Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

الرجس سے تطہیر کسی کے معصوم ہونے کو ثابت نہیں کرتی

  علی محمد الصلابی

جس طرح ’’الرجس‘‘ سے انسان کے گناہ اور اجتہادی غلطیاں مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد گندگی، بدبو، حسی و معنوی نجاستیں ہیں، اسی طرح ’’التطہیر‘‘سے مراد عصمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ صرف اہل بیت کی نہیں بلکہ ہر مومن کی تطہیر چاہتا ہے، اگرچہ اہل بیت تطہیر کے زیادہ حقدار ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ ۞ (سورۃ المائدة آیت 6)

ترجمہ: اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کردے،

نیز فرماتا ہے:

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيۡهِمۡ بِهَا۞ (سورۃ التوبة آیت 103)

ترجمہ: (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے

نیز فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 222)

ترجمہ: بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف کثرت سے رجوع کریں اور ان سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اہلِ بیتؓ کی تطہیر چاہتا ہے اسی طرح اس بات کی بھی خبر دی کہ وہ مؤمنین کی تطہیر چاہتا ہے، اگر تطہیر سے مراد معصوم ہونا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور عام مؤمنین بھی معصوم ہوتے، اس لیے کہ آیتوں میں ان کی تطہیر کے ارادے کی تصریح ہے، اور مسجد قبا میں آنے جانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ‏ ۞ (سورۃ التوبة آیت 108)

ترجمہ: اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

جب کہ یہ لوگ بالاتفاق معصوم نہیں تھے۔

تین سو تیرہ بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَيُنَزِّلُ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُمۡ بِهٖ وَيُذۡهِبَ عَنۡكُمۡ رِجۡزَ الشَّيۡطٰنِ ۞  (سورۃ الأنفال آیت 11)

ترجمہ: اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی گندگی دور کرے۔

اللہ تعالیٰ کے اس قول نے ان کے معصوم ہونے کو ثابت نہیں کیا ہے باوجودیکہ اہل بیتؓ کے بارے میں اللہ کے قول (لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا)اور اہل بدر کے بارے میں اللہ کے قول (وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ)کے مابین کوئی فرق نہیں ہے، ’’رجز‘‘ اور ’’رجس‘‘ دونوں کے قریب قریب ایک معنیٰ ہیں، اور دونوں آیتوں میں ’’یطہرکم‘‘ ایک ہے، لیکن نفس پرست لوگوں نے دوسری آیت کو چھوڑ کر صرف پہلی آیت کو معصوم ہونے کی دلیل مانا ہے۔

عجیب بات ہے کہ شیعی علماء اس آیت سے استدلال کرتے ہیں اور اسے اصحاب کساء کے ساتھ خاص کر دیتے ہیں، نیز اس میں ارادہ تطہیر سے اصحاب کساء کے معصوم ہونے کو ثابت کرتے ہیں، لیکن اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسری آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واسطے اللہ کے ارادہ تطہیر کا تذکرہ ہے، بلکہ ان کے مقابلے میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مطعون کرتے ہیں، پلٹ جانے کا الزام لگاتے ہیں حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تطہیر سے متعلق اپنے ارادے کی نص آیت سے تصریح کی ہے۔

(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 182)

وَمَنۡ لَّمۡ يَجۡعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوۡرًا فَمَا لَهٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ۞ (سورۃ النور آیت 40)

ترجمہ: اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں۔ 

آیت میں وارد ارادہ شرعی ارادہ ہے نہ کہ کونی ارادہ

اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ تمھاری گندگی کو ختم کردے، علمائے اہل سنت ارادہ شرعیہ دینیہ اور ارادہ قدریہ کونیہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ارادہ شرعیہ دینیہ: محبت اور پسندیدگی کے معنیٰ کو شامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ۞ (سورۃ البقرة آیت 185)

ترجمہ: اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا۔

نیز اللہ کا فرمان ہے: 

وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا ۞ يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ‌ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِيۡفًا‏ ۞ (سورۃ النساء آیت 27)

ترجمہ: اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری طرف توجہ کرے، اور جو لوگ نفسانی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر بہت دور جا پڑو۔ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔

ارادہ قدریہ کونیہ: یہ ارادہ اس مشیت کے معنیٰ میں ہے جو تمام موجودات کو شامل ہے، جیسے وہ ارادہ جو ان آیتوں میں وارد ہے:

وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ ۞ (سورۃ البقرة آیت 253)

ترجمہ: لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے 

وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِىۡۤ اِنۡ اَرَدْتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ‌ ۞ (سورۃ هود آیت 34)

ترجمہ: اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں تو میری خیر خواہی اس صورت میں تمہارے کوئی کام نہیں آسکتی جب اللہ ہی نے (تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) تمہیں گمراہی کرنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ 

اس طرح گناہوں سے متعلق اللہ کا ارادہ، ارادہ کونیہ قدریہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ان گناہوں کو پسند نہیں کرتا، نہ ان پر راضی ہوتا ہے، اور نہ ان کا حکم دیتا ہے، بلکہ انھیں ناپسند کرتاہے، ان پر ناراض ہوتا ہے، ان سے منع کرتا ہے، یہ تمام سلف اور ائمہ کرام کا قول ہے، چنانچہ وہ محبت و پسندیدگی کو مستلزم ارادہ شرعیہ اور ناراضی و عدم محبت کو مستلزم ارادہ قدریہ کونیہ کے مابین تفریق کرتے ہیں۔

(وسطیۃ اہل السنۃ بین الفرق: محمد با عبداللہ: صفحہ 387)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فاطمہ، حسن، حسین، علی، اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم سے گندگیوں کو ختم کردیا ہے، اور اس آیت میں ارادہ، ارادۂ شرعیہ دینیہ ہے، اسی لیے حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو چادر سے ڈھانپ دیا تو ان کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا تھا:

اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِیْ أَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ۔

(سنن الترمذی کتاب مناقب اہل البیت: رقم: 3787)

’’اے اللہ یہ سب میرے اہل بیت ہیں، ان سے گندگی کو ختم کردے۔‘‘