بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 440: شیعہ حوالہ سے بتائیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کس تاریخ اور کس سن ہجری میں بیاہ دی؟ نکاح کس نے پڑھایا؟
جواب: شیعہ کی مستند کتاب فروعِ کافی جلد 5 صفحہ 346 مطبوعہ جدید ایران پر باب ہے۔ باب تزویج اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا: مولانا علی اکبر الغفاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیٹی ہیں اپنے زمانہ خلافت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کا رشتہ مانگا تھا تو لے دے کے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس کو اس کام کا وکیل بنا دیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے علانیہ عند الناس سیدنا عمر فاروقؓ کو نکاح کر کے دے دی۔ نکاح کی تاریخ تمام مورخین نے ذیقعدہ 17 ہجری لکھی ہے جب اصل نکاح اہم کتبِ شیعہ سے ثابت ہو گیا تو تاریخ کے تعین میں مؤرخین پر اعتماد کافی ہے۔ مسئلہ ہٰذا پر شیعہ کے تفصیلی حوالہ جات رحماء بینھم جلد صفحہ 212 تا 254 مصنف مولانا محمد نافع ملاحظہ فرمائیں۔
سوال نمبر 441: زوجہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کس سن ہجری میں ہوئی؟
جواب: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اوائل (41ھ تا 42ھ) میں ہوئی۔
(سیر اعلام النبلاء ذہبی: جلد، 3 صفحہ، 330 در تذکرہ اُمِّ کلثومؓ بنتِ علیؓ)
سوال نمبر 442: نکاح کے وقت زوجین رضی اللہ عنہما کی عمریں کیا تھی؟
جواب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عمر 56 سال اور حضرت اُمِّ کلثومؓ کی عمر 14 سال تھی۔ کیونکہ جلاء العیون صفحہ 76 پر یہ بھی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال پر سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا روضہ اطہر پر آ کے روئیں کہ ہم پر آپﷺ کی مصیبت پھر تازہ ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ 11 ہجری میں اچھی خاصی سمجھدار تھیں کم از کم آٹھ برس کی ہوں گی۔ تو تاریخ نکاح ذوالقعدہ 17 ہجری (الفاروقؓ: صفحہ، 617) میں 14 برس کی ہوئیں
سوال نمبر 443: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو بی بی صاحبہ (سیدہ اُمِّ کلثومؓ) کی عمر کتنی تھی؟
جواب: 20، 21 سال تھی پھر سیدنا عون بن جعفرؓ بن ابی طالب سے نکاح ہوا۔
سوال نمبر 444: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کی غرض و غایت کیا بیان کی ہے؟
جواب: یہ بتلایا کہ اس عمر میں شادی شوق سے نہیں بلکہ رسول اللہﷺ سے رشتہ مصاحرت اور دامادگی قائم ہونے کی غرض سے کی ہے کیونکہ رسول اللہﷺ سے میں نے سنا ہے۔ آپﷺ فرماتے تھے:
کل نسب و صہر منقطع الا نسبی و صہری (ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 8)
ترجمہ: کہ ہر خاندانی سسرالی رشتہ قیامت کے دن بے کار ہو گا مگر جس کا میرے ساتھ یہ رشتہ ہو گا۔ (کار آمد ہو گا)
اور اسی اعزاز میں مہر 40 ہزار درہم مقرر کیا تھا۔ (تاریخِ اسلام: جلد، 1 صفحہ، 163 ندوی)
سوال نمبر 445: نکاح کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کتنی بیویاں اور لونڈیاں تھیں؟
جواب: تین بیویاں تھی۔ 1: سیدہ زینب بنتِ مظعون اس سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبدالرحمٰن اکبر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔
2: سیدہ جمیلہ بنتِ عاصم (اُمِّ کلثومؓ) اسی کا نام حضور اکرمﷺ نے آسیہ سے بدل کر حضرت جمیلہ رضی اللہ عنہا رکھا اسی سے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ جیسے عالم فاضل پیدا ہوئے کہ خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ آپؓ کے نواسے ہیں۔
3: سیدہ ملیکہ بنتِ جردل خزاعیہ دارِ قطنی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا نام بتاتے ہیں۔ شاید یہ کنیت ہو۔ اسی سے سیدنا عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (جس نے در پردہ قاتلِ سیدنا عمر فاروقؓ ہرمزان مجوسی کو قتل کیا تھا) اور سیدنا زید اصغر پیدا ہوئے۔
باندی ایک تھی جس کا نام لہیہ تھا۔ (تفصیل ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 108 پر دیکھیں)
سوال نمبر 446: جب کوئی نانا نواسی سے عقد کرے تو آپ کیا کہیں گے؟
جواب: اب تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نانا بن گئے۔ (سبحان اللہ) مگر کیا جب سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے معاذ اللہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے نانا جی کو تبرّے بکتے ہو۔ اس وقت اہلِ بیتؓ کا احترام بھول جاتے ہو۔ بے شک نانا بنتے تھے مگر سگے نہ تھے۔ تو جیسے حضور اکرمﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھائی کہہ کر ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہؓ (بھتیجی) سے نکاح کر لیا اور حضرت علی المرتضیٰؓ چچا زاد بھائی کو اپنی بیٹی (سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بھتیجی) دے دی۔ اسی طرح سوتیلی نواسی سے سیدنا عمر فاروقؓ نے نکاح کر لیا۔
