مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 9

سوال نمبر 547: اگر آپ ایسے شواہد پیش کرتے ہیں مگر شیعہ ہٹ دھرمی سے آپ کی بات کا اعتبار نہیں کرتے تو ایسی مثال دیں جسے شیعوں نے نامعقول جرح کر کے جھٹلایا ہو؟

جواب: عہدِ نبویﷺ کے 37 غزوات و سرایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بہادری اور عظیم فتوحات سے لبریز ہیں کسی میں شکست یا پسپائی نہ ہوئی صرف دو جنگوں میں وقتی پسپائی ہوئی اور اس کا سبب بھی قرآن نے خود یہ بتایا کہ احد میں امیر کی حکم عدولی تھی اور حنین میں اپنی کثرت پر ناز تھا بطورِ درسِ حکمت اللہ نے قدم ڈگمگا کر یہ مسئلہ بتایا کہ فتح و شکست میرے قبضے میں ہے۔ کثرت اور جنگی مہارات سے صرف وابستہ نہیں ہے پھر احد و حنین میں بھی دل شکنی کے باوجود دوبارہ جرأت مندانہ حملے، ثابت قدمی، میدان جیت لینا متعلقہ مباحث میں کتبِ تاریخ سے ہم نقل کرتے آ رہے ہیں لیکن وہ کون سی مثال ہے جسے شیعہ نے انصاف سے مان لیا اور نہ معقول جرح نہ کی اور حقیقت کو نہ جھٹلایا۔ دراصل شیعوں نے قرآن کو، مشنِ نبوت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان و کردار کو جھٹلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی وہ تاریخی صحیح واقعات کو کہاں مانتے ہیں؟ ان کا مقصد صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مافوق البشر (خدا) اور نبی سے افضل باور کرانا ہے۔ باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکذیب اور کردار کشی کرنا ہے۔ شیعہ مقرروں کا ایک ایک جملہ، مصنفوں کا ایک ایک پیرا گراف مشتاق دنیا کا ایک ایک سوال یہی بتاتا ہے کہ نامعقول ہفوات سے شیعوں نے ہر حقیقت کو جھٹلایا ہے۔ ان 17 سوالوں میں بھی یہی تکذیب ہے اس لیے ہم دیانۃً یہ لکھنے کو مجبور ہیں کہ شیعوں کا اس اسلام سے رائی برابر بھی تعلق نہیں جو رسولِ خداﷺ‏ نے 23 سال میں اپنی امت کو پڑھایا سکھایا اور ان کو نمونہ ہدایت بنا کر اپنی یادگار چھوڑا۔ وہ قرآن، سنتِ رسولﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قطعی منکر و مکذب ہیں ذرا بھی خوفِ خدا، رسول اللہﷺ سے رشتے کا پاس اور اسلام سے محبت ہوتی تو یہ ژاژہ خائی کبھی نہ کرتے جو کوئی ہندو، سیکھ، عیسائی، یہودی مؤرخ بھی نہیں کر سکتا۔

اللهم اخذل الشيعة واهلكهم و دمر ديارهم وشتت شملهم كما اهلكت عاداً وثمودا واهلكت الايرانيين المتشيعين من ايدى العراق- اللهم خذهم اخذ عزيز مقتدر-

سوال نمبر 548، 549: کیا آپ کے عقیدے میں فرشتے بے حیاء ہو سکتے ہیں؟ اگر ہو سکتے ہیں تو ایسے تین فرشتوں کا تعارف کرائیے؟

جواب: وہ شیعہ نہیں کہ بے حیاء بن کر مسلمانوں کی پردہ دری کریں بلکہ مسلمان اور باحیاء ہیں۔ کسی کے عیب تلاش نہیں کرتے۔ تین کے عیب تلاش کرنے والا گروہ ایمان، اسلام، صداقت دنوں سے محروم ہے۔

سوال نمبر 550: اگر فرشتے معصوم اور حیا دار ہیں تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کون سی خصوصی حیاء کرتے ہیں؟

