بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا - ردِ رافضیت | دفاع…

بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 7

جواب: حضرت عمرؓ بڑے عقل مند اور صاحبِ علم تھے مگر حضور اکرمﷺ‏ سے زیادہ نہ تھے۔ نبوت حضور اکرمﷺ‏ پر ختم ہے تو نبی ماننے کا تصور نہیں ہو سکتا۔ ہاں اہلیت و لیاقت ضرور تھی۔ فرمانِ نبویﷺ‏ ہے: "لو كان بعدى نبی لكان عمر اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔ (ترمذی)

سوال نمبر 494: اگر حضور اکرمﷺ‏ زیادہ عاقل و عالم تھے تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپﷺ‏ کی شریعیت میں کیوں رد و بدل کیا؟ الفاروق میں اولیات کا مطالعہ کر کے مفصل جواب دیجیے۔

جواب: الفاروق صفحہ 612، 613 سامنے کھلی ہے۔ اسلامی نظام کی عملی تدوین اور امتِ مسلمہ کی تعمیر و ترقی کے لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو نئی اصلاحات اور اصلاحی سکیمیں رائج فرمائیں ان کو مؤرخین اولیات کہتے ہیں۔ 45 عدد یہاں لکھی ہیں۔ ان میں سے قیاس، عدل، الصّلوٰة خير من النوم، نمازِ تراویح، معاً تین طلاقوں کا بائن و نافذ ہونا، نمازِ جنازہ پر چار تکبیروں کا اجماع آپ زیادہ موضوع سخن بناتے ہیں۔ ان سب کی حقیقت ہم تحفہ امامیہ اور ہم سنی کیوں ہیں؟ میں مفصل ذکر کر چکے ہیں۔

ان چھ باتوں کے علاوہ باقی سب چیزیں مملکت کے بہترین نظام سے متعلق ہیں جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ‏ کی تعلیم و تربیت کے فیضان سے اور کمال عقل و دانش سے ایجاد کی ہیں۔ شیعہ اسے شریعت میں رد و بدل بتائیں تو ان کی سوچ ہے کیونکہ ان کو تو صرف متعہ خانہ اور امام باڑہ کی ترقی کا ہی فکر ہے دینِ اسلام اور امتِ محمدیہ کی مصالح سے ان کو کیا واسطہ؟ مگر تمام دنیائے انسانیت پر سیدنا عمر فاروقؓ کا یہ احسان ہے کہ آپؓ نے بنی نوعِ انسان کو نظامِ سیاست، اصولِ عدالت اور امن و امان کے زریں قواعد سکھائے اور مسلم، غیر مسلم ہر حکومت اور معاشرہ کے لیے وہی سنگِ بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ چینی، فرانسیسی، انگریز، امریکن، مسلمان سبھی حضرت عمر فاروقؓ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی ایجادات سے دنیا و دین آباد کیے ہوئے ہیں۔ عقل و دانش سے محروم صرف شیعہ کا ایک فرقہ ایسا ہے جو حضرت عمرؓ سے بازی ہار کر آپؓ کی کردار کشی پر تُلا ہوا ہے۔ ورنہ ہم ہر عقل مند سے پوچھتے ہیں: کہ کیا بیت المال و خزانہ کا قیام، عدلیہ کا اجراء، قانون کا تقرر، تاریخ و سن کا نفاذ، امیر المؤمنین کا لقب، فوجی دفتر، والینٹروں کی تنخواہیں، دفتر مال، پیمائشں، مردم شماری، نہریں کھدوانا، شہر آباد کرنا، ملک کو صوبوں میں تقسیم کرنا، اموالِ تجارت پر چونگی لگانا، جیل خانے بنانا، پولیس قائم کرنا، چھاؤنیاں بنانا، پرچہ نویس رکھنا، مسافروں کے آرام کے لیے سڑکیں، مکانات، سرائیں بنانا، بچوں کے وظیفے لگانا، مکاتب و مدارس قائم کرنا، معلموں اور مدرسوں کے مشاہرے مقرر کرنا، قرآن کی ایک جلد میں کتابت کرانا، شراب کی حد اَسّی دُرے لگانا، تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ لگانا، وقف و ٹرسٹ کا محکمہ بنانا، مساجد میں وعظ کروانا اور روشنی کا انتظام کرانا، بکواسی شاعروں کو سزا دینا، غزلیہ اشعار میں عورتوں کے نام پر پابندی لگانا وغیرہا اصلاحات اور ایجادات سے جو الفاروق کے چار صفحات پر مذکور ہیں۔ شریعیت میں رد و بدل ہوا۔ یا شیعوں نے ان باتوں کو غلط کہہ کر اپنے دین، مذہب اور عقل و فراست کا خاتمہ کر دیا۔ شیعو! تم سے خدا سمجھے۔

کوڑھ مغزی کی یہ انتہا ہے کہ غیر مسلموں کی کچھ ایجادات پر تو ہم فخر کریں اور ان کا نام تاریخ میں روشن رہے مگر مسلمانوں کے محسنِ سوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے نظامِ امن و عمل کو عملاً نصف دنیا پر رائج کر دکھائیں اور اس سورج کی کرنیں تمام دنیا پر جگمگائیں۔ تو ایک چمگادڑ صفت مسلم نما گروہ ان کا احسان شناس ہونے کے بجائے عمر بھر ان پر کیچڑ اچھالتا رہے۔

چشم حسود پر کنده باد

عیب نماید ہنرش در نظر

راست خواہی ہزار چشم چنان

4 کور بہتر کہ آفتاب سیاه


صفحہ 7 از 7