بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 7

سوال نمبر 440: شیعہ حوالہ سے بتائیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کس تاریخ اور کس سن ہجری میں بیاہ دی؟ نکاح کس نے پڑھایا؟

جواب: شیعہ کی مستند کتاب فروعِ کافی جلد 5 صفحہ 346 مطبوعہ جدید ایران پر باب ہے۔ باب تزویج اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا: مولانا علی اکبر الغفاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیٹی ہیں اپنے زمانہ خلافت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کا رشتہ مانگا تھا تو لے دے کے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس کو اس کام کا وکیل بنا دیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے علانیہ عند الناس سیدنا عمر فاروقؓ کو نکاح کر کے دے دی۔ نکاح کی تاریخ تمام مورخین نے ذیقعدہ 17 ہجری لکھی ہے جب اصل نکاح اہم کتبِ شیعہ سے ثابت ہو گیا تو تاریخ کے تعین میں مؤرخین پر اعتماد کافی ہے۔ مسئلہ ہٰذا پر شیعہ کے تفصیلی حوالہ جات رحماء بینھم جلد صفحہ 212 تا 254 مصنف مولانا محمد نافع ملاحظہ فرمائیں۔

سوال نمبر 441: زوجہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کس سن ہجری میں ہوئی؟

جواب: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اوائل (41ھ تا 42ھ) میں ہوئی۔

(سیر اعلام النبلاء ذہبی: جلد، 3 صفحہ، 330 در تذکرہ اُمِّ کلثومؓ بنتِ علیؓ)

سوال نمبر 442: نکاح کے وقت زوجین رضی اللہ عنہما کی عمریں کیا تھی؟

جواب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عمر 56 سال اور حضرت اُمِّ کلثومؓ کی عمر 14 سال تھی۔ کیونکہ جلاء العیون صفحہ 76 پر یہ بھی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال پر سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا روضہ اطہر پر آ کے روئیں کہ ہم پر آپﷺ‏ کی مصیبت پھر تازہ ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ 11 ہجری میں اچھی خاصی سمجھدار تھیں کم از کم آٹھ برس کی ہوں گی۔ تو تاریخ نکاح ذوالقعدہ 17 ہجری (الفاروقؓ: صفحہ، 617) میں 14 برس کی ہوئیں

سوال نمبر 443: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو بی بی صاحبہ (سیدہ اُمِّ کلثومؓ) کی عمر کتنی تھی؟

جواب: 20، 21 سال تھی پھر سیدنا عون بن جعفرؓ بن ابی طالب سے نکاح ہوا۔

سوال نمبر 444: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کی غرض و غایت کیا بیان کی ہے؟ 

جواب: یہ بتلایا کہ اس عمر میں شادی شوق سے نہیں بلکہ رسول اللہﷺ سے رشتہ مصاحرت اور دامادگی قائم ہونے کی غرض سے کی ہے کیونکہ رسول اللہﷺ سے میں نے سنا ہے۔ آپﷺ‏ فرماتے تھے:

کل نسب و صہر منقطع الا نسبی و صہری (ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 8)

ترجمہ: کہ ہر خاندانی سسرالی رشتہ قیامت کے دن بے کار ہو گا مگر جس کا میرے ساتھ یہ رشتہ ہو گا۔ (کار آمد ہو گا)  

اور اسی اعزاز میں مہر 40 ہزار درہم مقرر کیا تھا۔ (تاریخِ اسلام: جلد، 1 صفحہ، 163 ندوی)

سوال نمبر 445: نکاح کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کتنی بیویاں اور لونڈیاں تھیں؟

جواب: تین بیویاں تھی۔ 1: سیدہ زینب بنتِ مظعون اس سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبدالرحمٰن اکبر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔

2: سیدہ جمیلہ بنتِ عاصم (اُمِّ کلثومؓ) اسی کا نام حضور اکرمﷺ‏ نے آسیہ سے بدل کر حضرت جمیلہ رضی اللہ عنہا رکھا اسی سے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ جیسے عالم فاضل پیدا ہوئے کہ خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ آپؓ کے نواسے ہیں۔

3: سیدہ ملیکہ بنتِ جردل خزاعیہ دارِ قطنی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا نام بتاتے ہیں۔ شاید یہ کنیت ہو۔ اسی سے سیدنا عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (جس نے در پردہ قاتلِ سیدنا عمر فاروقؓ ہرمزان مجوسی کو قتل کیا تھا) اور سیدنا زید اصغر پیدا ہوئے۔ 

باندی ایک تھی جس کا نام لہیہ تھا۔ (تفصیل ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 108 پر دیکھیں)

سوال نمبر 446: جب کوئی نانا نواسی سے عقد کرے تو آپ کیا کہیں گے؟

جواب: اب تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نانا بن گئے۔ (سبحان اللہ) مگر کیا جب سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے معاذ اللہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے نانا جی کو تبرّے بکتے ہو۔ اس وقت اہلِ بیتؓ کا احترام بھول جاتے ہو۔ بے شک نانا بنتے تھے مگر سگے نہ تھے۔ تو جیسے حضور اکرمﷺ‏ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھائی کہہ کر ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہؓ (بھتیجی) سے نکاح کر لیا اور حضرت علی المرتضیٰؓ چچا زاد بھائی کو اپنی بیٹی (سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بھتیجی) دے دی۔ اسی طرح سوتیلی نواسی سے سیدنا عمر فاروقؓ نے نکاح کر لیا۔

سوال نمبر 447: مستدرک حاکم میں ہے کہ رشتہ مانگنے کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ سیدنا ابنِ جعفرؓ (بھتیجے) کے لیے بٹھا رکھی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا مجھ سے زیادہ اعزاز کا کوئی حق دار نہیں۔ تو حضرت عمرؓ نے ہاشمی رشتہ دار کا رشتہ کیوں تڑوایا؟

جواب: رشتہ تڑوانے کی یا ایک کی منگنی پر چڑھائی کی بات تب ہوتی اگر حضرت جعفرؓ کے لڑکے نے رشتہ پوچھا ہوتا اور منگنی ہو چکی ہوتی۔ ابھی تک سیدنا علی المرتضیٰؓ کا اپنا خیال ایسا تھا۔ جیسے والدین کا بچپن میں ہی کسی کی طرف خیال لگ جاتا ہے تو اس طرح کا رشتہ پوچھنا یا لینے پر اصرار کرنا شروع میں ممنوع نہیں ہوتا۔

سوال نمبر 448: حضرت علیؓ نے بھتیجے کے جذبات کو ٹھیس کیوں پہنچائی؟ اور ضعیف العمر کو نا بالغ لڑکی کیوں دی؟ اخلاقی ضوابط کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب: قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں رشتوں میں عمر کا تفاوت پایا جاتا تھا۔ یہ کوئی ضابطہ اخلاق کے خلاف نہ تھا۔ آخر حضرت فاطمہؓ کے بعد آٹھ رشتے یکے بعد دیگرے تا خلافت سیدنا علیؓ نے کیے۔ کیا وہ سب ازواج اپنی ہم عمر تھیں؟ اور پھر حضرت ابنِ جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے جذبات کو ٹھیس کی بات فرضی ہے، ثبوت نہیں۔ باپ کو حق حاصل ہے کہ جب تک کسی سے پکی بات نہ کی ہو۔ اپنے سابق ارادہ کے خلاف کسی اور کو حسبِ مصلحت رشتہ دے دے۔

سوال نمبر 449: حاکم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مبارک طلب کی۔ یعنی سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا بنتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ و بنتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ سے شادی کی اس میں کیا مصلحت تھی؟

صفحہ 1 از 7