مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 9

سوال نمبر 495: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بعثت کے کون سے سن میں مسلمان ہوئے؟

جواب: پہلے ہی سال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترغیب پر مسلمان ہوئے۔ (تاریخِ اسلام ندوی)

سوال نمبر 496: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پہلے اسلام لائے یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہلے مسلمان ہوئے؟

جواب: پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔

سوال نمبر 497: دونوں میں قبولِ اسلام کا درمیانی وقفہ کتنی مدت تھا؟

جواب: تقریباً 5 سال۔

سوال نمبر 498: دونوں میں سے کس کا درجہ اسلام اولیٰ تھا؟

جواب: قبولیتِ اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا درجہ اولیٰ تھا۔ مگر خصوصیات اور کمالات ہر کسی کے جدا جدا ہوتے ہیں۔ زندگی کے تمام اعمال کی گنتی اور ترتیب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باجماعِ امت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت حاصل ہے۔

سوال نمبر 499: باعثِ امتیاز درجات اور کیا وجوہ ہیں؟

جواب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مرادِ رسولﷺ‏ تھے مسلمان ہوتے ہی تمام مسلمانوں کو تقویت نصیب ہوئی اور وہ خانہ کعبہ میں علانیہ نماز پڑھنے لگے۔ فراست و شجاعت میں یکتا تھے۔ خلافت کے کارنامے اور اس میں امن و امان کی فراوانی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

سوال نمبر 500: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قبل از اسلام کون سے کسبِ معاش سے وابستہ تھے؟ 

جواب: تجارت۔ تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 196 پر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔ اسلام کے قبل سے ان کا یہ مشغلہ تھا اور اسلام کے بعد بھی قائم رہا۔

سوال نمبر 501: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اسلام سے پہلے کیا کاروبار تھا؟ جائیداد اور معاشی دولت کا گوشوارہ مرتب فرما دیجیے؟

جواب: کاروبار تجارت تھا نوعمر تھے۔ اس وقت آپؓ کے خاص دولت مندی کا تذکرہ نہیں ملتا۔ ہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ مشرکین کے ظلم و ستم کا شکار ہو گئے اپنے چچا حکم بن ابی العاص نے رسی میں باندھا صفوں میں لپیٹ کر دھواں دیا۔ نیا دین چھوڑنے پر مجبور کیا مگر آپؓ نے فرمایا خدا کی قسم یہ دین کبھی نہ چھوڑوں گا۔ بالآخر حبشہ کو ہجرت کی پھر مدینہ کو کی۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 38)

سوال نمبر 502: قبولِ اسلام کے وقت کتنی دولت بارگاہِ نبویﷺ‏ میں نذر کی؟

جواب: آپ اس وقت بھی ہر جمعہ غلام آزاد کرتے تھے۔ جب سے میں مسلمان ہوا ایک جمعہ بھی نہ گزرا کہ غلام آزاد نہ کیا ہو بجز اس کے میرے پاس کبھی مال نہ ہو تو بعد میں آزاد کر لیا۔ (تاریخ الخلفآء: صفحہ، 125) اس وقت اسلام کو افراد کی ضرورت تھی۔ مالی چندے کی نہ تھی حضرت ابوبکر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اپنے اثر و رسوخ سے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچ رہے تھے اور غریب غلاموں کو کافروں سے خرید کر آزاد کر دیتے تھے چنانچہ حضرت بلال، سیدنا ابوفیکہ، سیدنا عامر بن فہیرا، زہرا، نہدیہ، نہدیہؓ کی بیٹی لبینہ مؤملیہ ام عبیس رضی اللہ عنہم ان سب کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہی خرید کر آزاد کیا۔ (اصابہ: جلد، 4 صفحہ، 475) اگر شیعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس مالی ایثار کو خراجِ عقیدت نہیں پیش کر سکتے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قدر کیا کریں گے۔ جو ایسے سوال کرتے ہیں۔

سوال نمبر 503: حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی دولت اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی دولت کا تقابلی گوشوارا مرتب فرمائیے؟