جواب: حیا اس فطری وصفِ خیر کا نام ہے جو کسی میں کچھ کمی کوتاہی یا مکروہ حالت دیکھ کر اسے چھپانے اور رسوا نہ کرنے پر صاحبِ حیا کو امادہ کرتا ہے مثلاً احیاناً کسی کا ستر دیکھ لیا یا بدن کا عیب نظر آ گیا یا توقع کے خلاف ناپسند بات دیکھ لی تو اگر دیکھنے والے نے شرم سے خاموشی اختیار کر لی تو کہا جائے گا اس نے شرم و حیاء سے کام لیا۔ مگر جس نے اسے مشہور کیا تو کہا جائے گا اس نے بےحیائی سے کام لیا۔ حیاء کا ایک مفہوم کسی کا عملی احترام ہے اور یہ جذبہ شرم و حیاء شخصیات کے اعتبار سے کم و بیش ہوتا رہتا ہے اور محاورہ میں کسی شخص سے شرم و حیاء کرنا اس کی خاص بزرگی اور احترام کا اقرار ہوتا ہے۔ مثلاً ہم بے تکلف بول چال کر رہے ہوں اچانک استاد یا والدین یا کوئی خاص بزرگ سامنے آ جائے تو ہم شرم و حیاء سے بالکل چپ سادھ لیں گے دبک بیٹھیں گے۔ فرشتوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حیاء کرنا اسی دوسرے مفہوم کے اعتبار سے ہے کہ وہ ان کو دیکھ کر ہی سر تا پا احترام بن جاتے ہیں جیسے حضور اکرمﷺ‏ نے پنڈلی پر کپڑا برابر کر کے حضرت عثمانؓ کے اس احترام و حیاء کا اظہار کیا تھا۔ اس لحاظ سے فرشتوں کو دوسروں کے حق میں بے حیاء نہ کہا جائے گا بلکہ سیدنا عثمانؓ کی کمالِ بزرگی کی دلیل و فضیلت سمجھا جائے گا یعنی فرشتے جتنا احترام اور پاس و لحاظ حضرت عثمانِ غنیؓ کا کرتے ہیں، اوروں کا نہیں کرتے تعجب ہے کہ متعرض تو نرے بے حیاء ہی نکلے کہ وہ مفہوم اوّل کے اعتبار سے بھی سیدنا عثمان غنیؓ کی اپنے خیال میں کمی اور کوتاہی کو چھپاتے نہیں بلکہ وقاحت و بے حیائی سے دنیائے عالم میں رسوا کرتے رہتے ہیں۔ واقعی فرشتے باحیاء ہیں۔ شیعہ محروم از حیاء ہیں۔

سوال نمبر 551: اگر حضرت عثمان ذوالنورینؓ تھے تو پھر ابولہب کو دو نوروں کا باپ کیوں نہ مان لیا جائے کہ وہ ان کا والد نسبتی تھا؟

جواب: بے حیائی اور گستاخی کی حد کر دی دو نوروں کا باپ حضور اکرمﷺ‏ کا وصف اور خاصہ تھا اس نے ابولہب کٹر کافر کو یہ وصف الاٹ کر دیا۔ جب ابولہب نے دشمنی رسول میں آپﷺ‏ کی بیٹیاں لینے ہی سے انکار کر دیا تو وہ ان کا خسر اور نسبتی باپ کیسے بنا؟

سوال نمبر 552: اس فضیلت میں ابولہب کو خاص مقامِ فضیلت حاصل ہو جاتا ہے؟

جواب: ہرگز نہیں۔ اس کی بدبختی اجاگر ہوتی ہے کہ اس نے نبوتﷺ‏ کے ان معصوم نوروں کو گھر نہ آنے دیا۔ ابولہب کی فضیلت شیعہ کے ہاں ہو گی جو کفر و شرک میں شیعہ کا ہاشمی پیشوا تھا اور بناتِ رسولﷺ‏ کا دشمن اور منکرِ فضیلت تھا۔

سوال نمبر 553: رسولِ مقبولﷺ‏ کی صحیح مرفوع حدیث پیش کریں کہ آنحضرتﷺ‏ نے اپنی ان ربیبہ بیٹیوں کو نور فرمایا؟

جواب: ہمیں کیا ضرورت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضور اکرمﷺ‏ کی نور چشم تب تسلیم کریں کہ ایسا فرمانِ رسولﷺ‏ ملے ورنہ نہیں۔ رشتہ اولاد ظاہر ہونے کے لیے کسی بھی محاورہ اور لفظ کا استعمال کافی ہوتا ہے۔ خواہ وہ باپ کرے یا کوئی اور نورِ چشم، نورِ عین بیٹی کے لیے عربی، اردو، فارسی میں کثیر الاستعمال لفظ ہے۔ اسی محاورہ سے ان دو صاجزادیوں کو آپ کے دو نور کہا جاتا ہے۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ذوالنورین سے ملقب ہیں۔ اور حدیث صحیح مرفوع بھی موجود ہے۔ 

صفحہ 6 از 9