مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 9

سوال نمبر 523: کیا صلح نامہ میں یہ شرط تھی کہ اگر کوئی کفار کا آدمی مدینے آئے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان مکہ میں پکڑا جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا؟

جواب: یہ شرط نمبر 4 تھی جو بالا مذکورہ ہے۔ مگر اپنے اسلاف مشرکین جن کی نمائندگی آپ اب کر رہے ہیں سے سیکھی ہوئی آپ کی بدعہدی اور خیانت کو آفرین ہے کہ شرط نقل کرنے میں کتنی غداری کی۔ خط کشیدہ جملہ کس عربی فارسی لفظ کا ترجمہ ہے۔ صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے یہ جھوٹا جملہ آپ نے تراشا ہے ورنہ اس شرط کا تقاضا و مفاد یہ ہے کہ کفار کا آدمی (مسلمان ہو کر) مدینہ آ جائے تو مسلمان واپس کر دیں گے جیسے سہیل کے لڑکے سیدنا ابو جندلؓ مظلوم مسلمان کو کفار کتابتِ معاہدہ سے قبل ہی شرط کی بناء پر واپس چھڑا لے گئے۔ 

اور اگر کوئی مسلمان (معاذ اللہ مرتد ہو کر) مکہ چلا جائے تو کافر اسے واپس نہ کریں گے۔ 

یہ دو طرفہ شرط مسلمانوں کے خلاف اور اشتعال انگیز تھی تبھی تو حضور اکرمﷺ‏ اور خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بے چین مسلمانوں کو وجہ حکمت یہ سمجھائی کہ جو مرتد ہو گیا ہمیں اسے کیا غرض وہ کافروں کے ہاں ہی رہے اور جو مسلمان ہو جائے وہ کافروں میں رہ کر بھی اپنی تبلیغ کرتا رہے گا۔ 

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ مرتد ہوئے تھے نہ وہاں رہائش کرنے گئے تھے بلکہ حضور اکرمﷺ‏ کے خاص سفیر اور نمائندے بن کر گئے تھے۔ سائل شیعہ کی خیانت نے یہ دوہرا ظلم کیا کہ اس شرطِ ارتداد و لحاق کا مصداق معاذ اللہ حضرت عثمانؓ کو بنا ڈالا۔ حالانکہ دنیا کے کسی بھی دستور میں سفیر کے ساتھ بدسلوکی و زیادتی ناقابلِ معافی جرم ہے۔

سوال نمبر 524: اگر شرط مسلمہ تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی گرفتاری پر رسولﷺ‏ معاہدے سے کیسے پھر سکتے تھے؟

جواب: آپ کو جہالت بھی مبارک ہو۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر جب بھیجا وہ عمرہ کی اجازت لینے گئے تھے ابھی تک کوئی شرائط اور معاہدہ طے نہ ہوا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے قتل کی خبر سن کر حضور اکرمﷺ‏ کا اور مسلمانوں کا مشتعل ہونا کسی معاہدہ سے انحراف نہ تھا۔ کتبِ تاریخ غور سے دیکھیں۔

سوال نمبر 525: کفارِ مکہ نے کون سی خلاف ورزی کی تھی؟

جواب: حرم کعبہ جو ہر شخص کی پناہ گاہ ہے وہاں مسلمانوں کو عمرہ کی اجازت نہ دی الٹا ان کے سفیر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو زد و کوب کیا اور دو تین مرتبہ مسلمانوں پر شبخون مارا۔ (کتبِ تاریخ)

سوال نمبر 526: کیا خدا بھی وعدہ و عہدہ کا پاس نہ کرتا؟

جواب: وعدہ کا پاس کیا تبھی تو غداروں کے خلاف بیعتِ رضوان منعقد کرائی۔ جس سے شیعہ ناراض ہیں

سوال نمبر 527: اگر کرتا تو بیعتِ شجرہ کو ایک غیر آئینی اور خلافِ عہد وجہ کی بناء پر منعقد کرنے کا حکم کیوں دیتا، کیونکہ بیعتِ رضوان بقولِ شما حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تھی؟

