بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 7

جواب: ہم یہ بتلا چکے ہیں کہ معتزلی کی یہ روایات ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں۔ پھر یہ بخاری، مسلم اور عام کتبِ تاریخ کے خلاف ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ میں کچھ نقص نہ تھا۔ مگر خلافت خدا نے اپنے وقت پر ان کو عطا کی پہلے راگ الاپنے والے خدا پر بھی الزام و اتہام لگاتے ہیں آنحضورﷺ‏ مختارِ کل نہ تھے۔ 

اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ اسی پر دلیل ہے۔ نیز سورت تحریم کی آیت وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ (اور جب نبی کریمﷺ‏ نے ایک خفیہ بات اپنی ایک بیوی کو بتائی) میں جب حضور اکرمﷺ‏ نے منجانب اللہ حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کے خلیفہ ہونے کی بشارت سنا دی۔ (تفسیر قمی، سورت تحریم: جلد، 2) تو خدا و رسولﷺ‏ کی مشیئت میں اتفاق ہو گیا۔ شیعہ کی سوالی تقریر غلط ہے۔ وہ بھی خدا اور رسولﷺ‏ کے ساتھ اتفاق کریں۔ مطابقی جواب یہ ہے کہ شیعہ کی تفسیر الفرات صفحہ 20 پر لکھا ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ بنانا۔ مگر اللہ نے انکار کیا۔ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں بنے گا۔

سوال نمبر 482: کیا آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو عاشقِ رسولﷺ‏ مانتے ہیں؟

جواب: جی ہاں! وہ آپﷺ‏ کے محب اور متبع صادق تھے۔

سوال نمبر 483: کوئی ایسا عاشق ہے جس نے خواہشِ معشوق کا احترام نہ کیا ہو؟

جواب: نام نہاد شیعہ عاشقانِ اہلِ بیتؓ واقعی ایسے ہیں۔

سوال نمبر 484: اگر نہیں تو پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ معیارِ عشق پر کیسے اترے؟

جواب: حسبِ تصریح سابق وہ روایت ہی مسلّم نہیں جو مدار طعن ہے

سوال نمبر 485:  کیا جو شخص حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ظلم کرے وہ ظالم ہو گا؟

جواب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ظلم کا تصور ہی غلط ہے کیونکہ آپؓ طاقت ور اور غالب تھے ظلم کمزور اور مغلوب پر ہوتا ہے۔ البتہ جو شخص حضرت علی المرتضیٰؓ کا حُبّ دار کہلا کر بات بات پر نافرمانی کرے۔ وہی ظالم اور بناوٹی شیعہ ہو گا۔43

سوال نمبر 486: رسولِ مقبولﷺ‏ کو اسلام زیادہ عزیز تھا یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو؟

جواب: دونوں کو عزیز تھا۔ کیونکہ سیدنا عمر فاروقؓ کے لیے آپﷺ‏ نے دعا مانگی: اے اللہ! حضرت عمرؓ کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ (احتجاج طبرسی)

سوال نمبر 487: کنز العمال میں ہے: سیکون بعدى فتنة فاذا كان ذلك فالزموا على بن ابی طالب فانه الفاروق بین الحق والباطل۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حوالے کیوں نہ کیا؟

جواب: 1: روایت بے سند اور جعلی ہے۔

2: بفرضِ تسلیم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے متعلق ہے۔ اس وقت سیدنا عمر فاروقؓ نہ تھے۔

3: ایک شخص کے حق میں تعریفی کلمہ دوسرے سے اس صفت کی نفی نہیں کرتا۔ جبکہ حضرت عمر فاروقؓ کو حضور اکرمﷺ‏ نے فاروق کا لقب دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ نے حق حضرت عمرؓ کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔ (مشکوٰۃ)

سوال نمبر 488: سیکون بعدى فتنة فاذا كان ذلك فالزموا على بن ابی طالب فانه الفاروق بین الحق والباطل  پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لقب سے کیوں سرفراز فرمایا؟