سوال نمبر 447: مستدرک حاکم میں ہے کہ رشتہ مانگنے کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ سیدنا ابنِ جعفرؓ (بھتیجے) کے لیے بٹھا رکھی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا مجھ سے زیادہ اعزاز کا کوئی حق دار نہیں۔ تو حضرت عمرؓ نے ہاشمی رشتہ دار کا رشتہ کیوں تڑوایا؟
جواب: رشتہ تڑوانے کی یا ایک کی منگنی پر چڑھائی کی بات تب ہوتی اگر حضرت جعفرؓ کے لڑکے نے رشتہ پوچھا ہوتا اور منگنی ہو چکی ہوتی۔ ابھی تک سیدنا علی المرتضیٰؓ کا اپنا خیال ایسا تھا۔ جیسے والدین کا بچپن میں ہی کسی کی طرف خیال لگ جاتا ہے تو اس طرح کا رشتہ پوچھنا یا لینے پر اصرار کرنا شروع میں ممنوع نہیں ہوتا۔
سوال نمبر 448: حضرت علیؓ نے بھتیجے کے جذبات کو ٹھیس کیوں پہنچائی؟ اور ضعیف العمر کو نا بالغ لڑکی کیوں دی؟ اخلاقی ضوابط کی روشنی میں جواب دیں۔
جواب: قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں رشتوں میں عمر کا تفاوت پایا جاتا تھا۔ یہ کوئی ضابطہ اخلاق کے خلاف نہ تھا۔ آخر حضرت فاطمہؓ کے بعد آٹھ رشتے یکے بعد دیگرے تا خلافت سیدنا علیؓ نے کیے۔ کیا وہ سب ازواج اپنی ہم عمر تھیں؟ اور پھر حضرت ابنِ جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے جذبات کو ٹھیس کی بات فرضی ہے، ثبوت نہیں۔ باپ کو حق حاصل ہے کہ جب تک کسی سے پکی بات نہ کی ہو۔ اپنے سابق ارادہ کے خلاف کسی اور کو حسبِ مصلحت رشتہ دے دے۔
سوال نمبر 449: حاکم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مبارک طلب کی۔ یعنی سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا بنتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ و بنتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ سے شادی کی اس میں کیا مصلحت تھی؟
جواب: بڑے خاندان میں رشتہ ہونے پر فخر کرنا دنیوی عرف ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کو چونکہ بہت خوشی حاصل ہوئی تھی۔ تو نسبت الی الرسولﷺ میں اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔
سوال نمبر 450، 451: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا تھا؟ تو کیا جواب ملا؟
جواب: مکمل تفصیل ہم سنی کیوں ہیں؟ میں دیکھیے۔ (بحث ہٰذا)۔
سوال نمبر 452: سیدنا عمرؓ نے اپنی ساری زندگی میں کتنی شادیاں کیں؟
جواب: کل پانچ کیں۔ تین کا ذکر ہو چکا۔ سیدہ اُمِّ کلثومؓ کے سوا پانچویں سیدہ عاتکہ بنتِ زیدؓ تھیں۔
سوال نمبر 453: سیدہ فاطمہؓ کی وفات کس سن میں ہوئی؟
جواب: رمضان 11 ہجری میں۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ سے چھ ماہ بعد وفات پائی۔ (تقریب)
سوال نمبر 454: اس وقت ان کی اولاد اور عمریں کیا کیا تھیں؟
جواب: محرم یا صفر 2ھ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے نکاح ہوا تھا۔ پہلی لڑکی سیدہ اُمِّ کلثومؓ تھیں۔ ان کی عمر نو یا آٹھ سال تھی۔ سیدنا حسنؓ، سیدنا حسینؓ (جو بالترتیب رمضان 3ھ اور شعبان 4ھ میں طبری سے مولانا کاندھلویؒ کی تحقیق کے مطابق پیدا ہوئے تھے) جو آٹھ، سات سال کے تھے۔
جلاء العیون مجلسی میں ہے کہ جب سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا روٹھ کر آئی تھیں تو حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو دائیں بائیں کندھے پر بٹھایا تھا اور حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑ کر باپ کے گھر آئی تھیں۔ (قصہ ناراضگی سیدہ فاطمہؓ بر سیدنا علیؓ) اس سے پتہ چلا کہ سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا بھائیوں سے بڑی تھیں۔
سوال نمبر 455: کتاب المعارف لابنِ ابی قتیبہ میں ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی تمام لڑکیوں کی شادی اولادِ حضرت عقیل رضی اللہ عنہ اور اولادِ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو سیدنا عمر فاروقؓ کا استثناء کیوں نہیں؟
جواب: ابنِ قتیبہ در پردہ شیعہ ہے۔ اس کی کتاب میں مشاجرات کے بناوٹی قصے اسی پر دال ہیں اور یہ تفصیل اکثری لحاظ سے ہے یا اس وجہ سے کہ سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بیوگی کے بعد سیدنا عون بن جعفرؒ سے پھر سیدنا محمد بن جعفرؒ سے پھر حضرت عبداللہ بن جعفرؒ سے ہوا جب اس نے آپؓ کی بہن حضرت زینب کو جس نے کربلا میں شرکت کی تھی طلاق دے دی تھی۔
(جمہرۃ الانساب لابنِ حزم اندلسی تحت اولادِ علیؓ)
مگر آپ کا یہ سوال بالکل جھوٹا ہے کیونکہ معارف ابنِ قتیبہ میں ہے:
واما ام کلثوم الکبریٰ رضی اللہ عنہا وھی بنت فاطمۃ فکانت عند عمر ابن الخطاب و ولدت لہ ولداً قد ذکرنا ھم۔
ترجمہ: رہیں حضرت اُمِّ کلثوم کبریٰؓ (تو سب سے بڑی اولاد ثابت ہوئیں) تو سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ان سے لڑکا پیدا ہوا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔
(المعارف: صفحہ، 92 تحت بنات علی المرتضیٰ بحوالہ رحماء بینھم: جلد، 2 صفحہ، 226)
سوال نمبر 456: مولوی محمد انشاء اللہ حنفی چشتی سر المختوم فی تحقیق عقد اُمُّ کلثوم میں لکھتے ہیں کہ راوی اوّل زبیر بن بکار کذاب مفتری نے یہ عقد گھڑا ہے؟
جواب: اہلِ سنت کے روپ میں رافضیوں کو ہم نہیں مانتے۔ شیعہ کی 4 کتبِ اصول کی 9 روایتیں ہمارے سامنے ہیں کسی میں امامِ معصوم سے راوی زبیر بن بکار نہیں ہے بلکہ کافی میں چار روایات ہیں
