تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق…

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 6

جواب: سب سے بڑا تبرک مسجدِ نبوی کا مصلیٰ اور منبرِ پیغمبرﷺ تھا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہی حوالے کیا۔ حوالہ کی حاجت نہیں۔ تمام نظام مالیات بھی آپؓ کے حصے میں آیا اور بطورِ خلیفہ اس کی آپؓ نے شرعی تقسیم کی کیونکہ سیدنا جعفر صادقؒ کی حدیث ہے: انفال (مالِ غنیمت یا فَے) وہ مال ہے جس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ سواریاں چلائیں یا جو کافروں میں بطورِ صلح دے دیا یا انہوں نے بخشش کر دیا اور ہر بنجر زمین اور وادیوں کے پیٹ رسول اللہﷺ کے قبضے میں ہوں گے اور آپﷺ‏ کے بعد خلیفہ و امام کے قبضے و تصرف میں ہوں گے وہ جہاں چاہے خرچ کرے۔ (اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 539)

اسی اصول پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس ترکہ پیغمبرﷺ میں آپﷺ‏ کے حکم کے مطابق وراثت نہیں چلائی بلکہ فدک، اموال بنو نضیر، صدقات اہلِ مدینہ خمس وغیرہ کو حسبِ شرح و صوابدید مساکین و مستحقین پر خرچ کیا۔ حوالہ جات گزر چکے۔ شیعوں کو بھی اس سے اختلاف نہیں پروپیگنڈا محض فرضی ہے۔

ہاں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ نے حضور اقدسﷺ کا خچر، ہتھیار اور کپڑے لیے۔ یہ نہلانے والے رشتہ دار لے سکتے ہیں۔ ان تبرکات کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں۔

سوال نمبر 391: کیا کتبِ اہلِ سنت میں ایسی مرفوع صحیح حدیث موجود ہے؟ جس میں حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خلیفہ یا وصی کے الفاظ سے حاکم ہونے کا امت کو حکم فرمایا ہو۔

جواب: خلافت پر دلیل ایسے ہر قسم کے الفاظ کی حدیثیں ہیں جو تحفہ امامیہ سوال 13 میں صفحہ 279 تا 287 مذکور ہیں۔

مطلوبہ احادیث یہ ہیں: 1: ابو قاسم بغوی اپنی سند حسن کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو میں نے فرماتے سنا:

یکون خلفی اثنا عشرۃ خلیفۃ ابوبکر لا یلبث الا قلیلا صدر ھذا الحدیث مجمع علی صحته و ورد من طرق عدۃ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 52)

ترجمہ: میرے بعد 12 خلیفے ہوں گے (پہلے خلیفے) سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھوڑی زندگی خلافت کریں گے۔ اس حدیث کا شروع حصہ بالاجماع صحیح ہے اس کی کئی سندیں ہیں۔

2: ابنِ عساکر سیدنا ابنِ عباسؓ سے راوی ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ سے ایک عورت مسئلہ پوچھنے آئی آپﷺ نے فرمایا۔ پھر آنا۔ کہنے لگی اے اللہ کے رسولﷺ اگر پھر آؤں اور آپﷺ‏ کو نہ پاؤں یعنی آپﷺ‏ وفات پا جائیں تو فرمایا اگر تو آئے اور مجھے نہ پائے۔

فاتی ابا بکر فانه الخلیفۃ من بعدی

ترجمہ: تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آنا کیونکہ وہی میرا میرے بعد خلیفہ ہو گا۔ (ایضاً)

3: مسلم اور بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے مرض موت میں فرمایا اپنے باپ اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک نوشتہ لکھ دوں کیونکہ مجھے فکر ہے کہ کوئی آرزو کرنے والا آرزو کرے اور کہنے والا کہنے لگے میں زیادہ (خلافت کا) حق دار ہوں۔

ویابی اللہ والمؤمنون اِلا ابابکر

ترجمہ: خدا اور ایمان والے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سوا اور کسی کو خلیفہ نہیں مانتے۔

