بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 7

جواب: بڑے خاندان میں رشتہ ہونے پر فخر کرنا دنیوی عرف ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کو چونکہ بہت خوشی حاصل ہوئی تھی۔ تو نسبت الی الرسولﷺ‏ میں اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔

سوال نمبر 450، 451: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا تھا؟ تو کیا جواب ملا؟

جواب: مکمل تفصیل ہم سنی کیوں ہیں؟ میں دیکھیے۔ (بحث ہٰذا)۔

سوال نمبر 452: سیدنا عمرؓ نے اپنی ساری زندگی میں کتنی شادیاں کیں؟

جواب: کل پانچ کیں۔ تین کا ذکر ہو چکا۔ سیدہ اُمِّ کلثومؓ کے سوا پانچویں سیدہ عاتکہ بنتِ زیدؓ تھیں۔

سوال نمبر 453: سیدہ فاطمہؓ کی وفات کس سن میں ہوئی؟

جواب: رمضان 11 ہجری میں۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ سے چھ ماہ بعد وفات پائی۔ (تقریب)

سوال نمبر 454: اس وقت ان کی اولاد اور عمریں کیا کیا تھیں؟

جواب: محرم یا صفر 2ھ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے نکاح ہوا تھا۔ پہلی لڑکی سیدہ اُمِّ کلثومؓ تھیں۔ ان کی عمر نو یا آٹھ سال تھی۔ سیدنا حسنؓ، سیدنا حسینؓ (جو بالترتیب رمضان 3ھ اور شعبان 4ھ میں طبری سے مولانا کاندھلویؒ کی تحقیق کے مطابق پیدا ہوئے تھے) جو آٹھ، سات سال کے تھے۔ 

جلاء العیون مجلسی میں ہے کہ جب سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا روٹھ کر آئی تھیں تو حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو دائیں بائیں کندھے پر بٹھایا تھا اور حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑ کر باپ کے گھر آئی تھیں۔ (قصہ ناراضگی سیدہ فاطمہؓ بر سیدنا علیؓ) اس سے پتہ چلا کہ سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا بھائیوں سے بڑی تھیں۔

سوال نمبر 455: کتاب المعارف لابنِ ابی قتیبہ میں ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی تمام لڑکیوں کی شادی اولادِ حضرت عقیل رضی اللہ عنہ اور اولادِ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو سیدنا عمر فاروقؓ کا استثناء کیوں نہیں؟

جواب: ابنِ قتیبہ در پردہ شیعہ ہے۔ اس کی کتاب میں مشاجرات کے بناوٹی قصے اسی پر دال ہیں اور یہ تفصیل اکثری لحاظ سے ہے یا اس وجہ سے کہ سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بیوگی کے بعد سیدنا عون بن جعفرؒ سے پھر سیدنا محمد بن جعفرؒ سے پھر حضرت عبداللہ بن جعفرؒ سے ہوا جب اس نے آپؓ کی بہن حضرت زینب کو جس نے کربلا میں شرکت کی تھی طلاق دے دی تھی۔

(جمہرۃ الانساب لابنِ حزم اندلسی تحت اولادِ علیؓ)

مگر آپ کا یہ سوال بالکل جھوٹا ہے کیونکہ معارف ابنِ قتیبہ میں ہے:

واما ام کلثوم الکبریٰ رضی اللہ عنہا وھی بنت فاطمۃ فکانت عند عمر ابن الخطاب و ولدت لہ ولداً قد ذکرنا ھم۔ 

ترجمہ: رہیں حضرت اُمِّ کلثوم کبریٰؓ (تو سب سے بڑی اولاد ثابت ہوئیں) تو سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ان سے لڑکا پیدا ہوا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ 

(المعارف: صفحہ، 92 تحت بنات علی المرتضیٰ بحوالہ رحماء بینھم: جلد، 2 صفحہ، 226)

سوال نمبر 456: مولوی محمد انشاء اللہ حنفی چشتی سر المختوم فی تحقیق عقد اُمُّ کلثوم میں لکھتے ہیں کہ راوی اوّل زبیر بن بکار کذاب مفتری نے یہ عقد گھڑا ہے؟

