بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 7

سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا لوگ اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ دعائیں دیتے اور صلوٰۃ بھیجتے تھے میں بھی ان میں تھا۔ مجھے ایک شخص نے اچانک ڈرا دیا جب اس نے میرا کندھا پکڑا تو وہ سیدنا علیؓ تھے جو سیدنا عمر فاروقؓ پر دعائے رحمت بھیجتے تھے اور کہتے تھے کہ آپؓ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو آپؓ جیسے اعمال لے کر اپنے اللہ سے ملے اور مجھے سب سے زیادہ پسند ہو۔ (یعنی آپؓ کے بعد کوئی اور آپؓ سے افضل نہیں) اللہ کی قسم میں یقیناً یہ گمان رکھتا تھا کہ اللہ آپؓ کو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ (قبروں میں اور جنت میں) اکٹھا کرے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بہت دفعہ حضور اکرمﷺ سے سن رکھا ہے آپﷺ‏ فرماتے تھے میں چلا اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما چلے۔ میں داخل ہو سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ داخل ہوئے میں نکلا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکلے۔ (یعنی نبی سے غیر مخصوص افعالِ عامہ میں شیخینؓ کی رسول اللہﷺ کے ساتھ کمال شرکت تھی) تو اب برزخ میں بھی شریک رہیں گے۔ گویا سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ہی حضور اقدسﷺ کے ساتھ تدفین کا مشورہ دیا۔

سوال نمبر 470: جب شورٰی منعقد ہوا تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی پیروی کرنے کی شرط نا منظور کر کے حکومت کیوں ٹھکرا دی؟

جواب 1: بالکل جھوٹ ہے سیدنا علیؓ نے شرط منظور نہیں کی بلکہ یہ کہہ کر منظور فرمائی ارجو ان افعل و اعمل بمبلغ علمى و طاقتى کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اپنی طاقت اور علم کی مقدار (سنتِ رسولﷺ اور سنتِ شیخینؓ پر عمل کروں گا۔) (طبری: جلد، 4 صفحہ 233)

2: شیخین رضی اللہ عنہما کی سیرت کا انکار نہ تھا ورنہ آگے پیچھے اتنی تعریفیں کیوں کیں؟ دراصل وہ سنتِ شیخینؓ کو رسولِ خداﷺ‏ کی سنت سے جدا اور مستقل قابلِ ذکر نہ جانتے تھے۔ بلکہ سنتِ رسولﷺ میں مدغم سمجھتے تھے۔ دلیل نہج البلاغہ کا یہ فرمان ہے:

للہ بلاد فلان فقد قوم الا و دوداوى العمد و اقام السنة و خلف الفتنة ذهب نقى الثوب قليل العيب 

فلاں (حضرت عمر بن خطابؓ) کو آفرین ہے اس نے کجی کو درست کیا۔ خرابی کا علاج کیا۔ سنت قائم کی فتنہ دور کیا۔ پاک دامن اور بے عیب رخصت ہوا۔

(نہج البلاغہ مع شرح ابنِ ابی الحدید: جلد، 3 صفحہ، 92)

اور پھر اس کی وضاحت طبری سے بھی ہوتی ہے: 

کہ سیدنا ربیعہ بن شداد نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ کے بعد سنتِ حضرت ابی بکرؓ و حضرت عمرؓ کا بھی ذکر کیا تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: 

لو ان ابابكر و عمر عملا بغير كتاب الله و سنت رسول الله لم يكونا على شیء من الحق فبايعه (طبری: جلد، 5 صفحہ، 76 طبع دارالمعارف مصر)

اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ کے خلاف عمل کیا ہوتا تو وہ کسی بات میں حق پر نہ ہوتے۔ پھر اسے بیعت کر لیا۔

اور اگر تاریخ کی یہ بات تسلیم کی جائے کہ ایک ساتھی نے آپؓ کو ایسا مشورہ دیا تھا وہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے انتخاب کو پسند کرتا تھا اگر یہ مشورہ نہ ہوتا تو آپؓ سیرتِ شیخینؓ کا مستقل ذکر کر دیتے اور خلیفہ سوم بن جاتے کیونکہ آپؓ کے اخص ساتھی بھی آپ سے یہ تعلیم پا چکے تھے چنانچہ سیدنا ابوذر غفاریؓ نے ایک دفعہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خیرخواہی میں کہا کہ آپؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کی پالیسی پر ہی چلیے تاکہ آپؓ پر کوئی اعتراض نہ کرے۔ (مجالس المومنین: جلد، 1 صفحہ، 220)

سوال نمبر 471: حسبنا کتاب اللہ کہہ کر حدیث و سنت کا انکارِ اوّلین کس نے کیا؟

جواب: یہ جمہی قرآن کی تکمیل و فضیلت پر دلیل ہے۔ انکارِ حدیث محض شیعی بہتان ہے۔ کیونکہ آپ قرآن کے بعد حدیث سے تمسک کیا کرتے تھے اور یہ قول نصِ قرآنی پر مبنی ہے: 

اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ‌ (سورۃ العنكبوت: آیت 51)

ترجمہ: کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔

سوال نمبر 472: تاریخِ فقہ اسلامی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔ 

احادیث کی روایت کر کے تلاوتِ قرآن میں رکاوٹ پیدا نہ کرنا۔ صرف قرآن پر بس کرو۔ پرویز بھی اتباعِ حضرت عمر فاروقؓ کرتا ہے وہ قصور وار کیوں؟

جواب: لوگوں میں قرآن شریف کی تدریس و تعلیم عام کرنے کے لیے اور تلاوتِ قرآن کو رواج دینے کے لیے ایسا فرمایا اور اس وقت اس کی ضرورت تھی ورنہ حدیثیں قرآن میں ایسے گڈمڈ اور مخلوط ہو جاتی ہیں جیسے انجیلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر حواریوں کا کلام بھرا پڑا ہے ہاں احادیث سے فقہاء علماء اور خود آپؓ اور آپ کی شورٰی کے اصحاب استدلال کرتے اور قانون سازی کر رہے تھے۔

گویا عوام کو روایت حدیث سے روکنا ایک خاص مصلحت تھی۔ جیسے موجودہ دور میں کئی خبروں کو سنسر کر دیا جاتا ہے پھر بعد میں کبھی اشاعت کر دی جاتی ہے۔

پرویز کا استدلال غلط ہے وہ تو انکارِ سنت میں شیعوں کا مقلد ہے کیونکہ جیسے شیعہ قرآن اور امامت کو ثقلین مانتے ہیں اہلِ سنت نبی ہونے کے بجائے امامیہ اور ملتِ جعفریہ کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ اسی طرح پرویز بھی دو ثقلین مانتا ہے۔ قرآن اور مرکز ملت اور یہ بات اس کی کتابوں میں عام ملتی ہے۔ حوالہ کی حاجت نہیں۔

سوال نمبر 473: کا جواب بھی ہو گیا کہ روایتِ حدیث کی اس وقت ممانعت قرآن کی حفاظت اور اسے احادیثِ رسولﷺ سے خالص اور پاک رکھنے کے لیے تھی تاکہ ہر حرف اور ہر جملہ کے متعلق یقین ہو کہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ رسول اللہﷺ کا کلام نہیں۔

سوال نمبر 474: اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خدشہ تھا کہ لوگ حضرت محمدﷺ‏ کی طرف غلط احادیث منسوب نہ کر دیں لہٰذا ممانعت کر دی تو سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل کیسے ہوئے؟

صفحہ 4 از 7