مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 9

تو عہدِ نبوت میں نہ سیدنا عثمانؓ شہید ہوئے نہ عہد شکنی کا موقع آیا۔ البتہ جب بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا اور کچھ لوگوں نے قصاص لینے میں عمداً رکاوٹ ڈالی طالبینِ قصاص کو اپنا دشمن جان کر جنگ کی۔ وہ عہد شکنی کا مصداق ہیں مگر بحمد اللہ بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قصاص میں کوتاہی اور عہد شکنی سے پاک ہیں۔

سوال نمبر 533: قرآن سے جنگِ حنین سے متعلق آیات کا صرف ترجمہ لکھیے؟

جواب: بے شک اللہ تعالیٰ نے بہت سی جنگوں میں تمہاری مدد کی اور حنین کے دن بھی کی جب تم کو اپنی کثرت پر ناز آ گیا تھا تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آیا اور باوجود کشادگی کے زمین تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ دے کر ہٹ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی اپنے رسولﷺ‏ پر اور مؤمنین پر اتاری اور وہ لشکر اتارا جو تم نے نہ دیکھا اور کافروں کو خوب سزا دی۔ کافروں کا بدلہ یہی ہے پھر اللہ تعالیٰ رحمت متوجہ کرتا ہے جس پر چاہے اور اللہ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں۔ (سورۃ التوبة: رکوع، 4 پارہ، 10)

نوٹ: آیات کا ترجمہ بلا تفسیر حاضر ہے شیعہ کا طعن ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ شکست پائی کا سبب کثرت پر ناز کرنا بتایا ہے۔ بزدلی یا نفاق نہیں اور یہ اتفاقی سبب اور درسِ حکمت تھا جو نکث بیعت کا مستحق نہ ہو گا کیونکہ وقتی پسپائی کے بعد مسلمانوں نے تائیدِ ایزدی سے ایسے ڈٹ کر حملہ کیا کہ سب سے عظیم فتح اور مالِ غنیمت کی کثرت یہاں حاصل ہوئی۔ 

پھر ثابت قدم نہ رہنے والوں پر اپنی توجہ توبہ کا ذکر خیر فرمایا اور معافی کا پروانہ دے دیا۔ خدا کا یہ انعام و فضل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن سبائیوں کو جلانے کے لیے کافی ہے ان کو چاہیے کہ کالا لباس پہن کر ماتم کریں اور حسد و کینہ کی آگ میں جل مریں۔ ذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ۔

سوال نمبر 534، 535: حنین میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شجاعت کی کوئی مثال صحیح حدیث سے نقل کریں آپؓ کے ہاتھ سے صرف ایک مقتول کا نام لکھیں؟

جواب: مسلمانوں کا لشکر بارہ ہزار تھا۔ فتح مکہ کے دو ہزار نو مسلموں کے اولاً قدم ڈگمگائے اور وہ بھاگے تو دوسروں کو بھی سراسیمہ و متزلزل کر دیا۔ مگر آنحضورﷺ‏ کی ہمت اور انا النبی لا كذب انا ابن عبدالمطلب۔ ترجمہ: میں نبی ہوں جھوٹ نہیں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ کے رجز نے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز نے سب کو پھر اکٹھا کر دیا اور وہ ایسے جم کر لڑے کہ ہزاروں کفار کو قتل کر کے چھ ہزار قیدی بنا لیے۔ چوالیس ہزار اونٹ، چوالیس ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آئی۔ (تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ، 188) 

اب ہر مجاہد کی تفصیلی شجاعت اور کاروائی سامنے نہیں آ سکتی تاکہ کسی خاص صحابی پر طعن کسا جائے۔ آخر شیعہ جن چار اصحاب حضرت سلیمان، حضرت ابوذر، حضرت عمار، و حضرت مقداد رضی اللہ عنہم کو مانتے ہیں۔ ان کی بھی ایسی مثال اور مقتلوں کے نام دکھا سکتے ہیں؟

اگر وہاں جرأت نہیں تو کیا سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ دامادِ پیغمبرﷺ‏ ان سے کم رتبہ ہیں کہ ان کی یا وہ گوئی کر رہے ہیں۔