جواب: اہلِ سنت کے روپ میں رافضیوں کو ہم نہیں مانتے۔ شیعہ کی 4 کتبِ اصول کی 9 روایتیں ہمارے سامنے ہیں کسی میں امامِ معصوم سے راوی زبیر بن بکار نہیں ہے بلکہ کافی میں چار روایات ہیں

1: ہشام بن سالم ابو عبداللہ سے 

2: حماد از زرارہ ابو عبداللہ سے

3: معاویہ بن عمار ابو عبداللہ سے اور

4: سلیمان بن خالد ابو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں۔ الاستبصار میں بھی سلیمان بن خالد اور معاویہ بن عبد اللہ امام جعفر صادقؒ سے روایت کرتے ہیں۔

سوال نمبر 457: اس افسانے کے راوی زبیر بن بکار کو کتبِ رجال سے معتبر بتائیے؟

جواب: ہماری معتبر اور متداول رجال کی کتاب تقریب التہذیب (خلاصہ تقریب التہذیب) علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ میں ہے کہ ابنِ ماجہ کے راوی:

الزبیر بن بکار بن عبداللہ بن مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن الزبیر الاسدی الکوفی مدینہ کے قاضی اور ثقہ ہیں۔ سلیمانی نے ان کی تصنیف کر کے غلطی کی ہے دسویں طبقے کے چھوٹوں میں سے ہیں۔ 250ھ میں وفات پائی۔

سوال نمبر 458: صحیحین میں سے زبیر بن بکار کی کوئی اور حدیث نکال دیجیے؟

جواب: اس کی حدیث صرف ابنِ ماجہ نے لی ہے۔ بخاری اور مسلم کا معاصر تھا ان کو لینے کی ضرورت نہ پڑی۔

سوال نمبر 459: جب علماء شیعہ زبیر بن بکار کو دشمنِ اہلِ بیت اور مفتری بتاتے ہیں سنیہ میں بھی یہی درجہ ہے تو شیعوں کو اس کی روایت ماننے پر کیوں مجبور کرسکتے ہیں؟

جواب: ہمارے ہاں تو ثقہ ہے۔ کتبِ شیعہ میں تنہا یہ راوی نہیں بکثرت اور ہیں اور وہ ثقہ ہیں۔ عقد کی روایات متعدد طرق سے مستند مشہور بلکہ متواتر فی المعنیٰ ہیں۔ لہٰذا اصولِ حدیث کی رو سے شیعوں کو مجبوراََ اپنی احادیث ماننی ہوں گی ورنہ لٹریچر کے جھوٹے ہونے کا اعلان کریں۔ پھر یہ دعویٰ کہ علماء شیعہ کے ہاں یہ مفتری اور دشمنِ اہلِ بیت ہے بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔ شیعہ رجال میں جامع معتبر کتاب تنقیح المقال للمامقانی جلد 1 صفحہ 437 میں زبیر بن بکار بن عبداللہ کے ترجمہ میں ہے: کہ یہ کثیر العلم غزیر الفہم اور قریش کے اخبار و انساب کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا تھا۔ ایسی روایات بھی اس سے مروی ہیں جو سنی مذہب کو غلط اور شیعہ کو برحق بتاتی ہیں پھر مامقانی کہتا ہے کہ ابنِ ندیم کا بیان اسے امامی اور حسن راویوں میں شمار کرتا ہے۔

سوال نمبر 460: کشف المحجوب میں ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ قرآن اس لیے اونچا پڑھتے تھے کہ شیطان بھاگے جبکہ آپ کے ہاں حدیث ہے کہ شیطان اس راہ پر نہیں آتا جس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہو تو پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسے بھگاتے تھے؟

جواب: حدیث بالکل درست ہے۔ جیسے شیطان خود دیکھ کر حضرت عمر فاروقؓ والا راستہ چھوڑ دیتا تھا اسی طرح آواز سن کر بھی دور بھاگ جاتا تھا تو آواز سے بھگانا۔ دیکھنے سے بھی زیادہ مؤثر تھا۔

صفحہ 2 از 7