حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی…

حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 5

جواب: اس سوال میں سائل واقعی دھوکہ باز اور 420 نکلا اور یہ مثل اسی موقع کے لیے بولی گئی ہے خصم نانی کرے تاوان نواسوں پر پڑے۔ بغض و حسد تو وہ کریں جو دولت پا کر عیاش بن جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم کو شہید کر دیں پھر چوتھی خلافت میں خانہ جنگی جاری رکھیں۔ اور قصور وار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرار پائیں؟ جو معمولی کھانا کھاتے، معمولی پھٹا پرانا لباس پہنتے اور زاہد ترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔ اس حدیث میں نہ فاتح اسلام خلیفہ المسلمین حضرت عمرؓ پر طعن مقصود ہے۔ نہ غازی مجاہد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طنز و اعتراض ہے صرف دولت کا نقصان دہ پہلو بتلانا اور اس سے خبردار کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ کے خلاف جو تحریک یہودی سازش سے نو مسلم یہود و مجوس نے چلائی وہ اسی دولت کی حرص اور باہمی بغض و اعناد کی وجہ سے پیدا ہوئی اور مسلمانوں کے وقار کو زبردست نقصان پہنچا۔ فرمانِ رسولﷺ سچ ثابت ہوا۔ اب جب آپ نے اس حدیث کو چھیڑا ہے تو ہم بتاتے ہیں کہ یہی حدیث خلافتِ راشدہؓ کی حقانیت اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ایمان اور رسالت مآب کے نمائندۂ ترجمان ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کتبِ شیعہ، تاریخ اور حدیث میں یہ واقعہ متواتر ہے کہ غزوۂ خندق میں ایک چٹان نمودار ہوئی تھی جو کسی سے نہ ٹوٹی بالآخر حضورﷺ کی تین ضربوں سے پاش پاش ہوئی۔ ہر دفعہ نور چمکا اور محلات دکھائی دیے۔ پہلی کے وقت فرمایا مجھے یمن کی چابیاں دی گئیں، دوسری کے وقت فرمایا مجھے کسریٰ کی چابیاں دی گئیں، تیسری میں فرمایا: مجھے قیصر روم کی فتوحات عطا کی گئیں۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، سیرت ابنِ ہشام: جلد، 3 صفحہ، 230 ابنِ سعد، تاریخ طبری: جلد، 2 صفحہ، 569 شیعہ کی حیات القلوب، جلاء العیون، روضہ کافی وغیرہ)

یمن تو آپﷺ کے ہاتھ مبارک پر فتح ہوا اور روم و کسریٰ سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق و سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہم کی فتوحات سے قلمر و اسلام میں آئے۔ آپﷺ‏ نے ان کو اپنی فتح اور امت کی فتح قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ تھی اب ان خلفاء کا منکر دراصل منکرِ رسول منکرِ اسلام اور خارج از ایمان ہے۔

سوال نمبر 421: صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر میں حدیثِ رسول ہے کہ خدا دینِ اسلام کی فاجر شخص سے تائید کرے گا۔ اس پر تبصرہ کیجیے۔

جواب: اس سے اتنا پتہ تو چل گیا کہ حضرت عمر فاروقؓ کی فتوحات اور اسلامی ترقیات آپ کے اعتقاد میں بھی سب دین کا غلبہ اور تائید تھی۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے اپنے رسالوں میں عمری فتوحات اور لشکر اسلام پر ہرزہ سرائی کی ہے۔ وہ عمداً جھوٹ اور ڈھیٹ پن ہے۔ خود آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا ہو گا۔ رہا اس حدیث سے فسقِ سیدنا عمر فاروقؓ کا استدلال تو یہ آپ کے بغض کا کرشمہ ہے ورنہ حضورﷺ نے یا کسی اور صحابی و محدث نے اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ پر چسپاں نہیں کیا ہے بلکہ اس منافق کے متعلق ہے جس نے احد میں غالباً نو قتل کیے تھے پھر خود کشی کر کے دوزخی بنا۔ تو حضور اقدسﷺ‏ نے یہ فرمایا اور پورا واقعہ اسی حدیثِ بخاری جلد 1 صفحہ 431 پر ہے۔ یہیں سے ہم آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ آپ جو بار بار اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق گستاخانہ پوچھتے ہیں۔ فلاں نے کتنے کتنے کافر قتل کیے۔ نہ پوچھا کریں کیونکہ قتلِ کفار کی کثرت بھی ایمان پر قطعی دلیل نہیں ہے۔ جب تک باقی اعمال و عقائد درست نہ ہوں۔ اگر آپ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قربانیوں اور کمالات کو اس حدیث سے ناجائز مجروح کرتے ہیں تو اگر کوئی آپ کا خارجی بھائی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر چسپاں کرنے لگے تو کیا تبصرہ ہو گا؟

سوال نمبر 422: مشکوٰۃ کتاب الامارۃ میں ہے تم اماراتِ حکومت پر زیادہ لالچی ہو جاؤ گے مگر قیامت کے دن پچھتاؤ گے۔ کیا یہ پیشن گوئی رسولﷺ پوری نہیں ہو گئی تھی؟

جواب: یہ جنس امت کو خطاب ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد والی کچھ حکومتیں اس کا مصداق ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مصداق نہیں۔ ہم بارہا دلائل سے عرض کر چکے ہیں کہ یہ شیخین رضی اللہ عنہما کو وفاتِ نبویﷺ کے دن خلافت کا تصور بھی نہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا۔ خود کوئی کوشش نہ کی تھی۔ حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما ایک کمیٹی میں نامزد ہوئے۔ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق پیشن گوئی تھی: جب تو حاکم بن جائے تو تقویٰ اور عدل اختیار کرنا تو ان کو امید لگ گئی تھی۔ اور پھر حالات و مقدر نے بتائید خداوندی اس عہدہ جلیلہ پر پہنچا دیا۔

سوال نمبر 423: بخاری کتاب المغازی جلد 2 صفحہ 9 میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے دو زانو اپنے خصم سے حق جوئی کریں گے۔ کس چیز کا مطالبہ کریں گے؟

صفحہ 4 از 5