Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آیت مباہلہ اور نجران کے عیسائیوں کا وفد

  علی محمد الصلابی

نجران کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ہم آپ لوگوں سے پہلے مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَمْنَعُکُمْ مِنَ الْاِسْلَامِ ثَـلَاثٌ: عِبَادَتُکُمُ الصَّلِیْبَ، أَکْلُکُمُ الْخِنْزِیْرَ، وَ زَعْمُکُمْ اَنَّ لِلّٰہِ وَلَدًا۔

(زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 633 اس کی سند میں ضعف ہے۔)

ترجمہ: ’’تمھیں مسلمان ہونے سے تین چیزیں روکتی ہیں: تمھاری صلیب کی پرستش، تمھارا خنزیر کو کھانا اور تمھارا یہ فاسد عقیدہ کہ اللہ کا لڑکا ہے۔‘‘

چنانچہ آپ کے اور ان کے مابین کافی مناقشہ و مناظرہ ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں قرآن سناتے جاتے اور ٹھوس دلیلوں سے ان کے باطل افکار و خیالات کا قلع قمع کرتے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے ایک بات یہ بھی کہی تھی: آپ کیوں ہمارے نبی کو برا بھلا کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے تھے؟ تو آپﷺ نے فرمایا تھا: بالکل ٹھیک! وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا ہونے والے) ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈال دیا تھا، اس پر وہ ناراض ہوگئے، اور کہنے لگے: کیا تم نے کبھی بغیر باپ کے کسی انسان کو دیکھا ہے، اگر تم سچے ہو تو اس کی کوئی مثال مجھے بتلاؤ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیات نازل کیں:

اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ‌ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ۞ اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 59، 60)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا: ہوجاؤ۔ بس وہ ہوگئے۔ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوجانا۔

یہ آیت ان کے باطل افکار کا کام تمام کرنے والی دلیل ہے، اس میں ایک انوکھی چیز کی تشبیہ اس سے بھی زیادہ انوکھی چیز سے دی گئی ہے۔

(زاد المعاد: جلد غم3 صفحہ 629، 638)

جب ان کے ساتھ حکمت اور مواعظ حسنہ پر مبنی مباحثہ و مناقشہ سے کام نہ چلا تو آپﷺ نے انھیں اس آیت پر عمل کرتے ہوئے مباہلہ کی دعوت دی: 

(السیرۃ النبویۃ لأبی شہبۃ: جلد 3 صفحہ 547) 

فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيۡهِ مِنۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 61)

ترجمہ: تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو کہ: “آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب ملکر اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ کے ساتھ حسن، حسین اور فاطمہ رضی اللہ عنہم تھے، آپﷺ نے فرمایا: جب میں دعا کروں گا تو تم سب آمین کہنا۔

(السیرۃ النبویہ لأبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 547)

انھوں نے اپنے مابین مشورہ کیا۔ چوں کہ انھیں معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برحق نبی ہیں اور یہ بھی کہ جس قوم نے بھی کسی نبی سے مباہلہ کیا وہ ہلاک ہوئی ہے، اس لیے انھیں ہلاکت کا خوف لاحق ہوگیا اور مباہلہ سے انکار کردیا اور کہا: آپ ہمارے خلاف جو فیصلہ چاہیں کردیں، چنانچہ آپﷺ نے ان کے ساتھ دو ہزار جوڑے کپڑوں پر صلح کی، ایک ہزار ماہِ رجب میں اور ایک ہزار ماہ صفر میں۔

(السیرۃ النبویۃ لأبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 547)

اس طرح آیت کے نزول کا حقیقی مقصد اور مناسبت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی تنصیص کا شیعہ حضرات جو دعویٰ کرتے ہیں آیت کا اس سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں، میں نے اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ علی بن ابی طالب‘‘ (أسمی المطالب فی سیرۃ علی بن أبی طالب: جلد 2 صفحہ 334، 336)

میں ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ہے، مزید تفصیل کے لیے اس کا مراجعہ کیا جائے۔