سوال نمبر 536: اگر کہا جائے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مدینہ میں نہ تھے تو ثبوت درکار ہے؟

جواب: دشمنِ اصحابِؓ رسولﷺ‏ رافضی کو یہ علم نہیں کہ حنین کی جنگ مدینہ کے پاس نہ تھی بلکہ مکہ کے مشرق میں طائف کی طرف قبائل ہوازن اور ثقیف جو بڑے جنگ جو تیر انداز تھے کے درمیان ہوئی تھی۔ مسلمان ابھی وادی کے بیچ در بیچ راستوں سے صبح کاذب کی تاریکی میں نیچے اتر رہے تھے کہ مورچہ بند تیار کفار نے یک دم تیروں کی بارش کر دی اور ابتداءً مسلمان سنبھل نہ سکے۔ ہوا جو کچھ ہوا۔ جب ڈٹ کر مسلمانوں نے حملہ کیا تو جنگ کا نقشہ بدل گیا اور عظیم فتح حاصل ہوئی۔ صد افسوس ہے کہ دشمنِ اسلام رافضی پورا واقعہ سامنے نہیں لاتا صرف وقتی بھگدڑ پر مطاعن کے قلعے تعمیر کرتا ہے۔

سوال نمبر 537: جن لوگوں نے بیعتِ شجرہ کے بعد عہد شکنی کی ان کی مذمت کرنا آپ صحیح جانتے ہیں یا نہیں؟

جواب: جب ہم عہد شکنی تسلیم ہی نہیں کرتے تو مذمت کیسے کریں؟

سوال نمبر 538: اگر نہیں سمجھتے تو قرآن میں یہ مذمت کیوں آئی؟

جواب: قرآن پر یہ ناپاک بہتان ہے کوئی مذمت نہیں آئی ہے صرف ایک جملہ میں صورت واقعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو اپنی نصرت، سکینت اور غفران و رحمت سے نوازا گیا ہے اور کافروں کے عذاب و جزا پانے کی مذمت مذکور ہے۔ (پارہ: 10 رکوع، 10)

سوال نمبر 539: اگر مذمت صحیح سمجھتے ہیں تو شیعوں کے خیال کو ناگوار کیوں خیال کرتے ہیں؟

جواب: جب قرآن میں مذمت ہے ہی نہیں۔ شیعوں نے اصحابِ رسولﷺ کے بغض میں مشہور کر رکھی ہے پھر اگر وہ اسے مطابقِ واقعہ جانتے ہیں تو غیبت اور حرام ہے وہ درندے بن کر اپنے بزرگ بھائیوں کا گوشت نوچ رہے ہیں اور اگر مذمت کی وجہ ہی نہیں ہے۔ پھر ڈھٹائی سے تقریریں کرتے، رسائل چھاپتے، مناظروں کے چیلنج دیتے اور اصحابِ رسولﷺ پر بہتان تراشتے ہیں تو یہ بہتان بازی بڑا جرم ہے ہم ان کے الزام کو ناگوار ہی نہیں بلکہ خود ان کو اسلام و ایمان سے محروم جانتے ہیں۔

سوال نمبر 540، 541: کیا کسی کتاب میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگِ حنین میں بھاگے ہوں؟ حوالہ و عبارت لکھیں۔

جواب: اگر کہیں ہو بھی تو ہم اس کی تلاش میں ایمان ضائع نہ کریں گے۔ نہ ایسی روایت سے فرار کا نتیجہ نکالیں گے جہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہ ملے کیونکہ حضرت علیؓ سمیت تمام مسلمان مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی ہم عزت کرتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ کے فرار کی صراحت کہیں نہیں ہے۔

سوال نمبر 542: اگر نہیں ہو سکتی تو مکمل اتفاق ہوا کہ حضرت امیرؓ نے عہد نہیں توڑا۔ اب بتائیں کہ ایک شخص کے عہد نہ توڑنے کا 100 فیصد یقین ہو۔ دوسروں کے متعلق متضاد گواہیاں ہوں تو یقینی بری الذمہ کون ہو گا؟

صفحہ 4 از 9