بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 7

سوال نمبر 461: سیدنا عمرؓ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے حضرت عمر فاروقؓ تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تمام نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ اوّل میں کہا ہے کہ مجھ پر شیطان مسلط ہے تو پھر کیا وہ افضل نہ ہو گا جس سے شیطان دور رہے؟

جواب: قدرتی ہیبت اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایسی دی تھی کہ شیطان اور اس کے ایجنٹ رافضی مراثی اس سے دور بھاگتے تھے۔ جیسے کہ حدیث کے شانِ نزول سے واضح ہے کہ ڈھول بجانے والی عورت نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی ڈھول چھپا دیا اور دبضک کر بیٹھ گئی مگر اس سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت لازم نہیں آتی کیونکہ چور، ڈاکو تھانیدار ایس پی سے زیادہ بھاگتے ہیں بادشاہ سے اتنا نہیں بھاگتے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کسر نفسی پر دلیل اس جملہ کا یہ ترجمہ بالکل غلط کیا ہے۔ (شیطان مجھ پر مسلط ہے) بلکہ ترجمہ یہ ہے اعتراہ امرٌ (لاحق ہونا) مصباح اللغات صفحہ 548 یعنی شیطان مجھے بھی درپیش ہے اور چھیڑتا ہے لہٰذا میں سیدھا چلوں تو ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلوں تو سیدھی راہ پر لگاؤ۔ معصوم تو صرف پیغمبرِ پاکﷺ‏ تھے جن پر وحی آتی تھی اس خطبہ سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا کمال تقویٰ اور احساسِ زمہ داری نمایاں ہوتا ہے۔ جیسے جنگِ صفین میں سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا: مجھے ٹھیک اور حق بات بتانے سے نہ رکنا کیونکہ میں اپنے نفس میں غلطی کرنے سے بالا نہیں ہوں۔ (کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 357 و نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 436

سوال نمبر 462: حدیثِ بالا سے سیدنا عمرؓ افضل قرار پاتے ہیں کیا آپ ان کو افضل مانتے ہیں؟

جواب: آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ہی افضل مان لیں ہم خاموش ہو جائیں گے مگر اہلِ سنت بالاتفاق سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو افضل الناس بعد الانبیاء علیہم السلام مانتے ہیں۔)

سوال نمبر 463: سیدنا عمرؓ کو اگر افضل نہیں مانتے تو پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اقرار تسلط شیطان کا کیا بنے گا حالانکہ اللہ کے خاص بندوں پر شیطان کا غلبہ نہیں ہوتا؟

جواب: تسلطِ شیطان کا اقرار نہیں ہے۔ کسر نفسی سے شیطان کا مقابلہ پر آنا اور چھیڑنا مراد ہے۔ تفصیلی اور الزامی جواب گزر چکا ہے۔

سوال نمبر 464: رخصتی کے بعد سیدنا عمرؓ سے جو نازیبا اور ناگفتہ بہ سلوک سیدہ اُمِّ کلثومؓ نے کیا۔ کیا وہ صحیح ہے؟

جواب: جب میاں بیوی بن چکے تو اب خانگی معاملات میں ہمیں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم اسے دشمن کی ساخت اور پروپیگنڈہ کہیں گے۔ بالفرض کوئی بات ہو تو معقول وجہ یہ ہے کہ طبعی طور پر ابتداءً دلہنوں کو کراہت اور نفرت ہوتی ہے اس لیے روتی ہیں۔ کچھ عرصہ دل نہیں لگتا۔ یہی تلخ اور ناگفتہ بہ حقائق حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی زبان سے جلاء العیون میں سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمہؓ کی شادی کے قصہ میں دیکھ لیجیے۔

سوال نمبر 465: سیدنا عمرؓ کی وفات سے بی بی (سیدہ) اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو کیا حصہ میراث ملا؟

جواب: دیگر بیواؤں کے ساتھ 1/8 حصہ ملا جبکہ سیدنا عمر فاروقؓ درویش منش تھے مالدار نہ تھے تو تفصیل کیا ملے؟ ہاں اگر بالکل حصہ نہ ملتا تو نفی کا ذکر ضرور ملتا۔ جیسے آپ کا صاحب زادہ سیدنا زید بن عمر اور حضرت اُمِّ کلثومؓ ایک ہی ساعت میں فوت ہوئے اور تقدیم و تاخیر کا فیصلہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے کسی کو بھی ایک دوسرے کا وارث نہ قرار دیا گیا شیعہ کی تہذیب الاحکام آخری جلد کتاب المیراث صفحہ 380 طبع قدیم میں ہے: 

عن جعفر عن ابيه قال ماتت ام كلثوم بنتِ على و ابنها زيد بن عمر بن الخطاب فى ساعة واحدة لا يدرى ايها هلك قبل فلم يورث احدهما من الاخر وصلى عليهما معاً

ترجمہ: کہ دونوں ایک ہی گھڑی میں فوت ہوئے کوئی کسی کا وارث نہ بن سکا اور ماں بیٹے کا جنازہ بھی اکٹھا پڑھا گیا۔

سوال نمبر 466 تا 468: کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ وفاتِ سیدنا عمر فاروقؓ کے وقت مدینہ میں تھے؟ تو جنازہ میں شرکت کا ثبوت دیں؟

جواب: جی ہاں مدینہ میں تھے اور اپنے داماد کا جنازہ پڑھا۔ معتبر ثبوت یہ ہے:

فلما مات عمر و احضرت جنازته تبادرا ايها على و عثمان أيهما يصلى عليه فقال لهما عبدالرحمٰن بن عوف لستما من هذا فی شیء انما هذا الى صهيب الذى امره عمر ان يصلى بالناس فتقدم صھیب فصلی عليه (البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 145 طبع بیروت)

ترجمہ: جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور جنازہ حاضر ہو گیا تو حضرت علیؓ و سیدنا عثمانِ غنیؓ جنازہ پڑھانے کے لیے لپکے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا تم دونوں نہیں پڑھا سکتے یہ صرف حضرت صہیبؓ کا حق ہے جسے خود سیدنا عمرؓ نے (بطورِ وصیت) حکم دیا ہے کہ وہ نماز پڑھائے چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔

سوال نمبر 469: کا بھی جواب ہو گیا کہ داماد کے جنازے سے محروم نہ رہے بلکہ خوب خراجِ عقیدت بھی پیش کیا بخاری جلد 1 صفحہ 520 مسلم کتاب المناقب میں ہے: 

صفحہ 3 از 7