1: ہشام بن سالم ابو عبداللہ سے
2: حماد از زرارہ ابو عبداللہ سے
3: معاویہ بن عمار ابو عبداللہ سے اور
4: سلیمان بن خالد ابو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں۔ الاستبصار میں بھی سلیمان بن خالد اور معاویہ بن عبد اللہ امام جعفر صادقؒ سے روایت کرتے ہیں۔
سوال نمبر 457: اس افسانے کے راوی زبیر بن بکار کو کتبِ رجال سے معتبر بتائیے؟
جواب: ہماری معتبر اور متداول رجال کی کتاب تقریب التہذیب (خلاصہ تقریب التہذیب) علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ میں ہے کہ ابنِ ماجہ کے راوی:
الزبیر بن بکار بن عبداللہ بن مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن الزبیر الاسدی الکوفی مدینہ کے قاضی اور ثقہ ہیں۔ سلیمانی نے ان کی تصنیف کر کے غلطی کی ہے دسویں طبقے کے چھوٹوں میں سے ہیں۔ 250ھ میں وفات پائی۔
سوال نمبر 458: صحیحین میں سے زبیر بن بکار کی کوئی اور حدیث نکال دیجیے؟
جواب: اس کی حدیث صرف ابنِ ماجہ نے لی ہے۔ بخاری اور مسلم کا معاصر تھا ان کو لینے کی ضرورت نہ پڑی۔
سوال نمبر 459: جب علماء شیعہ زبیر بن بکار کو دشمنِ اہلِ بیت اور مفتری بتاتے ہیں سنیہ میں بھی یہی درجہ ہے تو شیعوں کو اس کی روایت ماننے پر کیوں مجبور کرسکتے ہیں؟
جواب: ہمارے ہاں تو ثقہ ہے۔ کتبِ شیعہ میں تنہا یہ راوی نہیں بکثرت اور ہیں اور وہ ثقہ ہیں۔ عقد کی روایات متعدد طرق سے مستند مشہور بلکہ متواتر فی المعنیٰ ہیں۔ لہٰذا اصولِ حدیث کی رو سے شیعوں کو مجبوراََ اپنی احادیث ماننی ہوں گی ورنہ لٹریچر کے جھوٹے ہونے کا اعلان کریں۔ پھر یہ دعویٰ کہ علماء شیعہ کے ہاں یہ مفتری اور دشمنِ اہلِ بیت ہے بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔ شیعہ رجال میں جامع معتبر کتاب تنقیح المقال للمامقانی جلد 1 صفحہ 437 میں زبیر بن بکار بن عبداللہ کے ترجمہ میں ہے: کہ یہ کثیر العلم غزیر الفہم اور قریش کے اخبار و انساب کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا تھا۔ ایسی روایات بھی اس سے مروی ہیں جو سنی مذہب کو غلط اور شیعہ کو برحق بتاتی ہیں پھر مامقانی کہتا ہے کہ ابنِ ندیم کا بیان اسے امامی اور حسن راویوں میں شمار کرتا ہے۔
سوال نمبر 460: کشف المحجوب میں ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ قرآن اس لیے اونچا پڑھتے تھے کہ شیطان بھاگے جبکہ آپ کے ہاں حدیث ہے کہ شیطان اس راہ پر نہیں آتا جس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہو تو پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسے بھگاتے تھے؟
جواب: حدیث بالکل درست ہے۔ جیسے شیطان خود دیکھ کر حضرت عمر فاروقؓ والا راستہ چھوڑ دیتا تھا اسی طرح آواز سن کر بھی دور بھاگ جاتا تھا تو آواز سے بھگانا۔ دیکھنے سے بھی زیادہ مؤثر تھا۔
سوال نمبر 461: سیدنا عمرؓ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے حضرت عمر فاروقؓ تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تمام نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ اوّل میں کہا ہے کہ مجھ پر شیطان مسلط ہے تو پھر کیا وہ افضل نہ ہو گا جس سے شیطان دور رہے؟
جواب: قدرتی ہیبت اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایسی دی تھی کہ شیطان اور اس کے ایجنٹ رافضی مراثی اس سے دور بھاگتے تھے۔ جیسے کہ حدیث کے شانِ نزول سے واضح ہے کہ ڈھول بجانے والی عورت نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی ڈھول چھپا دیا اور دبضک کر بیٹھ گئی مگر اس سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت لازم نہیں آتی کیونکہ چور، ڈاکو تھانیدار ایس پی سے زیادہ بھاگتے ہیں بادشاہ سے اتنا نہیں بھاگتے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کسر نفسی پر دلیل اس جملہ کا یہ ترجمہ بالکل غلط کیا ہے۔ (شیطان مجھ پر مسلط ہے) بلکہ ترجمہ یہ ہے اعتراہ امرٌ (لاحق ہونا) مصباح اللغات صفحہ 548 یعنی شیطان مجھے بھی درپیش ہے اور چھیڑتا ہے لہٰذا میں سیدھا چلوں تو ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلوں تو سیدھی راہ پر لگاؤ۔ معصوم تو صرف پیغمبرِ پاکﷺ تھے جن پر وحی آتی تھی اس خطبہ سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا کمال تقویٰ اور احساسِ زمہ داری نمایاں ہوتا ہے۔ جیسے جنگِ صفین میں سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا: مجھے ٹھیک اور حق بات بتانے سے نہ رکنا کیونکہ میں اپنے نفس میں غلطی کرنے سے بالا نہیں ہوں۔ (کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 357 و نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 436
سوال نمبر 462: حدیثِ بالا سے سیدنا عمرؓ افضل قرار پاتے ہیں کیا آپ ان کو افضل مانتے ہیں؟
جواب: آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ہی افضل مان لیں ہم خاموش ہو جائیں گے مگر اہلِ سنت بالاتفاق سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو افضل الناس بعد الانبیاء علیہم السلام مانتے ہیں۔)