جواب: اپنے دور میں ان کے خلیفہ برحق ہونے کی نشاندہی کی۔

سوال نمبر 489: سيكون مستقبل قریب کے لیے ہے۔ قریبی دورِ فتن کون سا تھا؟

جواب: ایسے الفاظ میں زمانے کے چھوٹے بڑے ہونے کا بڑا ابہام ہوتا ہے تو دورِ علوی کی خانہ جنگیاں اور خارجیوں سے لڑائی بھی دورِ قریبی کا مصداق ہے۔

سوال نمبر 490: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو شورٰی کمیٹی بنائی اس میں اختلاف کی صورت میں قتل کرنے کی شرط کیوں عائد کی؟

جواب: تاکہ مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد برقرار رہے۔ ملّی فوائد پر شخصی فائدہ کو قربان کیا جا سکتا ہے اور مسلم میں حدیثِ نبوی ہے کہ تم جب کسی پر متفق ہو جاؤ اور کوئی شخص آ کر اس اتفاق کو توڑنا اور نئی بیعت لینا چاہے تو اُسے قتل کر دو خواہ کوئی ہو تو یہ ایک ضابطہ اور دستور ہے۔ خاص شخص سے دشمنی نہیں۔ ہر حکومت میں ایسے ضابطے ہوتے ہیں۔

سوال نمبر 491: امورِ شریعت میں قیاس کرنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولیات میں سے ہے۔ (الفاروق) لیکن اول من قاس ابلیس بھی علماء کا قول ہے۔ حضور اکرمﷺ‏ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قیاس کیوں نہ مانا؟

جواب: اس کی تشریح و تفصیل تحفہ امامیہ میں گزر چکی ہے۔ قیاس ایک شرعی اصطلاح ہے کہ جو مسائل نئے درپیش ہوں قرآن و سنت اور اجماع مسلمین میں اس کا تذکرہ نہ ملے تو اسی جیسی صورت و شکل والا مسئلہ قرآن و سنت اور امت کے فیصلوں میں سے تلاش کیا جائے جب مل جائے تو خاص شرائط سے اسے بنیاد اور مقیس علیہ بنایا جائے اور نئے مسئلے کا جائز نا جائز ہونا ظاہر کیا جائے اسے ہی اجتہاد کہتے ہیں۔ سنی و شیعہ تمام علماء اس قیاس و اجتہاد کے قائل ہیں خود حضور اکرمﷺ‏ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اَجْتَهِدُ بِرَأْی میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ سن کر دعا دی تھی۔ (مشکوٰۃ)

تو قیاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایجاد نہیں۔ ہاں بطورِ اصول و قانون نفاذ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کارنامہ ہے کیونکہ اس وقت اسلامی فتوحات اور ترقیات سے لا تعداد نئے مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ تو ان کا حل اسی طرح ممکن تھا۔ ابلیسی قیاس حکمِ خدا کے مخالف تھا۔ جیسے شیعہ اپنا مذہب بنائے پھرتے ہیں اور رسالت کے بجائے امامت ایجاد کر کے قرآن کو گم شدہ اور سنتِ نبی کو منسوخ مانتے ہیں تو اہلِ سنّت کے قیاسِ شرعی اور شیعہ کے قیاسِ ابلیسی میں بڑا عظیم فرق ہے۔

سوال نمبر 492: رسولِ خداﷺ‏ زیادہ عاقل تھے یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ؟

جواب: رسولِ خداﷺ‏ سب سے پہلے اور زیادہ عالم و عاقل تھے۔ آپﷺ‏ ہی نے تو سیدنا عمر فاروقؓ کو علم اور عقل کی تعلیم دی تھی۔

سوال نمبر 493: اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ زیادہ تھے تو ان کو ہی نبی کیوں نہیں مان لیتے؟

صفحہ 6 از 7