مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 9

جواب: ہمارے ہاں کسی نے عہد نہ توڑا۔ شیعوں کے ہاں کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور خارجیوں کے ہاں مختلف واقعات کی بناء پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے توڑا۔ مگر یہ دونوں مذہب غلط اور صحابہؓ دشمنی کا آئینہ ہیں اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس اتہام سے بری الذمہ ہیں ہم اس میں بحث و کرید مہلک ایمان مانتے ہیں۔

سوال نمبر 543 تا 545: جن کتب میں حنین میں اصحابِ کرامؓ کے فرار کا تذکرہ ہے کیا وہ اہلِ سنت کی نہیں ہیں اگر شیعوں کی ہیں تو آپ کے ہاں کیوں رائج ہیں جبکہ شیعہ سے روایت لینا آپ جائز نہیں سمجھتے مگر شمر کی روایت نقل کر لیتے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تبرّا پر شیعہ مجرم کیوں؟

جواب: ان کتب کے نام اور پھر اہلِ سنت کے ہاں معتبر نہ ہونا بباطن رافضیوں کی تصانیف ہونا۔ ہم، ہم سنی کیوں ہیں؟ میں وضاحت کر چکے ہیں۔ مراجعت کریں۔ 

علانیہ شیعوں سے روایت تو ہم نہیں لیتے مگر قرونِ اولیٰ میں شیعہ موجودہ دَور کی طرح مسلمانوں سے الگ تھلگ اپنا مذہب اور قومی وجود نہ رکھتے تھے۔ تقیہ کرنے میں بہت ہوشیار تھے۔ ہمارے بہت سے علماء نے ان کی ظاہری عدالت و شکل پر اعتبار کر لیا اور روایتیں لے لیں۔ وقت گزرنے پر پتہ چلا کہ وہ اپنا زہر اور بغضِ اصحاب کا گندا مواد ہماری کتب میں چھوڑ گئے ہیں تو اب ہم کتاب اللہ، حدیثِ نبویﷺ‏، اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اصولِ شریعہ پر ایسی روایات کو پرکھتے ہیں اور روایتی جرح کر کے شیعوں کی موضوع و دخیل روایات کو پٹخ دیتے ہیں یہاں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر طوالت کے خوف سے صرف کلیہ کا ذکر کافی ہے۔ شمر کی روایات بھی نہیں لیتے۔ تقریب التہذیب میں جس شمر کا ذکر ہے وہ اور شخص ہے چھٹے طبقے کا

صدوق ہے وفات دوسری صدی کے نصف آخر میں ہوئی۔ بھلا وہ شمر کیسے ہو سکتا ہے جو 37 ھ میں حضرت علیؓ کا خاص شیعہ تھا۔ پھر حضرت حسینؓ کا قاتل بنا۔ ان شیعوں سےخدا بیزار ہے۔

سوال نمبر 546: اگر آپ کے خیال میں چند افراد نے ایسا نہ کیا تھا تو جنگِ حنین کے متعلق ان کے کارنامے تلاش کر کے شیعوں کا منہ بند کیوں نہیں کر دیتے؟

جواب: کتبِ تاریخ میں ہے: مسلمان وادی کی شاخ در شاخ اور پیچیدہ گزر گاہوں میں ہو کر نشیب کی طرف اترنے لگے تھے۔ اور صبح کاذب کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی کہ اچانک دشمنوں کی فوجوں نے کمین گاہوں سے نکل نکل کر تیر اندازی اور شدید حملے شروع کر دیئے۔ اس اچانک آ پڑنے والی مصیبت اور بالکل غیر متوقع حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سراسیمہ ہو گئے اور اہلِ مکہ کے دو ہزار آدمی سب سے پہلے حواس باختہ ہو کر بھاگے ان کو دیکھ کر اور مسلمان بھی جدھر جس کو موقع ملا منتشر ہونے لگے۔ آنحضرتﷺ‏ وادی کے داہنی جانب تھے آپﷺ‏ کے ہمراہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عباسؓ، حضرت فضل بن حیانؓ، حضرت ابو سفیانؓ الحارث اور ایک مختصر سی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رہ گئی۔ (تاریخِ اسلام از نجیب آبادی: جلد، 10 صفحہ، 187 سیرت ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 85) 

اس بھگدڑ کو حضور اکرمﷺ‏ نے بھی معاف کر دیا۔

سیرت ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 88 میں ہے کہ حضرت اُمِّ سلیمؓ نے حضور اکرمﷺ‏ سے کہا: آپﷺ ان لوگوں کو قتل کریں جو آپﷺ سے بھاگے۔ جیسے جنگ کرنے والوں کو آپﷺ قتل کرتے ہیں۔ تو رسول اللہﷺ‏ نے کہا: اے اُمِّ سلیمؓ کیا اللہ کافی نہیں ہے؟ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفایت کی ہے اور اچھا کیا ہے۔ 

یہاں سیرت کے حاشیہ پر ہے کہ حضور اقدسﷺ نے حضرت اُمِّ سلیم رضی اللہ عنہا کو تردیدی جواب سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ حنین کے دن مسلمانوں کا فرار کبیرہ گناہوں سے نہ تھا۔ علماء نے صرف بدر کے دن فرار کو کبائر میں گِنا ہے کہ اللہ نے فرمایا: اور اس دن جو پیٹھ پھیرے گا۔ (یہ بطورِ شرط و کلیہ کے ہے ورنہ تمام سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ جنگِ بدر میں ایک مسلمان بھی نہیں بھاگا۔) الخ۔ احد میں فرار کرنے والوں کو معاف کر دیا وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌ اور حنین والوں کے متعلق بھی معافی اتری۔ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ‌ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡئًـا وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّـيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ‌ ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا‌ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ثُمَّ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ ‌وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ (سورۃ التوبة: آیت 25، 27)

شیخین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ثابت قدمی واضح اور بزرگی کی دلیل ہے لیکن کیا یہ حضرت علیؓ کی تعلیم ہے کہ باقی سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کیچڑ اچھالتے رہو۔ محل و موقعہ کی نزاکت، بے بسی اور خدا و رسولﷺ کے معافی اور ان کے دیگر کارناموں کو بالکل نظر انداز کر دو اور کافروں سے بھی بڑھ کر کمینہ پن کا ثبوت دو پھر یہ جنگ جو عظیم الشان فتح سے آبدار ہوئی کیا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے تیروں تلواروں اور نیزوں کی رہینِ منت نہ تھی؟ کیا کسی رافضی نے بھی یہاں تیر چلایا تھا یہ آپ کے 3 یاروں نے بھی کوئی کمال دکھایا تو سامنے لایئے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقتولوں کی فہرست بنائیے۔ سیرت ابنِ ہشام سے تو ایک مقتول نہیں ملتا۔ ایک کے اونٹ کی ٹانگیں سیدنا علیؓ نے کاٹیں وہ گرا تو انصاری ساتھی نے اسے قتل کیا۔ (ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 88) اس کے سوا باقی ہزاروں کفار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تلواروں سے ہی جہنم رسید نہیں ہوئے؟ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے 20 کو قتل کیا اور ہتھیار لیے۔ (ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 91) سیدنا ابو عامرؓ نے 9 مشرکوں کو قتل کیا۔ (ایضاً: جلد، 4 صفحہ، 99) کیا حقائق کو جھٹلانا اور خیرِ امّت کی کردار کشی کر کے رسولِ خداﷺ‏ کا بھی دل دکھانا کسی مسلمان کی شان ہے۔

صفحہ 5 از 9