سوال نمبر 463: سیدنا عمرؓ کو اگر افضل نہیں مانتے تو پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اقرار تسلط شیطان کا کیا بنے گا حالانکہ اللہ کے خاص بندوں پر شیطان کا غلبہ نہیں ہوتا؟
جواب: تسلطِ شیطان کا اقرار نہیں ہے۔ کسر نفسی سے شیطان کا مقابلہ پر آنا اور چھیڑنا مراد ہے۔ تفصیلی اور الزامی جواب گزر چکا ہے۔
سوال نمبر 464: رخصتی کے بعد سیدنا عمرؓ سے جو نازیبا اور ناگفتہ بہ سلوک سیدہ اُمِّ کلثومؓ نے کیا۔ کیا وہ صحیح ہے؟
جواب: جب میاں بیوی بن چکے تو اب خانگی معاملات میں ہمیں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم اسے دشمن کی ساخت اور پروپیگنڈہ کہیں گے۔ بالفرض کوئی بات ہو تو معقول وجہ یہ ہے کہ طبعی طور پر ابتداءً دلہنوں کو کراہت اور نفرت ہوتی ہے اس لیے روتی ہیں۔ کچھ عرصہ دل نہیں لگتا۔ یہی تلخ اور ناگفتہ بہ حقائق حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی زبان سے جلاء العیون میں سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمہؓ کی شادی کے قصہ میں دیکھ لیجیے۔
سوال نمبر 465: سیدنا عمرؓ کی وفات سے بی بی (سیدہ) اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو کیا حصہ میراث ملا؟
جواب: دیگر بیواؤں کے ساتھ 1/8 حصہ ملا جبکہ سیدنا عمر فاروقؓ درویش منش تھے مالدار نہ تھے تو تفصیل کیا ملے؟ ہاں اگر بالکل حصہ نہ ملتا تو نفی کا ذکر ضرور ملتا۔ جیسے آپ کا صاحب زادہ سیدنا زید بن عمر اور حضرت اُمِّ کلثومؓ ایک ہی ساعت میں فوت ہوئے اور تقدیم و تاخیر کا فیصلہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے کسی کو بھی ایک دوسرے کا وارث نہ قرار دیا گیا شیعہ کی تہذیب الاحکام آخری جلد کتاب المیراث صفحہ 380 طبع قدیم میں ہے:
عن جعفر عن ابيه قال ماتت ام كلثوم بنتِ على و ابنها زيد بن عمر بن الخطاب فى ساعة واحدة لا يدرى ايها هلك قبل فلم يورث احدهما من الاخر وصلى عليهما معاً
ترجمہ: کہ دونوں ایک ہی گھڑی میں فوت ہوئے کوئی کسی کا وارث نہ بن سکا اور ماں بیٹے کا جنازہ بھی اکٹھا پڑھا گیا۔
سوال نمبر 466 تا 468: کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ وفاتِ سیدنا عمر فاروقؓ کے وقت مدینہ میں تھے؟ تو جنازہ میں شرکت کا ثبوت دیں؟
جواب: جی ہاں مدینہ میں تھے اور اپنے داماد کا جنازہ پڑھا۔ معتبر ثبوت یہ ہے:
فلما مات عمر و احضرت جنازته تبادرا ايها على و عثمان أيهما يصلى عليه فقال لهما عبدالرحمٰن بن عوف لستما من هذا فی شیء انما هذا الى صهيب الذى امره عمر ان يصلى بالناس فتقدم صھیب فصلی عليه (البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 145 طبع بیروت)
ترجمہ: جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور جنازہ حاضر ہو گیا تو حضرت علیؓ و سیدنا عثمانِ غنیؓ جنازہ پڑھانے کے لیے لپکے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا تم دونوں نہیں پڑھا سکتے یہ صرف حضرت صہیبؓ کا حق ہے جسے خود سیدنا عمرؓ نے (بطورِ وصیت) حکم دیا ہے کہ وہ نماز پڑھائے چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔
سوال نمبر 469: کا بھی جواب ہو گیا کہ داماد کے جنازے سے محروم نہ رہے بلکہ خوب خراجِ عقیدت بھی پیش کیا بخاری جلد 1 صفحہ 520 مسلم کتاب المناقب میں ہے:
سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا لوگ اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ دعائیں دیتے اور صلوٰۃ بھیجتے تھے میں بھی ان میں تھا۔ مجھے ایک شخص نے اچانک ڈرا دیا جب اس نے میرا کندھا پکڑا تو وہ سیدنا علیؓ تھے جو سیدنا عمر فاروقؓ پر دعائے رحمت بھیجتے تھے اور کہتے تھے کہ آپؓ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو آپؓ جیسے اعمال لے کر اپنے اللہ سے ملے اور مجھے سب سے زیادہ پسند ہو۔ (یعنی آپؓ کے بعد کوئی اور آپؓ سے افضل نہیں) اللہ کی قسم میں یقیناً یہ گمان رکھتا تھا کہ اللہ آپؓ کو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ (قبروں میں اور جنت میں) اکٹھا کرے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بہت دفعہ حضور اکرمﷺ سے سن رکھا ہے آپﷺ فرماتے تھے میں چلا اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما چلے۔ میں داخل ہو سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ داخل ہوئے میں نکلا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکلے۔ (یعنی نبی سے غیر مخصوص افعالِ عامہ میں شیخینؓ کی رسول اللہﷺ کے ساتھ کمال شرکت تھی) تو اب برزخ میں بھی شریک رہیں گے۔ گویا سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ہی حضور اقدسﷺ کے ساتھ تدفین کا مشورہ دیا۔
سوال نمبر 470: جب شورٰی منعقد ہوا تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی پیروی کرنے کی شرط نا منظور کر کے حکومت کیوں ٹھکرا دی؟
جواب 1: بالکل جھوٹ ہے سیدنا علیؓ نے شرط منظور نہیں کی بلکہ یہ کہہ کر منظور فرمائی ارجو ان افعل و اعمل بمبلغ علمى و طاقتى کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اپنی طاقت اور علم کی مقدار (سنتِ رسولﷺ اور سنتِ شیخینؓ پر عمل کروں گا۔) (طبری: جلد، 4 صفحہ 233)
