بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 7

جواب: یہ خدشہ ایک عقلی تقاضا ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کے خلاف نہیں کیونکہ حافظہ کی کمی یا سہو و وہم سے روایت میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عمداً حضور اکرمﷺ‏ کی طرف غلط نسبت کرنے سے اور کلامِ رسولﷺ‏ میں تحریف و بددیانتی کرنے سے پاک تھے۔ پھر اس معاشرہ میں نصف بھر تابعین بھی پیدا ہو چکے تھے تو اہتمامِ قران اور تصحیح احادیث کا تقاضا یہی تھا کہ عوام الناس پر کچھ نہ کچھ پابندی لگائی جائے۔ جیسے اسی لیے حضور اکرمﷺ‏ نے خود فرمایا تھا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ بنا لے۔ 

جیسے شیعوں نے احادیثِ رسول اللہﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تو قبول نہ کیا ڈیڑھ صدی کے بعد ایک تابعی بزرگ کی طرف روایات کا انبار منسوب کر کے اسے ہی شریعت بنا ڈالا اور بالا حدیث کا مصداق بن گئے۔

سوال نمبر 475: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کتابی شکل میں رائج تھا؟

جواب: کتابی شکل میں مرتب اور محفوظ بیت المال میں تھا۔ لوگوں کے گھروں میں نہ تھا حافظِ قرآن بکثرت تھے۔ زبانی تعلیم و تعلم اور تبلیغ و نقل ہوتی تھی اسی لیے روایتِ احادیث پر شرائط عائد کی گئیں تاکہ قرآن سے مخلوط نہ ہوں۔

سوال نمبر 476: رائج ہو گیا تھا تو پھر رد و بدل کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مخالفت کیوں کی؟

جواب: تفصیلی ابحاث گزر چکی ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی رد و بدل نہ کیا بلکہ اسی کی مزید نقلیں اور کتابتیں کروا کر مملکتِ اسلامیہ کے تمام صوبوں میں پھیلا دیں اور اشاعتِ قرآن کا زبردست کارنامہ سرانجام دیا۔

سوال نمبر 477: اگر کتابی شکل میں رائج نہ تھی تو پھر وہ نامکمل کتاب کافی کیسے ہوئی؟

جواب: ذہن و حافظہ میں مکمل و مرتب کتاب کی طرح تھا۔ باقاعدہ تعلیم و تعلم کے ذریعے سب لوگوں کے لیے کافی تھا۔

سوال نمبر 478: اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اقوالِ رسولﷺ‏ کو ضروری اور جزوِ دین سمجتے تھے تو انہوں نے مخلص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت مقرر کر کے احادیثِ رسولﷺ‏ کی جامع کتاب کیوں مدون نہ کی؟

جواب: یہ سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بجائے خود صاحبِ احادیث رسول پاکﷺ‏ سے کرنا چاہیے کہ اپنی احادیث کو کیوں کتابی شکل میں مدون نہ فرمایا؟

مگر اصل وجہ اور جواب یہ ہے کہ ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہوا کرتا ہے۔ کتابی شکل میں تدوینِ شریعت امت کی ذمہ داری تھی۔ سب سے پہلا نمبر قرآن کریم کا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کمیٹی مقرر کر کے قرآن کی تدوین کر دی مگر افسوس کہ منکر شیعوں نے اسے بھی قبول نہ کیا۔ بالفرض حضرت عمر فاروقؓ قبل از وقت حدیث کی تدوین کر بھی دیتے تو کیا ضمانت تھی کہ شیعہ قبول کرتے وہ بدستور کتبِ حدیث پر اعتراض کرتے جیسے قرآن پر کرتے ہیں۔ پھر خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ المتوفی 101ھ نے یہ کام کر بھی دیا اور احادیث جمع کر کے چھوٹی بڑی کتب لکھی گئیں جو پھر جامع شکل میں مدون اور منفتح ہو کر صحاحِ ستّہ، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ میں منظم اور مکتوب ہو گئیں لیکن شیعوں نے ان کتب اور احادیثِ رسولﷺ‏ کو ہرگز تسلیم نہ کیا۔ بدستور سب امت کو منافق و کافر کہہ کر ڈیڑھ اینٹ کا امام باڑہ الگ بناتے چلے آ رہے ہیں۔

سوال نمبر 479: الفاروق میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا مکالمہ درج ہے کہ اہلِ بیتؓ مغصوب و محسود ہیں۔ وجہ تحریر کریں؟

جواب: یہ جھوٹا قصہ ہے۔ سند و عقل کی رو سے تردید تحفۃ الاخیار سوال نمبر 8 میں دیکھیں۔

سوال نمبر 480: اہلِ سنّت معتزلی علامہ ابنِ ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور اکرمﷺ‏ نے مرضِ موت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے نام کی تصریح کر دینی چاہی۔ مگر میں نے اس سے آپﷺ‏ کو روک دیا۔ یہ روکنے کا مشورہ و مکالمہ کسی معتبر کتاب سے نقل کر دیں۔

جواب: ابنِ ابی الحدید سنی نہیں بلکہ معتزلی ہیں یعنی عقائد و اصول میں شیعہ ہیں فروع میں نہیں۔ چنانچہ وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منصوص خلافت کے قائل ہیں۔

1: جیسے کتابِ ہٰذا جلد 3 صفحہ 115 سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبانی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی تعریف سے بھی خلافت کے منصوص ہونے کا نتیجہ نکالا ہے۔ اس لیے ان کی عبارت سے ہم پر الزام درست نہیں۔

2: بخاری میں اس کے خلاف فرمانِ رسولﷺ‏ ہے:  والمؤمنون الا ابا بكر۔

3: على سبيل التنزل والتسیلم وجہ یہ بتاتی ہے کہ قریش کا آپ پر اجتماع کبھی نہ ہو گا۔ اگر حاکم بن جائیں تو عرب چاروں طرف سے آپ کے برخلاف ہو جائیں گے۔ پس رسول اللہﷺ کو پتہ چل گیا کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے میرے ارادے کو بھانپ لیا ہے چنانچہ آپﷺ‏ رک گئے اور اللہ نے بھی اپنی تقدیر نافذ کرنے کے سوا کچھ نہ مانا۔

یہ واقعہ و مکالمہ حضرت عمر فاروقؓ کی سیاسی بصیرت اور فراست کا ہے۔ علامہ نے بھی اسی ضمن میں نقل کیا ہے۔ شیعہ کا ضمیر اور حضرت امیر کے اپنے عہدِ خلافت کے واقعات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیوں؟

اگر یہ مشورہ اتنا ہی نا جائز تھا تو حضور اکرمﷺ‏ کو تسلیم نہ کرنا چاہیے تھا۔

سوال نمبر 481: تاریخِ بغداد میں لکھا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ! جناب رسولِ خداﷺ‏ کا یہی ارادہ تھا کہ خلافت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ملے لیکن جناب رسولِ خداﷺ‏ کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے جب خدا نے نہ چاہا کہ خلافت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ملے۔ آخر خدا کو حضرت علی المرتضیٰؓ میں کیا نقص نظر آ گیا تھا؟ وہ کون سی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ‏ کو اس خواہش سے باز رکھا ہو؟

صفحہ 5 از 7