Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قرآن کی زبان میں اِذْہَابُ الرِّجْسِ گندگی ختم کرنا سے مراد معصوم ہونا نہیں ہے

  علی محمد الصلابی

راغب اصفہانی اپنی کتاب ’’مفردات الفاظ القرآن‘‘ میں ’’رجس‘‘کے مادہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’الرجس'‘ گندی چیز، رجل رجسی، و رجال ارجاس گندا آدمی، گندے لوگ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے:  

 رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ ۞ (سورۃ المائدة آیت 90)

ترجمہ: سب ناپاک شیطانی کام ہیں

اور شرعی اعتبار سے ’’رجس‘‘ شراب، جوا وغیرہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ’’رجس‘‘ اس لیے کہا ہے کہ شرک سب سے قبیح چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا اِلٰى رِجۡسِهِمۡ۞ (سورۃ التوبة آیت 125)

ترجمہ: رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں کچھ اور گندگی کا اضافہ کردیا ہے

 وَيَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ يونس آیت 100)

ترجمہ: اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، اللہ ان پر گندگی مسلط کردیتا ہے۔

آیت میں ’’الرجس‘‘ سے مراد گندا آدمی ہے یا عذاب، اور یہ اللہ کے اسی قول کے مانند ہے: (إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ)

مشرک نجس ہیں۔ 

الحاصل ’’الرجس‘‘ کی اصل گندگی ہے، اسے بول کر شرک مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ کے قول میں ہے:

 فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ۞ (سورۃ الحج آیت 30)

ترجمہ: لہٰذا بتوں کی گندگی اور جھوٹ بات سے اس طرح بچ کر رہو۔

نیز اس سے حرام کردہ خبیث چیزیں مراد لی جاتی ہیں، جیسے کھانے پینے کی چیزیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ۞ (سورۃ الأنعام آیت 145)

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لیے حرام ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ ۞ (سورۃ المائدة آیت 90)

ترجمہ: اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں۔

یہ بات ثابت نہیں ہے کہ قرآن نے ’’الرجس‘‘ کا لفظ مطلق گناہ کے لیے استعمال کیا ہے، اس لیے ’’الرجس‘‘ کا خاتمہ معصوم ہونے کو ثابت نہیں کرتا۔ 

( ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 181)