تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق…

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 6

جواب: آپ کی بددیانتی اور مسلم دشمنی پر آفرین ہے۔ یہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے روم پر روانگی پر طعن ہے۔ جب رسول اللہﷺ بیمار تھے اور لشکر نہ نکل سکا تو آپ شیخین سمیت سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ملعون بناتے رہے۔ (معاذ اللہ) اب جب خلیفۃ الرسول نے نامساعد حالات میں تاکیداتِ نبویﷺ کی وجہ سے بھیج دیا اور وہ کامیابی سے فاتح و منصور لوٹے تو آپ غصّہ سے اس لشکر پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ حضرت اسامہؓ کے لشکر کے روانگی ہی مرکز کی حفاظت اور سازشوں کی کمی کا باعث بنی۔ مورخین کا بیان ہے: چالیس دن کے بعد یہ مہم اپنا کام پورا کر کے فاتحانہ مدینہ واپس آئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شہر سے نکل کر اس کا استقبال کیا۔ اس کا اثر نہایت اچھا پڑا اس سے ایک طرف بیرونی طاقتوں کے دلوں پر خوف بیٹھ گیا۔ دوسری طرف انقلاب کرنے والوں کو اس کا یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی قوت کافی ہے۔ چونکہ مالِ غنیمت بھی خوب ہاتھ آ گیا تھا۔ لہٰذا آئندہ سرکشوں کو درست کرنے اور ملک کے امن و امان کو بحال کرنے میں اس مالِ غنیمت سے مسلمانوں کو بڑی امداد ملی اور فوجی دستوں کی روانگی میں سامانِ سفر کی تیاریاں زیادہ تکلیف دہ نہیں ہو سکیں۔ (تاریخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 110 ندوی و اکبر آبادی: جلد، 1 صفحہ، 232)

سوال نمبر 395: اشادِ خداوندی ہے: وہ وقت قریب ہے کہ تم لوگ حاکم بن جاؤ گے ارضِ خدا پر فساد برپا کرو گے اور اپنے رشتے منقطع کر لو گے ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کر دیا ہے اور آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔ کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دورِ آغاز فساد فی الارض اور انقطاع الارحام سے نہ ہوا؟

جواب: مرتدوں، منافقوں، اعلانیہ یا بتقیہ نبوت کے دعویداروں ذکوٰۃ کے منکروں پر اللہ کی لعنت ہو۔ ان سے جنگ عین شرعی جہاد ہے جس کی پیشن گوئی اور لڑنے والے خلیفہ کی حقانیت قران نے بیان کر دی ہے۔

اے ایمان والو جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا۔ (تو خدا کا کچھ نقصان نہیں) خدا عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن کو وہ دوست رکھتا ہے اور اس کو وہ دوست رکھتے ہیں۔ مؤمنوں کے لیے وہ رحم دل ہیں اور کافروں کے لیے سخت راہِ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ یہ فضل خدا کا ہے جس کو چاہے وہ عطا فرمائے اور خدائے تعالیٰ صاحبِ وسعت و علم ہے۔ (ترجمہ مقبول: صفحہ، 139 پارہ، 6 رکوع، 12)

سنی شیعہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ بعد از پیغمبرﷺ‏ فتنہ ارتداد ہوا تھا۔ ان سے جنگ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور آپؓ کے لشکر نے کی۔ جس کے ا ایک سپاہی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔یہی لشکر اس فضلیت کا مصداق ہے اور خلافتِ صدیقی پر زبردست برہان ہے۔

آیت بالا بے موقع نقل کر کے سائل۔ جو مرتدوں، منافقوں، منکرینِ زکوٰۃ کا حامی اور ایجنٹ ہے۔ نے ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ ہم تو جواب آن غزل کچھ نہیں دیتے مگر سبائیت کی دوسری شاخ خارجی اور ناصبی اوپر والی آیت جنگِ جمل و صفین اور نہروان کے ستر ہزار مقتولوں کے متعلق پڑھ کر حضرت علی المرتضیٰؓ پر معاذ اللہ فتویٰ لگایا کرتے ہیں۔ حقائق کی روشنی میں درست جواب ہمیں بھی سمجھا دیجیے تاکہ دشمن کے دانت کھٹے کر سکیں۔ هَلۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَـنَا (سورۃ الأنعام: آیت 148)




صفحہ 6 از 6