Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

احد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 405: جنگِ احد کے حالات میں کچھ کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضورﷺ کو نرغہ کفار میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔وہ ثابت قدم کیوں نہ رہے؟

جواب: یہ حوالہ جات میں کانٹ چھانٹ اور رافضی پروپیگینڈا ہے ورنہ حضرت عمر فاروقؓ و حضرت ابوبکر صدیقؓ کچھ اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کے ساتھ احد میں بھی ثابت قدم رہے۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

1: جب آپﷺ کے گرد خوب زور و شور سے ہنگامہ کار زار گرم تھا۔ تو ایک شقی کے پتھر پھینکنے سے آپﷺ کا ہونٹ زخمی اور نچلا دانت شہید ہوا۔ اسی حالت میں آپﷺ کا پائے مبارک ایک گڑھے میں جا پڑا اور آپﷺ گر گئے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہؓ نے آپﷺ کو اٹھا کر باہر نکالا۔ آپﷺ کے گرد جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک مختصر جماعت فراہم ہو گئی اور لڑائی شدت سے جاری ہوئی تو کفار کے حملوں میں سستی پیدا ہونے لگی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کفار کو مار مار کر ہٹایا اس حالت میں آنحضرتﷺ نے پہاڑ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے ساتھ پہاڑ کی ایک بلندی پر چڑھ گئے۔ مدعا اس سے یہ تھا کہ کفار کے نرغہ سے نکل کر پہاڑ کو پشت پر لے لیں اور لڑائی کا ایک محاذ قائم ہو جائے۔ چنانچہ یہ تدبیر یعنی لڑائی کے لیے بہترین مقام کو حاصل کرنا بہت مفید ثابت ہوا۔ مسلمانوں کے بلند مقام پر چڑھ جانے کے بعد ابو سفیان نے بھی اوپر چڑھنا چاہا اور وہ کفار کی ایک جماعت کو لے کر دوسرے راستے سے زیادہ بلند مقام تک چڑھنا چاہتا تھا کہ آنحضرتﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ کو حکم دیا کہ ان کو اوپر چڑھنے سے باز رکھو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چند ہمراہیوں کے ساتھ اس طرف روانہ ہوئے اور ابو سفیان کی جماعت کو نیچے دھکیل دیا۔ (تاریخِ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 145 از اکبر شاہ)

نرغہ میں گِھرنے کا پورا قصہ سامنے ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی ثابت قدمی اور خدمات بھی واضح ہیں۔ جنگی حکمتِ عملی کے لیے پیچھے ہٹ کر پہاڑ پر چڑھنے کو رافضی مورخوں نے فرار بنا ڈالا ہے۔ حالانکہ حضورﷺ نے بھی کفار کے نرغہ سے نکل کر پہاڑ کو پشت پناہ بنایا تھا۔ (خدا بد دیانتی اور بغض سے بچائے)

2: ابنِ اسحاقؒ نے کہا جب مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کو پہچانا تو حضورﷺ کو اٹھا لے چلے اور آپ بھی ان کے ساتھ گھاٹی کی طرف چلے۔ آپﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا طلحہ بن عبیداللہ، سیدنا زبیر بن العوام اور حارث بن صمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسلمانوں کی ایک جماعت بھی تھی۔ (ابنِ ہشام: جلد، 3 صفحہ، 89)

3: ابنِ اسحاقؒ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ پہاڑ کی گھاٹی پر تھے آپﷺ کے ساتھ مذکورہ بالا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت تھی کہ قریش پہاڑ کی اونچی چوٹی پر چڑھنے لگے۔ ابنِ شام کہتے ہیں کہ ان کے کمانڈر خالد بن ولید تھے۔ ابنِ اسحاق نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے دعا مانگی اے اللہ یہ پہاڑ پر چڑھنے نہ پائیں۔

فقاتل عمر بن الخطاب و رھط معه من المھاجرین حتیٰ اھبطوھم من الجبل (ابنِ ہشام: جلد، 3 صفحہ، 91 طبری: جلد، 2 صفحہ، 521)

ترجمہ: حضرت عمرؓ نے اور مہاجروں کی ایک جماعت نے اس دستہ کفار سے جنگ کی حتیٰ کہ ان کو پہاڑ سے اتار دیا۔

4: ابنِ سعدؒ فرماتے ہیں کہ اس ہلچل اور اضطراب میں 14 اصحاب کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ رہے سات مہاجرین اور سات انصار میں سے ان میں سب سے اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا نام گرامی ہے۔ (سیرت المصطفیٰﷺ‏: جلد، 1 صفحہ، 557)

5: مشرکین کی فوج میں بھی حضورﷺ کی شہادت کی خبر پھیل گئی تھی۔ ابو سفیان نے تصدیق کے لیے پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی محمدﷺ یہاں ہیں حضور اکرمﷺ‏ نے مسلمانوں کو جواب دینے سے منع کر دیا۔ ابو سفیان نے جواب نہ پا کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ کو آواز دی اس پر بھی جب کوئی جواب نہ ملا اس وقت اس نے مسرت میں نعرہ لگایا کہ سب مارے گئے۔ (اسلام کا خاتمہ ہو گیا) سیدنا عمر فاروقؓ سے ضبط نہ ہو سکا، بحکمِ پیغمبرﷺ بولے او دشمنِ خدا ہم سب زندہ ہیں۔ یہ سن کر ابو سفیان نے اعل ھبل کا نعرہ لگایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرتﷺ کے حکم سے جواب دیا: اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا لنا العزٰی ولا عزٰی لکم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: اللہ مولٰنا ولا مولیٰ لکم۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 37)

6: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر، سیدنا عمر بن الخطاب اور سیدنا طلحہ بن عبید اللہ اور دیگر انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم کے کچھ افراد کے پاس پہنچے جب کہ انہوں نے جنگ سے ہاتھ گرا دیئے تھے پوچھا کیوں بیٹھ گئے ہو۔ کہنے لگے: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔حضرت انسؓ نے کہا پھر تم ان کے بعد جی کر کیا کرو گے اٹھو باعزت اسی طرح مر جاؤ۔ جیسے رسول اللہﷺ شہید ہوئے۔ پھر سیدنا انسؓ مشرکین کے سامنے آئے اور جنگ کی تا آنکہ شہید ہو گئے۔ (تاریخِ طبری: جلد، 2 صفحہ، 517)

یہاں سے پتہ چلا کہ یہ خاص بہادروں کا گروہ بھاگا نہ تھا۔ البتہ شہادتِ رسولﷺ کی خبر سن کر غمزدہ ہوا اور ہمت ہار بیٹھا۔ پھر جب حضورﷺ کے زندہ ہونے کا اعلان ہوا تو آپﷺ کے ہمراہ ہو گیا اور مذکورہ بالا واقعات میں اہم کردار ادا کیا۔

سوال نمبر 406: جنگِ خندق میں عمرو بن ود کی للکار میں سیدنا عمر فاروقؓ نے کیا جواب دیا؟

جواب: بہت تلاش کیا۔ مگر عمرو بن ود کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پکارنا اور مکالمہ کسی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا۔ اتنا پتہ چلا کہ عمرو بن ود کو دعوتِ اسلام کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ اس کے ایک ساتھی کو سیدنا زبیرؓ نے قتل کیا۔ ایک ڈر کے مارے خندق میں گر پڑا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اتر کر گردن کاٹ لی۔

ضرار بن خطاب کے ہاتھ میں برچھا تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے تلوار کے ذریعے اسے مار بھگایا۔