تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق…

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 6

تو حضرت عمر فاروقؓ کا یہ فرمانا بجا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے قبیلہ کو جمع کر کے فوری بیعت لے لے اور وہ اہل بھی نہ ہو لوگ بھی متفق نہ ہو تو وہ تفریق بین المسلمین پیدا کرنے کی وجہ سے مستحقِ قتل ہے۔

سوال نمبر 386: اگر حضرت ابوبکرؓ کی حکومت آئینی اور جمہوری تھی تو اسے فلته کیوں کہا؟

جواب: لغت میں فلتۃ کا معنیٰ بغیر غور و فکر کا کام ہے خرج الرجل فلتۃ مرد اچانک نکل گیا وحدث الامر فلتۃ اچانک واقعہ ہو گیا۔ (مصباح اللغات: صفحہ، 644)

یہ ابتدائے واقعہ کے لحاظ سے فرمایا ہے کہ مہاجرین کا یا سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کا یہاں آتے وقت بھی کوئی ارادہ نہ تھا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی بیعت کریں جیسے راستے میں دو انصاری صاحبوں کے جواب میں کہا تھا کہ ہم کچھ نہیں کریں گے۔ بلکہ تاریخ تو ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کبھی اس کی تمنا نہ کی نہ خدا سے دعا کی۔ اقتدار و خلافت کرنے کا کبھی ان کے ذہن میں تصور بھی نہ آیا تھا۔ موسیٰ بن عقبہ کی مغازی اور مستدرک حاکم سے تصحیح شدہ روایت ملاحظہ ہو: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں امارات کا کبھی ایک دن رات بھی امیدوار نہ تھا۔ نہ شوقین تھا، نہ خدا سے کبھی اعلانیہ یا پوشیدہ مانگی تھی لیکن میں نے تو فتنے کے ڈر سے قبول کی۔ الخ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 58)

ہاں جب بیعت شروع ہو گئی اور مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سب نے کی جن دو مہاجروں نے شریکِ مشورہ نہ ہونے کے رنج میں بروقت تاخیر کی دو ایک دن بعد انہوں نے کر لی پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت واپس بھی کی مگر کسی نے قبول نہ کی۔ جیسے کنز العمال جلد، 3 صفحہ، 140 پر روایت ہے: 

اے لوگوں میں تمہاری بیعت واپس کرتا ہوں تم جس کی چاہو بیعت کر لو۔ ہر دفعہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے اللہ کی قسم تیری بیعت واپس نہ لیں گے نہ خلافت سے معزولی چاہیں گے کون ہے جو آپؓ کو پیچھے کرے جبکہ رسول اللہﷺ نے تجھے آگے کیا ہے۔ ریاض النضرۃ جلد، 1 صفحہ، 229 پر مستقل یہ باب ہے پھر 5 حدیثیں بالا مضمون کی ذکر کی ہیں۔

ان حقائق اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اتفاق کی روشنی میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے جمہوری یا آئینی ہونے میں کسی عقل مند اور مؤمن باللہ والرسول کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 387: اگر حکومت سازی کا یہ طریقہ اچھا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قتل کا حکم کیوں دیا؟

جواب: بس یار اس قے کو بار بار مت چاٹو۔ آپ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کا احسان مند ہونا چاہیے۔ کہ خلافت انصار رضی اللہ عنہم سے لے کر مہاجرین رضی اللہ عنہم کو پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پہنچائی۔ اگر یہ حضرات بروقت مداخلت نہ کرتے تو حضرت علی المرتضیٰ و حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو کبھی خلافت نہ ملتی اب کیا ہوا اگر انہوں نے قوم کی رضا سے اس دیگ سے اپنا مقدر حصہ اوّلاً کھا لیا اور پھر سب دیگ حضرت علی المرتضیٰؓ کے گھر آئی اور وہیں پر ختم ہوئی۔

غور فرمائیے اگر مسئلہ امامت شیعہ کے ہاں اتنا اہم ہے کہ کلمہ کا جزو ہے منکر کافر ہے اور تمام اصحابِؓ رسولﷺ معاذ اللہ گردن زونی ہیں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنی سیاسی بصیرت اور بیدار مغزی سے کام لینا چاہیے تھا۔ بعد از وفات اس کا اعلان کرتے ہیں اور لوگوں سے بیعت لیتے جیسے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے یہ سب کام کر لیے تھے۔ (جلاء العیون) آخر تکفینِ پیغمبرﷺ اس میں رکاوٹ تو نہ تھی جب ایسا نہ کیا تو انصار کو اپنے انتخاب و اجتماع کا موقع مل گیا تو قاصد کو آپؓ کے پاس آنا چاہیے تھا مگر وہ تو سب سے افضل اور ہر دلعزیز سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس آیا تھا جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تعلیمِ نبوی اور پیغمبرانہ برتاؤ کی وجہ سے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ہی افضل، مستحقِ خلافت اور مشکل قضیئے نپٹانے والا جانتے تھے۔ پھر جب صورتِ حال کا جائزہ لینے حضرت صدیقِ اکبرؓ حضورﷺ کے مکان سے ہی حضرت علیؓ کے پاس سے چلے۔ جیسے طبری جلد، 3 صفحہ، 219 کی صراحت گزر چکی۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ہو جاتے یا اپنا نمائندہ بھیج دیتے یا اتنا ہی کہلا بھیجتے ذرا صبر کرو میں بھی آ رہا ہوں۔ یہ سب مواقع کھو دئیے اور انصار سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر ہی متفق ہو گئے تو اگلے دن جب حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بیعت واپس کرنا چاہتے تھے تو اقالہ منظور کر لیتے اور خود بیعت لیتے مگر سب تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کی معذرت اور اچانک صورتِ حال کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قبول کیا۔ مشورہ میں عدمِ شرکت کی شکایت کو نظر انداز کیا اور بیعت کر کے مسلمانوں کے ساتھ متفق و متحد ہو گئے۔ اب صدیوں بعد ایک نادان دوست فرقہ غصب امامت کا فرضی راگ الاپ رہا ہے کتابیں لکھ رہے ہیں ہزاروں روپے کی فیسوں پر مناظرے ہوتے ہیں تمام مؤمنین صحابہؓ رسول پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے مسلمانوں میں فرقہ ورایت اور منافرت کا بت بچوایا جا رہا ہے کیا آج کوئی عقل مند مصنف اسلام اور مسلمانوں کا ہمدرد ان حرکات کو پسند یا مفید اسلام سمجھ سکتا ہے:

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت

سوال نمبر 388: حضرت رسالت مآبﷺ کے سارے وعدے کس نے پورے کیے؟

جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیے ریاض النضرہ جلد 1 صفحہ 167 پر باب ہے ذکر وفاہ بعدات رسول اللہﷺ اس بات کا ذکر کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے رسول اللہﷺ کے وعدوں کو پورا فرمایا پھر دو واقعات ذکر کیے ہیں۔

سوال نمبر 389: جناب ختمئی مرتبت (نبی کریمﷺ) کے قرضے کون پورے کرتا رہا؟

جواب: جو حکومت سے متعلقہ قرض تھے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورے کیے۔ خانگی ضرورت کے قرضے دکان داروں کو کوئی بھی ادا کر سکتا ہے اس کا خلافت سے تعلق نہیں۔

سوال نمبر 390: حضور اکرمﷺ‏ نے تبرکاتِ خاص کس کے حوالے کیے؟

صفحہ 4 از 6