2: شیخین رضی اللہ عنہما کی سیرت کا انکار نہ تھا ورنہ آگے پیچھے اتنی تعریفیں کیوں کیں؟ دراصل وہ سنتِ شیخینؓ کو رسولِ خداﷺ کی سنت سے جدا اور مستقل قابلِ ذکر نہ جانتے تھے۔ بلکہ سنتِ رسولﷺ میں مدغم سمجھتے تھے۔ دلیل نہج البلاغہ کا یہ فرمان ہے:
للہ بلاد فلان فقد قوم الا و دوداوى العمد و اقام السنة و خلف الفتنة ذهب نقى الثوب قليل العيب
فلاں (حضرت عمر بن خطابؓ) کو آفرین ہے اس نے کجی کو درست کیا۔ خرابی کا علاج کیا۔ سنت قائم کی فتنہ دور کیا۔ پاک دامن اور بے عیب رخصت ہوا۔
(نہج البلاغہ مع شرح ابنِ ابی الحدید: جلد، 3 صفحہ، 92)
اور پھر اس کی وضاحت طبری سے بھی ہوتی ہے:
کہ سیدنا ربیعہ بن شداد نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ کے بعد سنتِ حضرت ابی بکرؓ و حضرت عمرؓ کا بھی ذکر کیا تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا:
لو ان ابابكر و عمر عملا بغير كتاب الله و سنت رسول الله لم يكونا على شیء من الحق فبايعه (طبری: جلد، 5 صفحہ، 76 طبع دارالمعارف مصر)
اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ کے خلاف عمل کیا ہوتا تو وہ کسی بات میں حق پر نہ ہوتے۔ پھر اسے بیعت کر لیا۔
اور اگر تاریخ کی یہ بات تسلیم کی جائے کہ ایک ساتھی نے آپؓ کو ایسا مشورہ دیا تھا وہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے انتخاب کو پسند کرتا تھا اگر یہ مشورہ نہ ہوتا تو آپؓ سیرتِ شیخینؓ کا مستقل ذکر کر دیتے اور خلیفہ سوم بن جاتے کیونکہ آپؓ کے اخص ساتھی بھی آپ سے یہ تعلیم پا چکے تھے چنانچہ سیدنا ابوذر غفاریؓ نے ایک دفعہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خیرخواہی میں کہا کہ آپؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کی پالیسی پر ہی چلیے تاکہ آپؓ پر کوئی اعتراض نہ کرے۔ (مجالس المومنین: جلد، 1 صفحہ، 220)
سوال نمبر 471: حسبنا کتاب اللہ کہہ کر حدیث و سنت کا انکارِ اوّلین کس نے کیا؟
جواب: یہ جمہی قرآن کی تکمیل و فضیلت پر دلیل ہے۔ انکارِ حدیث محض شیعی بہتان ہے۔ کیونکہ آپ قرآن کے بعد حدیث سے تمسک کیا کرتے تھے اور یہ قول نصِ قرآنی پر مبنی ہے:
اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ (سورۃ العنكبوت: آیت 51)
ترجمہ: کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔
سوال نمبر 472: تاریخِ فقہ اسلامی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔
احادیث کی روایت کر کے تلاوتِ قرآن میں رکاوٹ پیدا نہ کرنا۔ صرف قرآن پر بس کرو۔ پرویز بھی اتباعِ حضرت عمر فاروقؓ کرتا ہے وہ قصور وار کیوں؟
جواب: لوگوں میں قرآن شریف کی تدریس و تعلیم عام کرنے کے لیے اور تلاوتِ قرآن کو رواج دینے کے لیے ایسا فرمایا اور اس وقت اس کی ضرورت تھی ورنہ حدیثیں قرآن میں ایسے گڈمڈ اور مخلوط ہو جاتی ہیں جیسے انجیلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر حواریوں کا کلام بھرا پڑا ہے ہاں احادیث سے فقہاء علماء اور خود آپؓ اور آپ کی شورٰی کے اصحاب استدلال کرتے اور قانون سازی کر رہے تھے۔
گویا عوام کو روایت حدیث سے روکنا ایک خاص مصلحت تھی۔ جیسے موجودہ دور میں کئی خبروں کو سنسر کر دیا جاتا ہے پھر بعد میں کبھی اشاعت کر دی جاتی ہے۔
پرویز کا استدلال غلط ہے وہ تو انکارِ سنت میں شیعوں کا مقلد ہے کیونکہ جیسے شیعہ قرآن اور امامت کو ثقلین مانتے ہیں اہلِ سنت نبی ہونے کے بجائے امامیہ اور ملتِ جعفریہ کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ اسی طرح پرویز بھی دو ثقلین مانتا ہے۔ قرآن اور مرکز ملت اور یہ بات اس کی کتابوں میں عام ملتی ہے۔ حوالہ کی حاجت نہیں۔
سوال نمبر 473: کا جواب بھی ہو گیا کہ روایتِ حدیث کی اس وقت ممانعت قرآن کی حفاظت اور اسے احادیثِ رسولﷺ سے خالص اور پاک رکھنے کے لیے تھی تاکہ ہر حرف اور ہر جملہ کے متعلق یقین ہو کہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ رسول اللہﷺ کا کلام نہیں۔
سوال نمبر 474: اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خدشہ تھا کہ لوگ حضرت محمدﷺ کی طرف غلط احادیث منسوب نہ کر دیں لہٰذا ممانعت کر دی تو سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل کیسے ہوئے؟
جواب: یہ خدشہ ایک عقلی تقاضا ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کے خلاف نہیں کیونکہ حافظہ کی کمی یا سہو و وہم سے روایت میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عمداً حضور اکرمﷺ کی طرف غلط نسبت کرنے سے اور کلامِ رسولﷺ میں تحریف و بددیانتی کرنے سے پاک تھے۔ پھر اس معاشرہ میں نصف بھر تابعین بھی پیدا ہو چکے تھے تو اہتمامِ قران اور تصحیح احادیث کا تقاضا یہی تھا کہ عوام الناس پر کچھ نہ کچھ پابندی لگائی جائے۔ جیسے اسی لیے حضور اکرمﷺ نے خود فرمایا تھا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ بنا لے۔
جیسے شیعوں نے احادیثِ رسول اللہﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تو قبول نہ کیا ڈیڑھ صدی کے بعد ایک تابعی بزرگ کی طرف روایات کا انبار منسوب کر کے اسے ہی شریعت بنا ڈالا اور بالا حدیث کا مصداق بن گئے۔
سوال نمبر 475: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کتابی شکل میں رائج تھا؟