جواب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں جناب ابو طالب یا کسی ہاشمی کا ذکر کرتے تو بات مناسب تھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شیعہ رافضوں کا کیا تعلق وہ تو آپؓ کو اہلِ بیتِ رسولﷺ‏ ہی نہیں مانتے بسترِ پیغمبرﷺ‏ پر پیدا ہونے والی آپؓ کی تین بیٹیوں کو پیغمبرﷺ‏ سے نفی نسب کو گالی دے کر حضرت خدیجہؓ پر ناپاک حملہ کرتے ہیں۔ ان کے کسی کمال اور بزرگی پر کوئی تقریب و مجلس نہیں مناتے۔ صرف والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور خوشدامن سیدنا مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہونے کے لحاظ سے وہ بدگوئی نہیں کر سکتے جو دیگر ازواجِ مطہراتؓ کی کرتے رہتے ہیں۔ سیدہ خدیجہؓ مالدار تھی۔ نکاح کے بعد اس سے حضور اکرمﷺ‏ نے فائدہ اٹھایا وہ وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰى (سورۃ الضحى: آیت 8) خدا نے تجھے تنگ دست پایا تو غنی کر دیا خدا نے سچ کر دیا اور بچوں کی تربیت خوشی حالی سے کی ابو طالب کا مالی لحاظ سے احسان مند نہ ہونے دیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قدر دان ہم اہلِ سنت ہی ہیں آپﷺ‏ کے خانگی ضروریات پر مالِ سیدہ خدیجہؓ صرف ہو یا حضرت عثمانؓ کا ہو بہر صورت ہم دونوں بزرگوں کے عقیدت کیش ہیں۔ اور شیعوں کو ان سے کچھ تعلق نہیں۔

سوال نمبر 504: انتقال کے وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مالی پوزیشن کیا تھی؟

جواب: اس وقت کافی کمزور ہو چکی تھی۔ کیونکہ دعویٰ نبوت کے بعد حضور اکرمﷺ‏ کی سرگرمیاں تبلیغ کے لیے وقف ہو گئیں۔ کفار کی دشمنی اور مخالفت نے معمر اور خانہ نشین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اتنا موقع فراہم نہ کیا کہ وہ اپنے وکلاء اور مضاربوں کے ذریعے تجارتی سلسلہ کو بحال رکھتیں۔

سوال نمبر 505: بی بی صاحبہ (سیدہ خدیجہؓ) کی کتنی رقم حضور اکرمﷺ‏ نے اسلامی مدّات میں خرچ فرمائی؟

جواب: نکاح کے بعد اب بی بی صاحبہ (حضرت خدیجہؓ) کی الگ دولت نہ رہی گھر کا مشترکہ سرمایہ تھا جو اولاد کی تربیت اور خانگی اخراجات میں صرف ہوا۔ 

مکی زندگی میں ایسے اسلامی ضروریات اور مدات پیدا نہ ہوئی تھی جو مدینے میں جا کر پیدا ہوئیں کیونکہ ابھی تک جہاد و صدقاتِ واجبہ اور مسلم معاشرہ کی وسعت سامنے نہ آئی تھی جن پر خرچ کیا جاتا۔

سوال نمبر 506: کیا کسی روایت میں حضور اکرمﷺ‏ نے یہ اقرار کیا ہے کہ ان کے ذمہ بی بی معظمہ (سیدہ خدیجہؓ) کا اتنا قرض ہے؟

جواب: نہیں۔

سوال نمبر 507، 508: وہ قرض کتنا تھا اور ادائیگی کس طرح فرمائی؟

جواب: نہ قرض تھا، نہ ادائیگی کا سوال تھا۔

سوال نمبر 509: ہجرتِ رسول اللہﷺ کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے یا نہ؟

جواب: مکہ میں نہ تھے۔ حبشہ میں دوسری مرتبہ اپنی بیوی سیدہ رقیہؓ بنتِ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کر گئے تھے۔ تمام سنی شیعہ سیرت نگاروں کا اس پر اتفاق ہے۔

سوال نمبر 510: اگر مکہ میں تھے تو مالی حالت کیسی تھی؟

جواب: مکہ میں تھے ہی نہیں۔

صفحہ 1 از 9