Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہادری کے واقعات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 404: آپ کے ہاں حضرت عمر فاروقؓ بہادر اور جری مانے جاتے ہیں۔ جنگِ بدر میں ان کے ہاتھ سے کتنے کفار مارے گئے یا زخمی ہوئے؟

جواب: جنگِ بدر میں مشہور بہادر، مُوذئ رسول اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ (ابنِ ہشام: جلد، 3 صفحہ، 289)

اشدھم فی امر اللہ عمر (اللہ کے قانون کے نفاذ میں سیدنا عمرؓ سب سے سخت ہیں) کا مصداق آپؓ نے ہی بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا پھر تائید میں قرآنی آیات اتریں۔ (کتب سیرت و تفسیر)

سیدنا عمر فاروقؓ یقیناً بہادر تھے چند واقعات سے اندازہ لگائیں:

1: حالتِ کفر میں حضور اکرمﷺ‏ کی شہادت کے لیے تنہا چلے تھے (معاذ اللہ) کسی اور کافر کو جرأت نہ ہوتی تھی۔

2: پھر جب حضورﷺ کی دعا: اللھم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب اے اللہ اسلام کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ذریعے غلبہ عطا فرما۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 65) قبول ہو گئی اور مسلمان ہو گئے۔ آپؓ سے 3 دن پہلے اگرچہ حضرت حمزہؓ بھی مسلمان ہو چکے تھے مگر مسلمان اعلانیہ کعبہ شریف میں نماز نہ پڑھ سکتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے تحریک اٹھائی اور سیدنا حمزہؓ نے تائید کی تو ان دونوں پہلوانوں کی ہمت اور بہادری سے مسلمان اعلانیہ نماز پڑھنے لگے۔ جو کافر مزاحمت کرتے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تنہا لڑتے اور غالب رہتے تھے۔

3: سیدنا سعید بن المسیّبؓ کہتے ہیں کہ 40 مردوں اور 10 عورتوں کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ اسلام لائے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لاتے ہی اسلام مکہ میں ظاہر ہوا۔ حضرت صہیب بن سنانؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرؓ اسلام لائے تو اسلام ظاہر ہوا اور اعلانیہ اس کی دعوت دی جانے لگی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: جب سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام لائے ہم لوگ برابر غالب رہے۔ حضرت محمد بن عبیدؓ نے کہا کہ ہمیں سیدنا عمرؓ کے اسلام لانے تک بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہ تھی جب حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو انہوں نے لوگوں سے جنگ کی یہاں تک انہوں نے ہمیں نماز کے لیے چھوڑ دیا۔

4: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ حضرت عمرؓ کا اسلام فتح تھی، ان کی ہجرت مدد تھی اور ان کی خلافت رحمت تھی۔ ہم نے اپنی وہ حالت دیکھی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے اسلام لانے تک ہم لوگ بیت اللہ میں نماز نہ پڑھ سکتے تھے، جب سیدنا عمر فاروقؓ اسلام لائے تو انہوں نے لوگوں سے جنگ کی یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور ہم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 68)

5: غزوۂ سویق کے لیے مسلمان گھبراتے تھے کیونکہ سیدنا ابو سفیانؓ کے کہنے پر نعیم بن مسعود نے مدینہ آ کے بڑی آب و تاب کے ساتھ قریش کی تیاریوں کا حال جا بجا بیان کرنا شروع کر دیا تھا لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے مسلمانوں کو جنگ پر آمادہ کیا اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپﷺ خدا کے سچے رسول ہیں پھر مسلمان ان خبروں کو سُن سُن کر کیوں گھبرا رہے ہیں۔ (تاریخِ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 153 از نجیب آبادی)

6: ہر کسی نے چھپ کر ہجرت کی، سیدنا عمر فاروقؓ نے اعلانیہ کی۔ (کتبِ سیرت)

7: غزوہ بنو المصطلق میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ عَلَم بردار تھے۔ مقدمۃ الجیش حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ قتال کے بعد خوب فتح ہوئی۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر آئی تھیں۔ (تاریخِ الاسلام، اکبر شاہ: صفحہ، 155)

8: ایک غنڈے کافر عمیر بن وہب کو صفوان بن امیہ سردار قریش نے حضورﷺ کے قتل کے لیے مدینہ بھیجا وہ مسلح اترا ہی تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نگاہوں اور تیور سے بھانپ لیا تو اسے پکڑ کر دبوچ لیا اور حضورﷺ کے سامنے پیش کیا اس نے ارادہ قتل کا اظہار کر کے اسلام قبول کر لیا یہ سن 3 ہجری کا واقعہ ہے۔ (سیرت النبیﷺ‏ از شبلیؒ: جلد، 2 صفحہ، 347)

9: زید بن سعنہ یہودی تاجر تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس نے کچھ قرض لینا تھا وقت آنے سے پہلے اس نے اجڈ پن سے حضورﷺ کے گلے میں چادر ڈال کر کھینچی سخت سست کہا کہ تم عبدالمطلب کے خاندان والو یونہی ہمیشہ حیلے حوالے کرتے ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا سزا دینا چاہی کہ رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، حضورﷺ نے مسکرا کر فرمایا: سیدنا عمر فاروقؓ! ایسا نہ کرو میرا قرض ادا کر دو اور 20 صاع کھجوریں زیادہ دو۔ (سیرت النبیﷺ‏: جلد، 2 صفحہ، 330)

10: فتح مکہ کے بعد حضرت ابو سفیانؓ کو سابق جرائم کی پاداش میں حضرت عمر فاروقؓ نے قتل کرنا چاہا مگر حضور اقدسﷺ نے منع فرما دیا اور اس کے گھر کو امن و امان کا حرم بنا دیا۔ ایسے واقعات میں حضور اکرمﷺ کے غفو و درگزر کے ساتھ ہی حضرت عمر بن خطابؓ کا اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ اور بہادر ہونا واضح ہو جاتا ہے۔ پھر کسی جنگ میں کسی کو قتل کرنے یا زخمی ہونے کا علم ہمیں ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ بالفعل شرکت اور ثابت قدمی بھی فضیلت کے لیے کافی ہے۔