جواب: کتابی شکل میں مرتب اور محفوظ بیت المال میں تھا۔ لوگوں کے گھروں میں نہ تھا حافظِ قرآن بکثرت تھے۔ زبانی تعلیم و تعلم اور تبلیغ و نقل ہوتی تھی اسی لیے روایتِ احادیث پر شرائط عائد کی گئیں تاکہ قرآن سے مخلوط نہ ہوں۔
سوال نمبر 476: رائج ہو گیا تھا تو پھر رد و بدل کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مخالفت کیوں کی؟
جواب: تفصیلی ابحاث گزر چکی ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی رد و بدل نہ کیا بلکہ اسی کی مزید نقلیں اور کتابتیں کروا کر مملکتِ اسلامیہ کے تمام صوبوں میں پھیلا دیں اور اشاعتِ قرآن کا زبردست کارنامہ سرانجام دیا۔
سوال نمبر 477: اگر کتابی شکل میں رائج نہ تھی تو پھر وہ نامکمل کتاب کافی کیسے ہوئی؟
جواب: ذہن و حافظہ میں مکمل و مرتب کتاب کی طرح تھا۔ باقاعدہ تعلیم و تعلم کے ذریعے سب لوگوں کے لیے کافی تھا۔
سوال نمبر 478: اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اقوالِ رسولﷺ کو ضروری اور جزوِ دین سمجتے تھے تو انہوں نے مخلص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت مقرر کر کے احادیثِ رسولﷺ کی جامع کتاب کیوں مدون نہ کی؟
جواب: یہ سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بجائے خود صاحبِ احادیث رسول پاکﷺ سے کرنا چاہیے کہ اپنی احادیث کو کیوں کتابی شکل میں مدون نہ فرمایا؟
مگر اصل وجہ اور جواب یہ ہے کہ ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہوا کرتا ہے۔ کتابی شکل میں تدوینِ شریعت امت کی ذمہ داری تھی۔ سب سے پہلا نمبر قرآن کریم کا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کمیٹی مقرر کر کے قرآن کی تدوین کر دی مگر افسوس کہ منکر شیعوں نے اسے بھی قبول نہ کیا۔ بالفرض حضرت عمر فاروقؓ قبل از وقت حدیث کی تدوین کر بھی دیتے تو کیا ضمانت تھی کہ شیعہ قبول کرتے وہ بدستور کتبِ حدیث پر اعتراض کرتے جیسے قرآن پر کرتے ہیں۔ پھر خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ المتوفی 101ھ نے یہ کام کر بھی دیا اور احادیث جمع کر کے چھوٹی بڑی کتب لکھی گئیں جو پھر جامع شکل میں مدون اور منفتح ہو کر صحاحِ ستّہ، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ میں منظم اور مکتوب ہو گئیں لیکن شیعوں نے ان کتب اور احادیثِ رسولﷺ کو ہرگز تسلیم نہ کیا۔ بدستور سب امت کو منافق و کافر کہہ کر ڈیڑھ اینٹ کا امام باڑہ الگ بناتے چلے آ رہے ہیں۔
سوال نمبر 479: الفاروق میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا مکالمہ درج ہے کہ اہلِ بیتؓ مغصوب و محسود ہیں۔ وجہ تحریر کریں؟
جواب: یہ جھوٹا قصہ ہے۔ سند و عقل کی رو سے تردید تحفۃ الاخیار سوال نمبر 8 میں دیکھیں۔
سوال نمبر 480: اہلِ سنّت معتزلی علامہ ابنِ ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور اکرمﷺ نے مرضِ موت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے نام کی تصریح کر دینی چاہی۔ مگر میں نے اس سے آپﷺ کو روک دیا۔ یہ روکنے کا مشورہ و مکالمہ کسی معتبر کتاب سے نقل کر دیں۔
جواب: ابنِ ابی الحدید سنی نہیں بلکہ معتزلی ہیں یعنی عقائد و اصول میں شیعہ ہیں فروع میں نہیں۔ چنانچہ وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منصوص خلافت کے قائل ہیں۔
1: جیسے کتابِ ہٰذا جلد 3 صفحہ 115 سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبانی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی تعریف سے بھی خلافت کے منصوص ہونے کا نتیجہ نکالا ہے۔ اس لیے ان کی عبارت سے ہم پر الزام درست نہیں۔
2: بخاری میں اس کے خلاف فرمانِ رسولﷺ ہے: والمؤمنون الا ابا بكر۔
3: على سبيل التنزل والتسیلم وجہ یہ بتاتی ہے کہ قریش کا آپ پر اجتماع کبھی نہ ہو گا۔ اگر حاکم بن جائیں تو عرب چاروں طرف سے آپ کے برخلاف ہو جائیں گے۔ پس رسول اللہﷺ کو پتہ چل گیا کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے میرے ارادے کو بھانپ لیا ہے چنانچہ آپﷺ رک گئے اور اللہ نے بھی اپنی تقدیر نافذ کرنے کے سوا کچھ نہ مانا۔
یہ واقعہ و مکالمہ حضرت عمر فاروقؓ کی سیاسی بصیرت اور فراست کا ہے۔ علامہ نے بھی اسی ضمن میں نقل کیا ہے۔ شیعہ کا ضمیر اور حضرت امیر کے اپنے عہدِ خلافت کے واقعات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیوں؟
اگر یہ مشورہ اتنا ہی نا جائز تھا تو حضور اکرمﷺ کو تسلیم نہ کرنا چاہیے تھا۔
سوال نمبر 481: تاریخِ بغداد میں لکھا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ! جناب رسولِ خداﷺ کا یہی ارادہ تھا کہ خلافت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ملے لیکن جناب رسولِ خداﷺ کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے جب خدا نے نہ چاہا کہ خلافت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ملے۔ آخر خدا کو حضرت علی المرتضیٰؓ میں کیا نقص نظر آ گیا تھا؟ وہ کون سی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو اس خواہش سے باز رکھا ہو؟
