سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر خاندانی تربیت کا اثر
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نبوی خاندان میں پروان چڑھے، اپنے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، والد علی رضی اللہ عنہ، والدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے زیر نگرانی پلے بڑھے، اپنے نانا اور والدین سے اسلامی تعلیمات کو سیکھا، اس تربیت نے ان کی ایسی مضبوط شخصیت کی تعمیر میں اپنا اہم کردار ادا کیا جس نے اسلام کے احکام اور تعلیمات کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، لوگ چاندی اور سونے کے معدن جیسے ہیں ان میں جو جاہلیت میں اچھے رہے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں۔
(صحیح البخاری: رقم: 3383)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا معدن تو بے نظیر ہے، سیدنا حسنؓ جاہلیت کے بجائے خاندانِ نبوت میں پروان چڑھے، اس لیے آپ کلمہ ’’سید‘‘ (سردار) کے پورے پورے مستحق ٹھہرے، سیدنا حسنؓ کو خاندان کی اصلیت اور خاندانی تربیت کا جو حصہ ملا وہ دوسرے کو نہیں مل سکا، چنانچہ سیدنا حسنؓ کے نانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، سیدنا حسنؓ کے والد علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں، سیدنا حسنؓ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ کی نانی خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی تربیت کی ذمہ داری سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبھائی، سیدنا علیؓ نے ان کی براہ راست دیکھ ریکھ کی، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں ایک مربی باپ کے تمام اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا علیؓ نے اس آیت کا مفہوم خوب اچھی طرح سمجھا تھا۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۞ (سورۃ التحريم آیت 6)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اس پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