ہم بارہا کتابوں میں لکھ چکے ہیں کہ سقیفہ بنو ساعدہ جو سیدنا سعد بن عبادہؓ کے مکان کا چبوترہ تھا۔ میں انصار نے اجتماع کیا تھا۔ حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کو تو ایمرجنسی حالات کے تحت مجبوراً جانا پڑا۔ طبری سے ملاخطہ ہو:

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو (انصار کے اجتماع کی) خبر ملی تو حضور اکرمﷺ کے مکان پر آئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بلایا۔ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اسی مکان پر تھے اور حضرت علیؓ بن ابی طالب کفنِ پیغمبرﷺ کی تیاری میں تھے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا کہ میری طرف نکل کر آو۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے قاصد کو یہ جواب دے کہ بھیجا: اِنِّی مُشْتَغلٌ میں تدفین کے بندوبست میں مشغول ہوں۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ نے کہلا بھیجا کہ ایک واقعہ درپیش آ چکا ہے آپؓ کا ہونا ضروری ہے۔ تب حضرت ابوبکرؓ نکلے تو سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا کہ آپؓ کو پتہ نہیں کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار جمع ہیں وہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔ الخ

اب یہ دونوں گئے اور راستے میں سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بھی مل گئے، عاصم بن عدی اور عویم بن ساعدی سامنے سے ملے تو کہنے لگے تم واپس جاؤ تمہارا مقصد پورا نہ ہو سکے گا یہ کہنے لگے ہم کچھ نہیں کریں گے۔ جاتے ہی حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اسلام کی آمد و برکت اور انصار کی فضیلت ایسے بیان کی اور الائمۃ من قریش سنایا کہ انصار آپؓ کی طرف متوجہ ہو گئے ایک آواز منا امیر و منکم امیر کی بھی آئی مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی۔ پھر سیدنا بشیر بن سعدؓ انصاری نے مہاجرین کی تائید کی تو میدان صاف ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما میں سے جسے چاہو خلیفہ بنا لو تو ان دونوں نے فرمایا: خدا کی قسم ہم آپؓ کے مقابل خلیفہ نہیں بن سکتے۔ آپؓ سب مہاجرین سے افضل ہیں۔ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ ہیں۔ نماز میں رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہیں اور نماز سب دینِ اسلام سے افضل عمل ہے تو آپؓ سے کون بڑھ سکتا ہے یا آپؓ پر خلیفہ ہو سکتا ہے؟ ہاتھ بڑھائیے ہم بیعت کریں گے۔ یہ بڑھے ہی تھے کہ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ انصاری نے بیعت کر لی، پھر سیدنا عمر اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما کے بعد قبیلہ اوس نے، اسلم نے، اور قبیلہ خزرج سب نے بیعت کر لی۔ پھر جوں جوں مہاجرین کو پتہ چلتا گیا آ کر بیعت کرتے رہے صرف تدفین میں مشغول افراد نے دوسرے دن بیعت کی۔ (انتہیٰ مختصر بلفظہٖ طبری: صفحہ، 219 تا 222)

اب انصاف سے سوچیے اس میں کیا خرابی کی بات ہوئی کس حکمت اور دانش سے انصار کا پروگرام ختم ہوا پھر واقعی فضائل کی بناء پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی۔ ورنہ ان کا اپنا ارادہ اور پروگرام کوئی نہ تھا صرف اختلاف سے بچنے کی خاطر یہ ذمہ داری اٹھائی۔ اگر نہ اٹھاتے یا مہاجرین یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کر کے لیٹ آتے تو انصار کا خلیفہ ہو جاتا گو مہاجرین للّٰہیت سے جھک بھی جاتے تو باقی عرب اطاعت نہ کرتے تو اختلاف اور انتشار برقرار رہتا۔

سوال نمبر 385: اگر خیر ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیوں کہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت بلا سوچے ناگہانی طور پر واقع ہوئی تھی تو اللہ نے اس کے شر سے بچا لیا آئندہ اگر کوئی اس طرح کرے تو اسے قتل کر دینا؟

جواب: ایمرجنسی حالات و حادثات کسی ضابطے کے تحت نہیں آتے۔ انصار کے اجتماع اور پروگرام کے پیشِ نظر سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ تھا مگر یہ سوال تب اٹھایا جاتا کہ غیر مستحق خلیفہ بن جاتا۔ جب فوری سوچ اور حکمتِ عملی سے انتخاب بھی مستحق ترین کا ہوا اور ہنگامہ و نقصان مسئلہ کی نزاکت و اہمیت کے باوجود کچھ نہ ہوا، جبکہ آج ترقی یافتہ دور میں صدارت تو کیا معمولی ممبری کے انتخابات میں کتنے حادثات اور دشمنیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو اس معاملہ کے خیر بن جانے میں کوئی شبہ نہیں پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہاں یہ بھی فرمایا ہے: کہ تم میں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا کون ہے؟ جس کی طرف (سفر کرنے کے لیے) اونٹوں کی گردنیں کاٹی جائیں۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 29 بروایت ابنِ عباسؓ)

صفحہ 3 از 6