جواب: ہم یہ بتلا چکے ہیں کہ معتزلی کی یہ روایات ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں۔ پھر یہ بخاری، مسلم اور عام کتبِ تاریخ کے خلاف ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ میں کچھ نقص نہ تھا۔ مگر خلافت خدا نے اپنے وقت پر ان کو عطا کی پہلے راگ الاپنے والے خدا پر بھی الزام و اتہام لگاتے ہیں آنحضورﷺ مختارِ کل نہ تھے۔
اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ اسی پر دلیل ہے۔ نیز سورت تحریم کی آیت وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا (اور جب نبی کریمﷺ نے ایک خفیہ بات اپنی ایک بیوی کو بتائی) میں جب حضور اکرمﷺ نے منجانب اللہ حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کے خلیفہ ہونے کی بشارت سنا دی۔ (تفسیر قمی، سورت تحریم: جلد، 2) تو خدا و رسولﷺ کی مشیئت میں اتفاق ہو گیا۔ شیعہ کی سوالی تقریر غلط ہے۔ وہ بھی خدا اور رسولﷺ کے ساتھ اتفاق کریں۔ مطابقی جواب یہ ہے کہ شیعہ کی تفسیر الفرات صفحہ 20 پر لکھا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ بنانا۔ مگر اللہ نے انکار کیا۔ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں بنے گا۔
سوال نمبر 482: کیا آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو عاشقِ رسولﷺ مانتے ہیں؟
جواب: جی ہاں! وہ آپﷺ کے محب اور متبع صادق تھے۔
سوال نمبر 483: کوئی ایسا عاشق ہے جس نے خواہشِ معشوق کا احترام نہ کیا ہو؟
جواب: نام نہاد شیعہ عاشقانِ اہلِ بیتؓ واقعی ایسے ہیں۔
سوال نمبر 484: اگر نہیں تو پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ معیارِ عشق پر کیسے اترے؟
جواب: حسبِ تصریح سابق وہ روایت ہی مسلّم نہیں جو مدار طعن ہے
سوال نمبر 485: کیا جو شخص حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ظلم کرے وہ ظالم ہو گا؟
جواب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ظلم کا تصور ہی غلط ہے کیونکہ آپؓ طاقت ور اور غالب تھے ظلم کمزور اور مغلوب پر ہوتا ہے۔ البتہ جو شخص حضرت علی المرتضیٰؓ کا حُبّ دار کہلا کر بات بات پر نافرمانی کرے۔ وہی ظالم اور بناوٹی شیعہ ہو گا۔43
سوال نمبر 486: رسولِ مقبولﷺ کو اسلام زیادہ عزیز تھا یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو؟
جواب: دونوں کو عزیز تھا۔ کیونکہ سیدنا عمر فاروقؓ کے لیے آپﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! حضرت عمرؓ کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ (احتجاج طبرسی)
سوال نمبر 487: کنز العمال میں ہے: سیکون بعدى فتنة فاذا كان ذلك فالزموا على بن ابی طالب فانه الفاروق بین الحق والباطل۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حوالے کیوں نہ کیا؟
جواب: 1: روایت بے سند اور جعلی ہے۔
2: بفرضِ تسلیم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے متعلق ہے۔ اس وقت سیدنا عمر فاروقؓ نہ تھے۔
3: ایک شخص کے حق میں تعریفی کلمہ دوسرے سے اس صفت کی نفی نہیں کرتا۔ جبکہ حضرت عمر فاروقؓ کو حضور اکرمﷺ نے فاروق کا لقب دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ نے حق حضرت عمرؓ کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔ (مشکوٰۃ)
سوال نمبر 488: سیکون بعدى فتنة فاذا كان ذلك فالزموا على بن ابی طالب فانه الفاروق بین الحق والباطل پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لقب سے کیوں سرفراز فرمایا؟
جواب: اپنے دور میں ان کے خلیفہ برحق ہونے کی نشاندہی کی۔
سوال نمبر 489: سيكون مستقبل قریب کے لیے ہے۔ قریبی دورِ فتن کون سا تھا؟
جواب: ایسے الفاظ میں زمانے کے چھوٹے بڑے ہونے کا بڑا ابہام ہوتا ہے تو دورِ علوی کی خانہ جنگیاں اور خارجیوں سے لڑائی بھی دورِ قریبی کا مصداق ہے۔
سوال نمبر 490: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو شورٰی کمیٹی بنائی اس میں اختلاف کی صورت میں قتل کرنے کی شرط کیوں عائد کی؟
جواب: تاکہ مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد برقرار رہے۔ ملّی فوائد پر شخصی فائدہ کو قربان کیا جا سکتا ہے اور مسلم میں حدیثِ نبوی ہے کہ تم جب کسی پر متفق ہو جاؤ اور کوئی شخص آ کر اس اتفاق کو توڑنا اور نئی بیعت لینا چاہے تو اُسے قتل کر دو خواہ کوئی ہو تو یہ ایک ضابطہ اور دستور ہے۔ خاص شخص سے دشمنی نہیں۔ ہر حکومت میں ایسے ضابطے ہوتے ہیں۔
سوال نمبر 491: امورِ شریعت میں قیاس کرنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولیات میں سے ہے۔ (الفاروق) لیکن اول من قاس ابلیس بھی علماء کا قول ہے۔ حضور اکرمﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قیاس کیوں نہ مانا؟
جواب: اس کی تشریح و تفصیل تحفہ امامیہ میں گزر چکی ہے۔ قیاس ایک شرعی اصطلاح ہے کہ جو مسائل نئے درپیش ہوں قرآن و سنت اور اجماع مسلمین میں اس کا تذکرہ نہ ملے تو اسی جیسی صورت و شکل والا مسئلہ قرآن و سنت اور امت کے فیصلوں میں سے تلاش کیا جائے جب مل جائے تو خاص شرائط سے اسے بنیاد اور مقیس علیہ بنایا جائے اور نئے مسئلے کا جائز نا جائز ہونا ظاہر کیا جائے اسے ہی اجتہاد کہتے ہیں۔ سنی و شیعہ تمام علماء اس قیاس و اجتہاد کے قائل ہیں خود حضور اکرمﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اَجْتَهِدُ بِرَأْی میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ سن کر دعا دی تھی۔ (مشکوٰۃ)