4: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا اگر رسول اللہﷺ خلیفہ نامزد کرتے تو کسے کرتے؟ تو فرمایا حضرت صدیقِ اکبرؓ کو پھر حضرت عمر فاروقؓ کو (صحیحین) ان جیسی احادیث میں رسول اللہﷺ نے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اشارات تو کر دیئے اور مصلیٰ کی امامت بھی دے دی۔ آخری وصایا کفن، دفن، غسل، نماز وغیرہ کے متعلق ارشاد فرما کر وصی بھی بنا دیا۔ (ملاحظہ ہو جلاء العیون: صفحہ، 75 حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 695) مگر مجمع عام بلا کر باقاعدہ خلیفہ ہونے کا اعلان نہ فرمایا تاکہ مسلمانوں کا حق انتخاب زائل نہ ہو اور نامزدگی یا نص کے بجائے شوریٰ تا قیامت اصولِ عام قرار پائے اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ نامزد خلیفہ اپنے آپ کو لوگوں کی باز پُرس سے پاک سمجھے گا۔ تو لوگوں کو شکایت ہو گی جب اپنا منتخب شدہ ہو گا تو لوگ شکایت کا ازالہ کر سکیں گے۔ پھر شارع کی طرف سے مقرر شدہ خلیفہ کی نافرمانی خدائی عذاب کو دعوت دیتی چنانچہ اس کی وجہ مسندِ بزار کی اس حدیث میں مذکور ہے۔

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ کیا آپ ہم پر خلیفہ مقرر نہیں کرتے تو آپﷺ نے فرمایا اگر میں تم پر مقرر کر جاؤں اور تم میرے خلیفہ کی نافرمانی کرو تو تم پر عذاب نازل ہو گا۔(اخرجہ الحاکم فی المستدک، تاریخ الخلفاء، سیرت المصطفیٰ: جلد، 3 صفحہ، 374)

سوال نمبر 392: جنازۂ رسولﷺ چھوڑ کر تدبیر حکومت کیوں ضروری ہوا؟

جواب: جنازہ کسی نے نہیں چھوڑا۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے سلیم بن قیس ہلالی روایت کرتے ہیں کہ 10 آدمی مہاجرینؓ کے اور 10 آدمی انصارؓ کے حجرہ مبارک میں داخل ہو کر نماز پڑھتے تھے پھر نکلتے تھے حتیٰ کہ مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک نہ بچا جس نے جنازہ نہ پڑھا ہو۔

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 45 مطبوعہ ایران 1302ھ)

تھوڑی دیر کے لیے اختلاف رفع کرنے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گئے تھے پھر واپس آ گئے تدفین سے قبل انتخاب کی حکمت یہ تھی کہ رسول اللہﷺ کے بعد ایسی شخصیت ضرور چاہیے تھی جو دین کا بندوبست کرے اختلافات کو نمٹائے۔ دشمنوں، منافقوں کو شرارت کرنے سے روکے۔ لہٰذا خلیفہ کا انتخاب تدفین سے قبل ضروری ہوا۔ شیعہ اصول بھی یہی ہے اور یہی وجہ شرح مواقف صفحہ 729 پر لکھی ہے جسے شیعہ بدیانتی سے بھیانک انداز میں پیش کیا کرتے ہیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عذر واضح تھا کہ انہوں نے بیعت میں جلدی مسلمانوں کی بڑی مصلحت جان کر کی۔ تاخیر میں جھگڑا اور اختلاف پڑتا تھا حتیٰ کہ تدفین بھی بیعت کے بعد کی۔ کیونکہ یہ اہم کام تھا تاکہ حضور اکرمﷺ کے دفن، کفن، غسل، نماز وغیرہ میں اختلاف ہو تو خلیفہ فیصلہ کر سکے۔ (شرح مسلم نووی: جلد، 2 صفحہ، 91)

سوال نمبر 393، 394: امکانِ سازش و حملہ کی صورت میں مرکز کی حفاظت ضروری ہے یا نہیں؟ یثرب کو خالی چھوڑ جانا حرصِ اقتدا کی ترکیب ہے یا حفاظتِ حکومتِ اسلامیہ؟

صفحہ 5 از 6