جواب: رافضی کی دراز زبان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ و حضور اکرمﷺ‏ سے بڑھ کر رحمان تک جا پہنچی 

فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ‌ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَث ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا‌ (سورۃ الأعراف: آیت 176)

ترجمہ: اس کی مثال کتے جیسی ہے تو اس پر حملہ کرے تو بھی بھونکے، نہ کرے تو بھی بھونکے، یہی بھونک ان لوگوں کی بھی ہے جو ہماری آیات کے منکر ہیں۔

واقعی خدا نے بیعتِ رضوان حضرت عثمانؓ کی بزرگی ظاہر کرنے کے لیے کرائی اور سورت فتح میں اس کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور بیعت کرنے والوں کو اپنی رضا اور جنت کی بشارت سنائی ہے۔ یہ ایک آئینی اور بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی ہو جانے پر منعقد کرائی۔ 1500 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو اس بیعت سے جنت کے وارث بن گئے۔ مگر اب 15 سو سال بعد مشتاق جیسے مسلمانوں کے دشمن اور کفار کے ایجنٹ خود خدا پر بھی سیخ پا ہو رہے ہیں۔ کفار کی نمک حلالی کا واقعی حق ادا کر دیا ہے۔

سوال نمبر 528: قتلِ سیدنا عثمانؓ افواہ جھوٹی تھی۔ خدا کو اس کا علم تھا تو پھر ایک جھوٹی افواہ کے باعث اتنا اہتمام کیوں کیا گیا؟

جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حضرت عثمانؓ سے محبت اور جذبہ فدائیت و جان نثاری کا امتحان لینا تھا۔ خدا سے پوچھیے کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح نہ کرانا تھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ ڈرامہ کیوں کرایا اور قرآن میں ذکر کا اہتمام کر کے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کا درجہ کیوں بڑھایا؟

سوال نمبر 529: جب معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں تو پھر یہ اقدام کیوں نہ روک دیا؟

جواب: بالا کافی ہے۔ نیز شیعہ علماء نے شہادتِ حضرت حسینؓ کے واقعے میں لکھا ہے کہ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے تو خدا نے فرشتوں کی جماعت نصرت کے لیے بھیجی، کیوں؟

سوال نمبر 530: اگر بیعتِ رضوان کا باعث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا واقعہ مانا جائے تو خدا کے علم کی نفی، رسولﷺ کی امانت و صداقت کا انکار اور وحی مصنوعہ جیسے رکیک امور جنم لیتے ہیں کیا یہ صداقتِ دین پر کاری ضرب نہیں ہے؟

جواب: اگر قرآنی واقعہ شانِ نزول کا آپ انکار کر دیں تو کوئی اور واقعہ تراش کر خدا کے علم رسولﷺ‏ کی امانت و صداقت کو بچا لیں اور خیالی دین سچا کر دکھائیں۔ مسلمانوں کے ہاں تو خدا، قرآن، رسول اللہﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبہ شہادت بیعتِ رضوان اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خبر شہادت پر یہ اشتعالِ اہلِ ایمان سب برحق امور ہیں۔

نوٹ:  531 سے 547 تک سوالات غزوۂ حنین سے متعلق ہیں۔ ان کے جوابات ہم سنی کیوں ہیں؟ میں ہم دے چکے ہیں۔ یہاں مختصراً اشارات کافی ہوں گے۔

سوال نمبر 531، 532: جن لوگوں نے بیعتِ رضوان توڑی کیا وہ فضیلت کے مستحق ہیں؟

جواب: بیعتِ رضوان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی خاطر تھی۔ مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قتل کر دیئے گئے آنحضرتﷺ‏ کو سخت صدمہ ہوا آپﷺ نے قصاص کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جانبازی کی بیعت لی۔ (بخاری کتاب الشروط، تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 479) 

صفحہ 3 از 9