تو قیاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایجاد نہیں۔ ہاں بطورِ اصول و قانون نفاذ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کارنامہ ہے کیونکہ اس وقت اسلامی فتوحات اور ترقیات سے لا تعداد نئے مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ تو ان کا حل اسی طرح ممکن تھا۔ ابلیسی قیاس حکمِ خدا کے مخالف تھا۔ جیسے شیعہ اپنا مذہب بنائے پھرتے ہیں اور رسالت کے بجائے امامت ایجاد کر کے قرآن کو گم شدہ اور سنتِ نبی کو منسوخ مانتے ہیں تو اہلِ سنّت کے قیاسِ شرعی اور شیعہ کے قیاسِ ابلیسی میں بڑا عظیم فرق ہے۔
سوال نمبر 492: رسولِ خداﷺ زیادہ عاقل تھے یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ؟
جواب: رسولِ خداﷺ سب سے پہلے اور زیادہ عالم و عاقل تھے۔ آپﷺ ہی نے تو سیدنا عمر فاروقؓ کو علم اور عقل کی تعلیم دی تھی۔
سوال نمبر 493: اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ زیادہ تھے تو ان کو ہی نبی کیوں نہیں مان لیتے؟
جواب: حضرت عمرؓ بڑے عقل مند اور صاحبِ علم تھے مگر حضور اکرمﷺ سے زیادہ نہ تھے۔ نبوت حضور اکرمﷺ پر ختم ہے تو نبی ماننے کا تصور نہیں ہو سکتا۔ ہاں اہلیت و لیاقت ضرور تھی۔ فرمانِ نبویﷺ ہے: "لو كان بعدى نبی لكان عمر اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔ (ترمذی)
سوال نمبر 494: اگر حضور اکرمﷺ زیادہ عاقل و عالم تھے تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کی شریعیت میں کیوں رد و بدل کیا؟ الفاروق میں اولیات کا مطالعہ کر کے مفصل جواب دیجیے۔
جواب: الفاروق صفحہ 612، 613 سامنے کھلی ہے۔ اسلامی نظام کی عملی تدوین اور امتِ مسلمہ کی تعمیر و ترقی کے لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو نئی اصلاحات اور اصلاحی سکیمیں رائج فرمائیں ان کو مؤرخین اولیات کہتے ہیں۔ 45 عدد یہاں لکھی ہیں۔ ان میں سے قیاس، عدل، الصّلوٰة خير من النوم، نمازِ تراویح، معاً تین طلاقوں کا بائن و نافذ ہونا، نمازِ جنازہ پر چار تکبیروں کا اجماع آپ زیادہ موضوع سخن بناتے ہیں۔ ان سب کی حقیقت ہم تحفہ امامیہ اور ہم سنی کیوں ہیں؟ میں مفصل ذکر کر چکے ہیں۔
ان چھ باتوں کے علاوہ باقی سب چیزیں مملکت کے بہترین نظام سے متعلق ہیں جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ کی تعلیم و تربیت کے فیضان سے اور کمال عقل و دانش سے ایجاد کی ہیں۔ شیعہ اسے شریعت میں رد و بدل بتائیں تو ان کی سوچ ہے کیونکہ ان کو تو صرف متعہ خانہ اور امام باڑہ کی ترقی کا ہی فکر ہے دینِ اسلام اور امتِ محمدیہ کی مصالح سے ان کو کیا واسطہ؟ مگر تمام دنیائے انسانیت پر سیدنا عمر فاروقؓ کا یہ احسان ہے کہ آپؓ نے بنی نوعِ انسان کو نظامِ سیاست، اصولِ عدالت اور امن و امان کے زریں قواعد سکھائے اور مسلم، غیر مسلم ہر حکومت اور معاشرہ کے لیے وہی سنگِ بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ چینی، فرانسیسی، انگریز، امریکن، مسلمان سبھی حضرت عمر فاروقؓ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی ایجادات سے دنیا و دین آباد کیے ہوئے ہیں۔ عقل و دانش سے محروم صرف شیعہ کا ایک فرقہ ایسا ہے جو حضرت عمرؓ سے بازی ہار کر آپؓ کی کردار کشی پر تُلا ہوا ہے۔ ورنہ ہم ہر عقل مند سے پوچھتے ہیں: کہ کیا بیت المال و خزانہ کا قیام، عدلیہ کا اجراء، قانون کا تقرر، تاریخ و سن کا نفاذ، امیر المؤمنین کا لقب، فوجی دفتر، والینٹروں کی تنخواہیں، دفتر مال، پیمائشں، مردم شماری، نہریں کھدوانا، شہر آباد کرنا، ملک کو صوبوں میں تقسیم کرنا، اموالِ تجارت پر چونگی لگانا، جیل خانے بنانا، پولیس قائم کرنا، چھاؤنیاں بنانا، پرچہ نویس رکھنا، مسافروں کے آرام کے لیے سڑکیں، مکانات، سرائیں بنانا، بچوں کے وظیفے لگانا، مکاتب و مدارس قائم کرنا، معلموں اور مدرسوں کے مشاہرے مقرر کرنا، قرآن کی ایک جلد میں کتابت کرانا، شراب کی حد اَسّی دُرے لگانا، تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ لگانا، وقف و ٹرسٹ کا محکمہ بنانا، مساجد میں وعظ کروانا اور روشنی کا انتظام کرانا، بکواسی شاعروں کو سزا دینا، غزلیہ اشعار میں عورتوں کے نام پر پابندی لگانا وغیرہا اصلاحات اور ایجادات سے جو الفاروق کے چار صفحات پر مذکور ہیں۔ شریعیت میں رد و بدل ہوا۔ یا شیعوں نے ان باتوں کو غلط کہہ کر اپنے دین، مذہب اور عقل و فراست کا خاتمہ کر دیا۔ شیعو! تم سے خدا سمجھے۔
کوڑھ مغزی کی یہ انتہا ہے کہ غیر مسلموں کی کچھ ایجادات پر تو ہم فخر کریں اور ان کا نام تاریخ میں روشن رہے مگر مسلمانوں کے محسنِ سوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے نظامِ امن و عمل کو عملاً نصف دنیا پر رائج کر دکھائیں اور اس سورج کی کرنیں تمام دنیا پر جگمگائیں۔ تو ایک چمگادڑ صفت مسلم نما گروہ ان کا احسان شناس ہونے کے بجائے عمر بھر ان پر کیچڑ اچھالتا رہے۔
چشم حسود پر کنده باد
عیب نماید ہنرش در نظر
راست خواہی ہزار چشم چنان
4 کور بہتر کہ آفتاب سیاه